بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمولاناگل محمدواقعی اسم بامسمی تھے

مولاناگل محمدواقعی اسم بامسمی تھے

مولاناگل محمدواقعی اسم بامسمی تھے

مدرسہ شمس العلوم چکنی گریا شہر ارریہ سے ۱۳/کلومیٹر فاصلہ پر واقع ہے، اس ادارہ کے بانی ومہتم جناب مولانا گل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہیں، ابھی کچھ ہی دنوں پہلے حضرت کی وفات ہوئی ہے،اسی نسبت پر مدرسہ کےاحاطہ میں ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی، مولانا مرحوم کے متعلقین ومحبین اور شاگردوں کے ایک بڑی جماعت اس پروگرام میں شریک ہوئی، مجھے بھی مذکورہ پروگرام میں حاضر ہونےکا موقع نصیب ہواہے، تعزیتی نشست کے عنوان پر میں نےاتنی بڑی جمعیت دیہات کےعلاقہ میں نہیں دیکھی ہےجو خالص مرحوم کے محاسن وخدمات اور ایصال ثواب کے لئے منعقد کی گئی ہو،یہاں پہونچ کریہ بھی معلوم ہوا کہ موصوف کا جنازہ بھی اپنی کثرت تعداد کی وجہ سے قرب وجوارمیں مثالی بن گیا ہے، مولانا گل محمد کے انتقال پرپورا علاقہ سوگوار ہے،ہرآدمی اسے اپنا ذاتی خسارہ اور نقصان کہ رہا ہے، گویا ایک عالم کی موت ایک عالم کی موت کا نقشہ یہاں نظر آگیا ہے، بقول شاعر؛
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے
آخر یہ محبت وعقیدت اور محبوبیت ومقبولیت کا راز کیا ہے؟ اس بھاگ دوڑ کے زمانہ میں بھی یہ قیمتی لوگ اپنا قیمتی وقت مرحوم کے لئے وقف کیوں کئے ہوئے ہیں؟ یہ وہ سوالات تھے جو خود میرے ذہن میں پیداہوئے،
پروگرام شروع ہوا،باری باری علماء کرام اور مولانا مرحوم کے فرزند ارجمند قاری شاہد صاحب مظاہری وشاگردان نے حیات وخدمات پر روشنی ڈالنی شروع کی تو سب کے جوابات مل گئےاورمولانا کے بارے میں یہ باتیں میرے علم میں آئیں کہ؛مرحوم نےاپنی پوری زندگی کو علم دین کےاشاعت کےلئے وقف کردی ،آپ مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ کے مرید تھے، مدرسہ کو ہی اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنالیا، قریب میں اپنا گاؤں تھا، بہت ہی مختصر وقت کے لئے گھرتشریف لے جاتے،ایسا محسوس ہوتا جیسے بڑی جلدی میں ہیں، مدرسہ واپس ہوتے تو پھر سکون کی کیفیت میں آجاتے،اپنی عمر کی تقریبا پچاس سالہ زندگی آپ نے مدرسہ کی نذرکردی، آپ مدرسہ مفتاح العلوم چکنی کے بھی بانی ہیں، پاوں سے معذور ہوتے ہوئے بھی اپنے سر پر مٹی کی ٹوکری رکھ کرکمرہ میں ڈالتے ہوئے لوگوں نے دیکھا ہے،اسی محنت ومحبت کو دیکھ کر گریا والوں نے اپنی ۹۹/ڈسمل قیمتی زمین آپ کے حوالہ کردی،
۱۹۹۶ءمیں مدرسہ شمس العلوم گریا کی بنیاد ڈالی گئی ،تاوفات مرحوم اس ادارہ سے وابستہمولاناگل محمدواقعی اسم بامسمی تھے رہے،کتنے غیر مسلم حضرات مولانا کے پاس آتے اور یہاں سے دعا لیکر جاتے ،گویا آپ نے اپنے نام کی پوری زندگی لاج رکھی، قرآن کریم میں عالم کو نبی کا جانشین کہا گیا ہے، سنت نبوی کو اپنی زندگی میں زندہ کرنے کی حتی المقدورآپ نے سعی کی،
حضرت علی میاں رحمۃ اللہ کی زبان میں عالم جہاں بھی ہو وہ ایک قبلہ نما کی حیثیت رکھتا ہے، وہ قبلہ بتلاتا ہے، رہبری ورہنمائی کا کام کرتا ہے، مولانا مرحوم اپنی شہرت اور شہر سے دور رہ کر اس فرض منصبی کو انجام دیتے رہے، اور صفہ نبوی سے وابستہ ان اداروں کی آبیاری کرتےرہے،اس کی برکت ظاہر ہوئی،اورآپ کی محبت زمین پر پھیلادی گئی، آج یہ چاہنے والوں کی ایک بڑی جماعت کھڑی ہوگئی ہے،
خداکی مدد شامل حال ہوگئی، آپ نے مرنے کے بعد بھی زندگی کے تینوں کام انجام دیے ہیں،گرانقدر خدمات اور کئی ادارہ کی شکل میں صدقہ جاریہ کا کام آپ نےکیاہے،شاگردوں کی شکل میں علمی سلسلہ قائم کردیاہے،قاری شاہد صاحب مظاہری کی شکل میں نیک وصالح فرزند چھوڑ کر اس دار فانی سے رخصت ہوئےہیں، حدیث کی زبان میں یہ تینوں کام دراصل زندگی کا نام ہے،مولانا گل محمد صاحب رحمۃ اللہ واقعی ہمارے لئے نمونہ چھوڑ گئے ہیں، اللہ حضرت کے درجات بلند فرمائے، واقعی آپ اسم بامسمی تھے،
کون کہتا ہےکہ موت آئی تو مرجاوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۷/محرم الحرام ۱۴۴۴ھ

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے