جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہومنقطہ نظرمولاناسیدطاہرحسین گیاوی

مولاناسیدطاہرحسین گیاوی

مولاناسیدطاہرحسین گیاوی

مولاناسیدطاہرحسین گیاوی بن سیدسلطان احمد،اسٹرائک کےسال درجہ عربی ہفتم کےطالب علم تھے،راقم نےاسٹرائک بپاہونےسےقبل کبھی ان کانام بھی نہیں سناتھا،وہ میرےلیےاسٹرائک کےدنوں کی نئی دریافت تھے،وہ ازخودیاکسی تجربہ کارکےمشورےسےاسٹرائک کےلائق وفائق ا صلاحیت کےقائدبن کرابھرےاورطلبہ کے انبوہ پرجس طرح چھاگئےراقم نےاس کی مثال اپنی طالب علمانہ اورمدرسانہ دونوں زندگیوں میں تادم تحریرنہیں دیکھی،ان کی زبان قینچی کی طرح چلتی،وہ سیل رواں کی طرح بہتی،کسی توقف یاانقطاع سےان کاسلسلۂ کلام جتناناآشناتھااس کومیں صحیح تعبیردینےسےبالکل قاصرہوں،اس سےبڑھ کریہ بات کہ وہ طلبہ پرایسی حکومت کرنےلگےتھےجیسی کوئی غیرمعمولی رعب داب کامالک مطلق العنان خودسرڈکٹیٹرکرتاہے،جسکےپاس اپنی بات من وعن منوانےکےلیےفوجی طاقت،اقتدارکی قوت،ملک کےسارےوسائل،انتظامی اداروں کی آہنی گرفت اورحدودوقیودسےناآشنااپنےعزم وارادےکی زبردست کمک ہوتی ہے،وہ جب چاہےعوام کےسروں کی پکی ہوئی فصل کویک لخت کاٹ ڈالنےکےلیےمکمل انتظام کےساتھ تیاررہتاہے۔
وہ طلبہ سےکہتےبیٹھ جاؤ!تواسی سکنڈمیں سب بیٹھ جاتے،کھڑےہوجاؤ!توسبھی آن کی آن میں کھڑےہوجاتے،صرف دائیں طرف دیکھو!توکسی کی مجال نہ ہوتی کہ نفاذحکم کےپورےدورانیےمیں بائیں طرف دیکھ لے،سبھی طلبہ تین منٹ میں فلاں جگہ جمع ہوجائیں،تودوہی منٹ میں سب اس جگہ آموجودہوتے،ان کی ساری اداؤں میں نظم وضبط ہوتا،ڈسپلن ہوتا،قائدانہ اندازہوتا،خطیبانہ شان ہوتی،مربیانہ وقارہوتا،استادانہ مہارت ہوتی،منتظمانہ دوررسی وحکمت عملی ہوتی اوروہ سب کچھ ہوتاجس کی وجہ سےکوئی واجب التعظیم ومحترم المقام اورباعث فرماں برداری ہوتاہے۔

ان کی اس موقع کی بےساختہ وبےارادہ ٹریننگ نے،بعدکی عملی زندگی میں دیوبندیت کےایک زبردست،بےباک،باصلاحیت، تقاضاہاےوقت کےلیےبہت موزوں ترجمان کےطورپرابھارااورمیدان میں اتارا،اور,,خداشرےبرانگیزدازاں خیربروں آید،،کاوہ سوفی صدمصداق ثابت ہوے،آج وہ مناظراسلام،متکلم اسلام، ترجمان دیوبندیت،لسان حق،خطیب دوراں،محبوب انام سب کچھ بنےہوےہیں،اللہ انہیں صحت وعافیت کےساتھ عمردرازسےنوازےاورتوفیق کارہاےخیرسےان کےدامن عمل کو ہمیشہ مالامال رکھے.
(حاشیہ رفتگان نارفتہ ازنورعالم خلیل امینی رحمہ اللہ ص۱۲۷)

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے