ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتمولانا آزاد تفقہ واجتہاد،تعمق وتدبر اورسیاست و بصیرت میںقوم وملت کے محسن...

مولانا آزاد تفقہ واجتہاد،تعمق وتدبر اورسیاست و بصیرت میںقوم وملت کے محسن اعظم تھے؍مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی

(پریس ریلیز)
مولانا آزاد اکادمی ،نئی دہلی کے زیر اہتمام آئی سی سی آر آزاد بھون میں منعقدہ ایک روزہ قومی سمینار میں مقتدر علمی وسماجی شخصیات کا اظہار خیال
نئی دہلی :۱۲؍نومبر ۲۰۲۱
امام الہندمولانا ابوالکلام آزادعبقری شخصیت کے مالک تھے۔ان جیسی ہمالیائی شخصیات صدیوں میں پیداہوتی ہیں۔انہوں نے انتہائی نازک گھڑی میںقرآنی تعلیمات ، سیرت نبوی اور امامان دین کی عزیمت ودعوت کی روشنی میں قوم وملت اور انسانیت کی مخلصانہ رہنمائی کی۔وہ متحدہ قومیت اور ہندومسلم اتحاد کے علمبردار ، آزادی وطن کے قافلہ سالاراور ملک وانسانیت بڑے معمارتھے اور تفقہ واجتہاد،تعمق وتدبر اورسیاست و بصیرت میںقوم وملت کے محسن اعظم تھے۔آج بھی مولانا کی معنویت مسلم ہے اور تادیر ان کی اجتہادی بصیرت اور عملی اسوہ سے روشنی حاصل کی جاتی رہے گی۔ان خیالات کااظہار مولانااصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا ۔موصوف کل مولانا آزاد اکیڈمی، نئی دہلی کے زیر اہتمام آئی سی سی آر ،آزاد بھون میں’’مولانا ابو الکلام آزاد : ایک مجتہد عصر‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ نیشنل سمینار میں افتتاحی خطاب کررہے تھے۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر کرن سنگھ سابق مرکزی وزیر حکومت ہند وسابق صدر آئی سی سی آر نے کہا کہ مولانا ابو الکلام آزادنایاب شخصیت کے مالک تھے،جیل میں بند رہتے ہوئے انھوں گراں قدر علمی خدمات انجام دیں، آزادی کی تحریک سے لے کر آزادی کے بعد ۱۹۸۸تک وہ سرگرم رہے، انھوں نے تین اکادمیوں ساہتیہ اکادمی،للت کلااکادمی اورآئی سی سی آر کی بنیاد ڈالی ، آئی سی سی آر آزاد بھون انھی سے منسوب ہے۔وہ نہ صرف ملک کے پہلے وزیر تعلیم رہے ،بلکہ اولین آئی آئی ٹی بھی انھی کی رہین منت ہے۔
انھوں نے مزید کہاکہ مولانا آزاد سے میری بہت بے تکلفی تھی، وہ مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے،جب بھی کشمیر جاتے تو مجھے ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا شرف حاصل ہوتاتھا۔ ان کا طرز گفتگو بھی نہایت پرکشش ہوتا، کسی کوبھی وہ آزردہ نہیں کرتے۔ملک کی آزادی کے لیے دی گئی ان کی قربانی ناقابل فراموش ہے۔مولانا آزاد نے ملک کی تعلیمی ترقی کے لیے جو لائحۂ عمل تیار کیا آج وہی مضبوط بنیاد ہے، وہ ارسطووافلاطون جیسا ذہن رکھتے تھے۔
پدم شری پروفیسراختر الواسع نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج مولانا آزاد کا یوم پیدائش ہی نہیں ،بلکہ ہمارا یوم احتساب بھی ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد سے اب تک کیاکھویا اور کیا پایا، مولانا آزاد کی نگاہیں مستقبل کی تعمیر وترقی پر مرکوز تھیںانھوں نے کم عمری میں ہی تمام متداول کتابیں پڑھ لی تھیں،خاندانی وجاہت کو مستعار نہیں لیا، بلکہ وہ جو کچھ بھی بنے اس میں ان کی جدو جہد کو دخل تھا۔مولانا آزاد کو جو فہم وادراک ملا وہ عطائے خداوندی تھا۔
سمینار کے روح رواں اور مولانا آزاد اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مولانا آزاد مفکر ومدبر ،مفسر قرآن اور صحافی تو تھے ہی انھوں نے جو اجتہادی کارنامے انجام دیے ، اس کو نہ صرف باقی رکھنے بلکہ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مولانا آزادکی اجتہادی بصیرت سے متعلق متعدد مثالیں بھی پیش کیں۔
مولاناآزاد اکیڈمی کے قائم مقام صدر وسابق ایم پی محمد ادیب نے اپنے صدارتی خطاب میں مولاناآزاد کی قومی وملی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے کہاکہ مولانا آزاد ایک نابغہ شخصیت کے مالک تھے، انھوں ملک کی تعمیر وترقی کا جو خاکہ قوم کو دیا آج اسی پر عمل پیرا ہوکر اپنے گم گشتہ میراث کو پاسکتے ہیں، آج مولانا آزاد جیسی آفتاب وماہتاب جیسی شخصیات بے شک نہیں رہیں،لیکن جو ستارے ہیں ان کی مدھم روشنی کو یکجا کرکے ہم اپنی منزل کی جستجو میں نکلیں تو آج بھی آگے بڑھنے سے ہمیں کوئی قوت روک نہیں سکتی ، حالات بے شک پرخطر ہیں ،لیکن مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، عزم وحوصلہ سے آگے بڑھ کر رکاوٹوں کو دور کریں۔
سابق چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ اقبال انصاری، پروفیسر خالد محمود سابق صدر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی مولانا آزاد کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔سمینار کی پہلی نشست میں پروفیسر نعیم الحسن اثری، صدر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، پروفیسر ابوبکر عباد، استاذ شعبۂ ارد ودہلی یونیورسٹی ، معروف صحافی سہیل انجم اور ڈاکٹر جسیم الدین نے مقالات پڑھے۔کلمات تشکر مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے پیش کیے۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمدشیث محمد ادریس تیمی نے تمام شرکاء کا استقبال کیا اور مولانا آزاد کی عصری معنویت کے حوالے سے مختصر روشنی ڈالی اور کہا کہ مولانا آزاد کی روشن دماغی ، دینی بصیرت،معاملہ فہمی، ایثار و قربانی کے عوام و خواص سب معترف تھے۔
سمینار کی دوسری نشست زیر صدارت خواجہ محمدشاہد سابق چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی حیدرآباد اورزیر نظامت پروفیسر اخلاق احمد آہن جے این یو منعقد ہوئی۔
تلاوت قاری محمد عرفان صاحب نے کی۔معروف دانشور ڈاکٹر سید عرفان حبیب انڈیا انٹرنیشنل سینٹر ،نئی دہلی نے کلیدی خطاب کیا اور کہا کہ مولانا آزاد نے مذہب سے ماورا نیشنلزم کی بات کی جس میں انسانیت کا پہلو نمایاں تھا۔انہوں نے پوری قوت سے دوقومی نظریہ کی مخالفت کی۔مہاتما گاندھی کی نگاہ میں ان کی خصوصی قدرومنزلت تھی۔
سابق ڈائریکٹر جنرل آر این آئی ایس ایم خان نے کہا کہ آزادی وطن کی جدو جہد میں مولانا آزاد کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ان کی دور بیں نگاہ نے پچاس سال بعد رونما ہونے والے حالات کا ادراک کرلیا تھا۔کاش کہ قوم وملت نے ان کا اشارہ بر وقت سمجھ لیا ہوتا۔
پروفیسر منندرناتھ ٹھاکر سینٹر آف پولیٹیکل اسٹڈیز جے این یو نے کہا مولانا آزاد ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے فلسفی تھے۔انہوں نے مذہب کا استعمال انسانیت کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے کیا۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے خواجہ محمد شاہد سابق چانسلرمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے کہا آج وسیع پیمانے پر مولانا آزاد کی شخصیت، معارف،کارنامے اور احسانات کے تذکار کی ضرورت ہے۔مولانا آزاد نے وحدت ادیان کا تصور پیش کرکے قومی و انسانی وحدت کو فروغ دیا۔
اس نشست میں مولانا آزاد اکادمی کے قائم مقام صدر سابق ایم پی محمد ادیب اور جنرل سکریٹری مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے بھی اظہار خیال کیا، مقالہ نگاران نے مولانا آزاد ، مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، رابندراناتھ ٹیگور، تقسیم ہند اور قومی یکجہتی وغیرہ عناوین پر گراں قدر مقالات پیش کیے۔ اور تمام مقررین و مقالہ نگاران نے مولانا آزاد ایک مجتہد عصر کے عنوان پر سیمینار کے انعقاد پر مولانا آزاد اکادمی کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی،ان کا شکریہ ادا کیا اور سیمینار کو وقت کی بڑی ضرورت قرار دیا۔ڈاکٹر سلطان احمد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلمات تشکر پر مجلس کا اختتام عمل میں آیا۔اس سیمینار میں مختلف شعبہائے حیات سے متعلق اہم شخصیات شریک تھیں۔
جاری کردہ
مولانا آزاد اکادمی ، نئی دہلی

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے