بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمولانا ابو الکلام آزادؒ کاپیغامِ یکجہتی اور عصر حاضر

مولانا ابو الکلام آزادؒ کاپیغامِ یکجہتی اور عصر حاضر

مولانا ابو الکلام آزادؒ کاپیغامِ یکجہتی اور عصر حاضر
محمد نوشاد نوری قاسمی

اتحاد اوریکجہتی عظیم طاقت ہیں، یہ قوم اور وطن کی ترقی کی شاہراہ اور تہذیب وتمدن کے پاسبان ہیں،اس لیے انسانی زندگی کی بڑی ضرورت بھی ہیں،اتحاد سے کارنامے ہی نہیں معجزے وجود میں آتے ہیں اور اختلاف وانتشار سے تہذیب وتمدن کا محل زمیں بوس ہوجاتا ہے ۔
انسانی سماج ہمیشہ ایک حالت پر نہیں چلاکرتا، اس پر حالات اور برے اوقات بھی آتے ہیں، کبھی محبت کی خوشبوسے چمن مہک رہا ہوتا ہے ، تو کبھی نفرت کے شعلے انسانی وجود کے لیے خطرہ بنتے ہیں، ہر قوم کو ان حالات کا سامناہوتاہے اور ان سے نمٹنا بھی ہوتا ہے ، ہندوستان کو بھی آج کل انہی حالات کا سامنا ہے ؛ لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے ، ایسے حالات پہلے بھی بہت آئے اور ہمارے بڑوں نے ان حالات کا سامنا کیا اور ہمارے لیے بہترین لائحہ عمل چھوڑ کر گئے ، ۲۲فروری کو مولانا ابو الکلام آزادؒ(۱۸۸۸ء۔۱۹۵۸ء)کا یوم وفات ہے ، وہ بجاطور پر ہندوستان کے معمار اور اتحاد ویکجہتی کے سفیر تھے۔
مولاناآزاد ؒکی زندگی کے متعدد گوشے ہیں اور سبھی روشن، انہیں سحر طراز خطیب کہیے ،بے نظیر انشا پردازکہیے،مفسر قرآن کہیے ، فقہ وحدیث کا شناورکہیے ، تاریخ وسیر کے اسرار کا محرم کہیے ، سیاسی مدبرکہیے ، قومی لیڈرکہیے ، مجاہد حریت کہیے؛ یہ تمام صفات ان کی شخصیت کے جامۂ زیبا پر بلاکسی تراش خراش کے فٹ آتی ہیں۔
سیاسی اور قومی جدوجہدکے باب میں مولانا ابو الکلام آزاد ؒ کانام ہمیشہ روشن رہے گا، انہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروںسے ہندوستانی قوم کوجرأت اورولولہ عطاکیا،کہنا چاہیے کہ انہوں نے قوم کے اندرآزادی کی بھوک پیداکی اوراس راہ میں طوفانوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ بخشا،ان کی تحریروتقریرآتش فشاںکامنظر پیش کرتیں، وہ لکھتے نہیں؛جگر کے پاروں کو تقسیم کرتے تھے، وہ بولتے نہیں ؛ دھاڑتے تھے، انہوں نے گرمیٔ گفتار سے وہ معرکے سرکرلیے، جوبڑی سے بڑی فوج کے لیے بھی ممکن نہ تھے۔
آزادی کی جدوجہد کے ساتھ، قوموں کی آپسی رسہ کشی اور پنپنتی سماجی دوری اور نفرت کا انہوں نے شروع میں ہی ادراک کرلیا تھا، وہ جانتے تھے کہ آزادی منزل نہیں ، صرف راستہ ہے، اصل منزل ایک ایسے سماج کی تشکیل ہے،جہاں اخوت اور محبت کی حکمرانی ہو، بھائی چارہ اور ہمدردی جس کی ہم رکاب ہو، ایسا سماج جہاں نفرت اور عداوت کا نام ونشان نہ ہو، ایک مشترکہ قومی تہذیب ہو اور سبھی قومیں اس کی پاسبان ہوں، ان کے سیاسی سفر کاآغاز ۱۹۱۲ء سے ہوا، جب کلکتہ سے انہوں نے الہلال جاری کیا ،ان کی جدوجہد کا نصب العین بالکل واضح تھا،ان کا اصل نصب العین ’’آزادی‘‘ اور ’’اتحاد‘‘ تھا، انہوں نے اپنے نصب العین سے کبھی سرِمو انحراف نہیں کیا،اچھے اچھوں کے قدم ڈگمگائے؛ مگر وہ جمے رہے ،وہ نفرت کے لیے سدسکندری تھے اوراتحاد کے لیے مینارۂ نور اور سنگ میل۔
مولانا ابو الکلام آزاد ؒ کانظریہ ٔ یکجہتی اور ہندومسلم اتحاد،آزاد ہندوستان کے سماج کا ایک اہم عنصر ہے، انہوں نے۱۹۱۲ء میں لکھا تھا: ’’میرا عقیدہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے بہترین فرائض انجام نہیں دے سکتے ، جب تک وہ احکام اسلامیہ کے ماتحت ہندوستان کے ہندوؤں سے پوری سچائی کے ساتھ اتحاد واتفاق نہ کرلیں‘‘۔(ذکر آزاد، ص۸۴)انہوں نے مسلمانوں کو سیرت نبوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھا:’’ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان، ہندوستان کے بائیس کروڑہندوبھائیوں کے ساتھ مل کر ایسے ہوجائیںکہ دونوں ہندوستان کی ایک قوم اور نیشن بن جائیں ، اب میں مسلمان بھائیوں کو سناناچاہتاہوں کہ خداکی آواز کے بعد سب سے بڑی آواز جو ہوسکتی ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز تھی، اس وجود مقدس نے عہدنامہ لکھا ، بجنسہ یہ اس کے الفاظ ہیں،’’ہم ان قبیلوں سے جو مدینہ کے اطراف میں بستے ہیں، صلح کرتے ہیں، اتفاق کرتے ہیں اور ہم سب مل کرایک ’’امت واحدہ ‘‘ بننا چاہتے ہیں، امت کے معنی ہیں قوم، اور واحدہ کے معنی ہیں ایک‘‘، اگر میں نے اپنی اپیل میں کہاکہ ہندوستان کے مسلمان اپنا بہترین فرائض اسی وقت انجام دیں گے جب وہ ہندوؤں کے ساتھ ایک ہوجائیں گے تو یہی وہ لفظ ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت لکھا یا تھاکہ ہم سب مل کرقریش کے مقابلے میں ایک نیشن ہوجائیں گے‘‘۔(ذکر آزاد، ص۸۷۔۸۸)
مولانا ابو الکلام آزادؒ کا یہ نظریہ مسلمانوںاور تمام اہل وطن میں بے حد مقبول ہوا ، مولانا نے اپنی اور اپنے ہم خیال مخلص رفقاء کار کی شبانہ روز محنت سے اس اتحاد کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کردیا اور تحریک خلافت کے موقع پرہندوستان کے تمام باشندوں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ،اس کی نظیرہندوستان کی طویل تاریخ میں نظر نہیں آتی۔
۱۹۳۰ء کے بعد حالات نے نیا موڑ لیا،اور هندو مسلم دونوں قومیں اتحاد کی راہ سے منحرف ہونے لگیں، وہ وقتی جذبات اورہنگامی نعروںکے سیلاب میں بہنے لگیں اور قومی تحریک سے جداہونے لگیں ، اس موقع پر مولانا آزادؒ نے بڑی مضبوطی سے اتحاد اور یکجہتی کی صدا بلند کی ، اس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور تمام شکوک وشبہات کاازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کی؛ مگر جذبات کے طوفان میں بہنے والوں کو اس کا ہوش ہی کہاں تھا کہ مولانا کے حقیقت پسندانہ اور خیرخواہانہ مشوروں پر توجہ دیتے۔
مولاناابوالکلام آزادؒ جانتے تھے کہ ملک کی تقسیم باشندگان ہندوستان بالخصوص مسلمانوں پر ایسی قیامت لائے گی، جس کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کردینے والاہوگا، تقسیم کے بعد مولانا کی تمام پیشین گوئیاں حرف بحرف صادق آئیں ، تقسیم وطن کے بعد جامع مسجد میںکی گئی ان کی تقریر میں ان کے کرب اور بے چینی کو آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے ،انہوں نے اپنی اس تقریر میںسہمے ہوئے مسلمانوں کونیا حوصلہ دیتے ہوئے کہاتھا: ’’عزیزو! اپنے اند رایک بنیادی تبدیلی پیداکرو، جس طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے تمہارا ’’جوش وخروش‘‘ بے جا تھا، اسی طرح آج یہ تمہارا’’ خوف وہراس‘‘ بھی بے جاہے، مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ، سچے مسلمانوں کو نہ تو کوئی طمع ہلاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی خوف ڈرا سکتاہے‘‘۔(خطبات آزاد، ص۳۴۱)
ہندومسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تعلق سے مولانا ابو الکلام آزادؒ کے خیالات ہندوستان کی تہذیب اور مزاج کے عین مطابق ہیںاور ان خیالات کی اہمیت وقت کے ساتھ روز بروز بڑھتی جارہی ہے ، آج ملک کے حالات کسی سے مخفی نہیں ہیں، سخت ترین اختلاف وانتشار، انسانیت سوز فرقہ واریت، مذہب ، علاقہ، قبیلہ اور زبان کی بنیاد پرسماجی رسہ کشی؛ ایک بار پھر ملک کو کمزوری ، غلامی اور تاریک مستقبل کی طرف لے جارہے ہیں، ان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں مولانا آزادؒ اور ان جیسے معمارانِ قوم کے بتائے ہوئے اصولوں کی روشنی میں، پوری ہندوستانی قوم کو بالخصوص سیاسی لیڈران اور ملی رہنماؤںکو ملک کی تعمیر کا نقشہ بنانے کی ضرور ت ہے ،آزادی کی بقا اسی میں ہے کہ ہندومسلم اتحاد پھر سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو، ہر فریق دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا بند کرے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات اور اشتعال انگیزی کے خول سے باہر آئیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا کردار اداکریں، علیحدگی پسند رجحانات کو چھوڑ کر ان طاقتوں کی حمایت کریں ، جو ملک میں سیکولرزم، قومی یکجہتی ، جمہوری اقدار اور سماجی اتحاد کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ ہندو بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی اہمیت کو سمجھیں، ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فسطائی جماعتوں اور شدت پسند تنظیموں سے دوری بنائیں اور ان کے خطرناک عزائم کو مسترد کریں اور ان کی سنگینی سے عوام کو آگاہ کریں۔ یادرکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کو ان کے جائز اورجمہوری حقوق سے محروم کرکے نہ آزادی کو باقی رکھا جاسکتاہے اور نہ ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتاہے، ملک کے تمام باشندگان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اتحاد اور بھائی چارگی ہی میں ملک کی ترقی کا راز مضمر ہے۔
یہی مولانا آزادؒ کا خواب اورنصب العین تھا، اسی کے لیے وہ تاحیات کوشاں رہے اور اسی اصول پر انہوں نے ہندوستانی سماج کی تشکیل کی تھی، مولانا آزادؒ کو اصل خراج عقیدت یہی ہے کہ ان کے منصوبوں پر عمل کیا جائے اور وطن عزیز میں محبت ریز اور الفت خیزسماجی ماحول بنانے کی ایسی مہم چھیڑدی جائے ، جس کی خوشبو سے سارا گلستان معطر ہوجائے۔
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کردو نفرتیں
آج انسانوں کو محبت کی ضرورت ہے بہت (بشیر بدر)

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے