ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتموجود منظر نامے میں نظریاتی سیاست کا مستقبل

موجود منظر نامے میں نظریاتی سیاست کا مستقبل

موجودہ منظر نامے میں نظریاتی سیاست کا مستقبل

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

مضمون نگار نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا ہے۔

zafardarik85@gmail.com

یہ ایک ناقابل تردید صداقت ہے کہ انسانی فکر و فلسفہ کے معیار ہمیشہ بدلتے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے انسانی فکر و نظر کا ایک درجہ تو وہ ہے جو معاشرے میں مثبت کردار وعمل کا داعی ہے۔ یقیناً اس سے سماج میں امن وامان اور رواداری کا فروغ ہوتا ہے۔ دوسرا معیار انسانی فکر کا وہ ہے جس سے انسانی برادری اور باہم اقوام و ملل کے مابین خلیج و دوری اور کشیدگی بڑھتی ہے۔ ظاہر ہے کوئ بھی مثبت افکار و نظریات کا حامل فرد ایسے فکر و فلسفہ کو پسند نہیں کرسکتا ہے جو انسانی برادری میں اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کا درس دیتا ہو۔ برعکس اس کے قومیں اور معاشرے فطری طور پر ایسے اصول و ضوابط اور افکار و نظریات کو بخوشی قبول کر لے تے ہیں جو انسانی اقدار اور انسانی رشتوں کے تقدس و عظمت کے قائل ہوتے ہیں۔ آ ج ہمارے سامنے بعینہ یہی صورتحال ہے۔ کیونکہ منفی اور مثبت کردار وعمل کے حامل ہر میدان و شعبہ میں موجود ہیں۔ اگر اس تناظر میں سیاسی و سماجی منظر نامہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ درجہ بندی بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔

یاد رکھئے سماج ایک زندہ حقیقت ہے اسی طرح سماج میں تنوع اور رنگارنگی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن کوئی سماج اور معاشرہ اسی وقت پوری آ ب وتاب کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے جب کہ اس سماج میں پائی جانے والی متنوع اور گوناگوں خوبیوں وجہات کو پوری ایمانداری سے تسلیم کیا جائے۔ تسلیم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم کسی کے نظریہ یا اس کے مخصوص افکار کو اختیار کرلیں اور اپنے رسم ورواج یا تعلمیات ہدایات کو ترک کردیں۔ بلکہ اس کی بہتر تعبیر و تشریح یہ ہے کہ مثلا ہندوستان تکثیری سماج اور مخلوط سوسائٹی پر مشتمل ہے۔ ظاہر ہے یہاں افراد الگ الگ زبانیں، ادیان اور رسوم و رواج کے حامل ہیں ۔اب ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ جو جس مذہب اور دھرم سے وابستہ ہے وہ اپنی مطلوبہ چیزوں پر عمل کرکے دیگر تہذیبوں اور ثقافتوں کے فروغ وبقاء کے لیے کسی بھی طرح کا روڑہ نہ بنے۔ جب ہندوستان جیسے تکثیری سماج میں اس طرح کا معیار اختیار کیا جائے گا تو یقینا اس سے عالمی سطح پر تکثیری سماج کی جو صورت ابھر کر سامنے آ ئے گی اس کے اثرات نہایت مفید و کارگر مرتب ہوں گے۔

آ ج کا ہندوستانی معاشرہ اور یہاں کی سیاسی زمین ایک نئی تاریخ لکھ رہی۔ وہ یہ کہ اب پورے ملک میں سوفٹ اور ہارڈ ہندوتوا کا کھیل کھیلا جارہاہے ۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اب تک جو جماعتیں سیکولر فکر و فلسفہ کی قائل تھیں غور سے دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب وہ بھی کہیں نہ کہیں سوفٹ ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل کررہی ہیں۔ اب جو سیاسی زمین تیار ہورہی ہے اس میں بظاہر مسلم مخالف ماحول پروان چڑھ رہا ،حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ انسانی رشتے اور تعلقات متاثر ہورہےہیں ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اب ان حالات میں کس طرح قابو پایا جائے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے صحیح معنوں میں ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ کو نہیں پرکھا۔ جب کہ حالات میں تبدیلی ایک طویل عرصے سے ہونے لگی تھی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سیاسی نظام میں جو تبدیلی واقع ہورہی ہے اس کو بخوبی سمجھیں، اس کے بعد کوئی بھی لائحہ عمل طے کریں۔

ذرا دیکھیے اور حالات کو سمجھیے دانشمندی اور سنجیدگی کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں کسی پارٹی کو ہرانے کی قسم نہیں کھانی چاہئے آ پ کا اپنا حقِ رائے دہی ہے جہاں چاہیں استعمال کریں ،جسے چاہیں ووٹ دیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ البتہ کسی خاص پارٹی کو اپنا دشمن بنانا یا پھر اس کو ہرانے کی جد وجہد کرنا نہایت شرمناک ہے۔ اس بابت مولانا محمود مدنی کے اس بیان کی بھرپور تائید ہونی چاہیے جو انہوں نے ابھی حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران دیا ہے۔ "یعنی کسی پارٹی کو ہرانے کے لیے مسلمانوں کو ووٹ نہیں کرتا چاہیے۔ البتہ وہ جتانے کے لیے کسی کے بھی ساتھ جاسکتے ہیں” دراصل اس طرح کی ذہنیت اور فکر ان معاشروں اور قوموں میں پروان چڑھتی ہے جو مایوس اور اپنی فکری استعداد کو پوری طرح منجمد کرڈالتی ہیں۔ المیہ تو یہ بھی کہ جذبات واحساسات میں بہ کر عموماً ہماری قیادتیں غیر مناسب فیصلے کرتی رہی ہیں۔ اب جذبات کی نہیں بلکہ مستحکم اور متوازن فکر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک کی آ زادی کے بعد سے پوری سیاسی اور سماجی صورتحال کا تجزیہ کیجئے اسی کے ساتھ ان مسائل و مباحث کی بھی انصاف سے گرہ کھولتے جائیے جن کا تعلق صرف مسلم کمیونٹی سے ہے۔ اندازہ ہوگا کہ جن سیکولر جماعتوں نے ابھی تک ہمارے ووٹ کو استعمال کیا اور اقتدار کا لطف اٹھایا، کیا ہمیں انہوں نے ہمارے ان بڑے مسائل کو حل کیا ہے یا انہیں مزید صرف ووٹ بٹورنے کی غرض سے الجھائے رکھا اس پر سنجیدگی سے سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے؟ ہمارے معاشرہ کا عام سا مزاج بن تا جارہا ہے کہ ہم کرنے سے زیادہ گاتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے اکثر منصوبے ناکام ہوتے رہے ہیں۔ موجودہ تناظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ہم سیاسی طور پر کسی بھی پارٹی کو اپنا دشمن نہ بنائیں۔ آ ج 80 اور 20 کی بات ہو رہی ہے تو اس کے پس پردہ بھی غور کرنا ہوگا کہ یہ نوبت کیوں آ ئی۔ ہر الیکشن میں ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ بی جے پی ہارے خواہ کوئی جیتے۔ یہ رویہ اور رجحان بالکل درست نہیں ہے۔ الیکشن کو ہندو مسلم بنانے کا موقع بسا اوقات ہم ہی اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے فراہم کرتے ہیں۔ بات الیکشن جتنے اور ہارنے کی نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی کا جو امتیازی تشخص ہے اسے کیسے بچایا جائے؟ اب ذرا اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ آج کے سیاسی منظرنامہ میں میں تقریبا سیکولر یا غیر سیکولر جماعتوں نے مسلمانوں یاد تک کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اجنبیت سی کیفیت ہوتی جارہی ہے۔ آ ج فسطائیت کا قلع قمع کرنے کے لیے بڑے بے باک انداز میں کہا جارہا ہے کہ ہم ان سے بڑے ہندو ہیں۔ دراصل یہ وہ نفسیات ہے جس نے سیاسی میدان میں صرف مسلمانوں کو استعمال کیا۔ ہمارے کیا مسائل ہیں اور ان کا حل کیسے ہوگا اس پر سوچنا تو اب بہت دور کی بات لگتی ہے۔ یہ زمین اور موجودہ سیاسی احوال ہم سے کچھ کہ رہے ہیں ان پر نہایت متوازن اور سنجیدہ انداز میں قائدین و رہبران کو سوچنا ہوگا۔ ورنہ پھر چیزیں ہاتھ سے نکل گئیں تو بعد میں کف افسوس ملنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہماری قوم اور معاشرہ جن حالات سے نبرد آزما ہے ان کو کیسے دور کیا جائے۔ آ ج کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ وہ جذباتیت اور لالچ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس نکتہ کی طرف اشارہ معروف مفکر ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد صاحب نے اپنی کتاب ” ذہنی و فکری ہم آہنگی آ رزو وجستجو” میں کیا ہے۔

