مولانا جمیل احمد نذیری ہی ہونگے جامع مسجد نوادہ اعظم گڑھ کے تاعمر متولی: سپریم کورٹ

43

ذاکر حسین کی رپورٹ

آعظم گڑھ،24نومبر (نامہ نگار)1982میں نوادہ گاوں امیلو اعظم گڑھ کے سات لوگوں نے جامع مسجدکی تعمیر کے لئے ایک پلاٹ خریدا پھر ساتوں لوگ جوکہ پہلے متولی تھے اور پھر ۱۹۸۵ میں انہوں نے جمیل احمد نذیری کو تاعمر متولی منتخب نامزد کیا۔ مولانا نذیری نے وقف بورڈ میں مسجد کا رجسٹریشن کرواکر مسجد کی تعمیر کروائی۔ ۱۹۹۵ سے ۲۰۱۵ تک جمیل احمد نذیری بطور متولی اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۲۰۱۵ میں ایک سازش کے تحت مولانا کو ذبردستی برطرف کرکے کچھ مقامی افراد نے مسجد پر قبضہ کرلیا اور وقف بورڈ نے پانچ افراد کی منتظمہ کمیٹی بنادی۔

۲۰۱۹ میں الہ اباد ہائی کورٹ نے وقف بورڈ و وقف ٹریبونل کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے دوبارہ تمام ثبوت و شواہد کے مدنظر ازسر نو غور کرنے کا حکم دیا جس کے بعد وقف بورڈ نے معاملہ کی دوبارہ سنوائی کرتے ہوئے ۱۵ نومبر ۲۰۱۹ کو تمام ثبوت و شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا جمیل احمد نذیری کو تاعمر متولی نامزدکردیا۔ جس کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک انور سادات نے مقدمات کئے تاہم سپریم کورٹ نے آج ایڈووکیٹ فرخ رشید کی بحث سننے کے بعد وقف بورڈ و ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے مولانا جمیل احمد نذیری کے حق میں فیصلہ سنایا جس کے بعد نہ صرف نوادہ امیلو بلکہ اعظم گڑھ و اطراف کے اضلاع سے ایڈووکیٹ فرخ رشید و مولانا جمیل احمد نذیری و ابو بکر سباق کو مبارک باد پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