” آ ج کی سیاست اور معیشت جذباتیت اور لالچ کے گرد گھوم رہی ہے۔ ہمارےپاس ایک مکمل اشتہاری صنعت ہے جو اس حلقے کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے۔ کال سینٹرز اور اور ان کا عملہ اس کام کو اتنے پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے تا کہ اس کاروبار کو برقرار رکھنے کے لیے کافی وسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا یا انسانی سوچ اور ذائقہ میں جھکاؤ کو یقینی بنانے، انتہائی پرکشش رجحانات پیدا کرنے ، نت نئے خیالات متعارف کرانے ایک مقبول ذریعہ بنتا جارہاہے اس کے ذریعہ وضع کردہ منصوبے اور خاکے نئے جذبات کو مقبول بنارہے ہیں۔

سیاست بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے! ذرائع ابلاغ کا بڑے پیمانے پر استعمال نوجوانوں کی توجہ کو اپنی جانب راغب کرنے اور ان کے موجودہ فکروعمل کو مکمل طور پر نئے زاویوں کی طرف موڑ دینے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ ایسے غیر مستحکم منظر نامے کے چلتے سیاست میں جذبات کے کردار سے انکار ناممکن نظر آتا ہے۔ تاہم جب جذبہ جنون میں تبدیل ہو جائے تب اسے امن و امان کا بھی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جوش محض جذبات کو بڑھاوا دیتا ہے۔ جبکہ جنون پر تشدد ہوسکتاہے۔ ہمارے ( ہندوستانی ) تناظر میں زیادہ دیر تک مذہبی جذبات کو برقرار رکھنا نا ممکن ہے کیوںکہ ہماری آ بادی نوجوانوں کی اکثریت پر مشتمل ہے اور اس طبقہ کے لیے معیاری تعلیم ،روزگار کے مناسب مواقع ، آ رام دہ زندگی اور معاشی مفادات جیسی چیزیں دیگر چیزوں کی بہ نسبت زیادہ توجہ حاصل کرنے والی ہیں”

لہذا کہا جاسکتا ہے کہ معاشرے کو پرامن اور مستحکم بنانے کے لیے اہلیان سیاست سے لے کر سماجی ومذہبی رہنماؤں تک کو اب اجتماعی مفادات اور تابندہ نقوش پر عمل کرنے نیز اسے زمین پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب سیاست اپنا رخ بدلتی ہے تو سماج میں اس کی سوچ اور فکر سے ہم آہنگ لوگوں کا ٹولہ یقینی طور پر پیدا ہوجاتا ہے۔ اب یہ اہلیان سیاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاست کے رخ کو قوم و ملک کی تعمیر وترقی اور خوشحالی کی طرف موڑدیں یا پھر منفی اثرات کی طرف۔ بہر دو صورت میں سماج پر اس کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورا ہندوستانی سماج ملک میں ان سیاسی عزائم و مقاصد کی داغ بیل ڈالیں جس میں نہ تفریق و امتیاز ہو اور نہ نفرت و بیزاری یقین جانیے جب ہمارا معاشرہ سیاست کے ایسے شفاف اور منصفانہ اصولوں پر عمل درآمد کرے گا تو پھر اس کے نتائج معاشرے کے ہر طبقہ پر نہایت مفید مرتب ہوں گے۔ البتہ نفرت آ میز اور ذاتی مفادات سے وابستہ سیاست کے نتائج ہمیشہ مایوس کن اور متنفرانہ ہی ہوتے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ ایسی سیاست کا نہ مستقبل ہوتا ہے اور نہ اس میں پائداری ہوتی ہے۔ اس کا منفی اثر صرف اس ذات یا فرد تک ہی محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اس کے منفی اثر سے کہیں نہ کہیں پورا معاشرہ اور سماج متاثر ہوتا ہے۔ اب الیکشن کا وقت ہے چنانچہ یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعہ ان سیاستدانوں کو منتخب کریں گے جو موروثی یا اوچھی سیاست کے حامل ہیں یا پھر ان کو جو ملک و قوم کی خدمت اور اس کی فلاح وبہبود کا جذبہ صادق رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ نظریاتی سیاست کا مستقبل کہیں نہ کہیں جاکر وہ غیر مستحکم ہی ہوتا ہے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے