موجودہ حکومت اور عدالت: زین العابدین قاسمی

65

ہندوستان کی عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) کی ایک شان تھی ایک وقار تھا انصاف کے امیدواروں کو بھروسہ رہتا تھا.

بارہا ایسا ہوا ہے کہ نچلی عدالتوں (ہائی کورٹ) سے انصاف نہ ملنے پر عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) کا رُخ کیا گیا ہے تو وہاں سے پورا پورا انصاف ملا۔

کتنے ایسے بے قصور نوجوان کامقدمہ آپ نے سنا ہوگا جن کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے نچلی عدالتوں میں کیس چلایا گیا اور وہاں سے ان بے قصوروں کو پھانسی تک کی سزا سنائی گئی مگر جب وہی مقدمہ عدالتِ عظمیٰ میں لے جایا گیا تو وہاں سے انصاف ملا اور باعزت رہائی کا پروانہ بھی ملا۔

اسی طرح کے مبنی بر انصاف فیصلوں کے پیشِ نظر ہمارے اکابر و قائدین کو دیگر مقدموں میں بھی انصاف کی بھرپور امید تھی اور اسی بنا پر عدالتِ عظمیٰ کو انصاف کی مندر تک کہا گیا۔

مگر موجودہ حکومت میں جہاں دیگر شعبے حکومت کی منشاء کے مطابق چلتے ہیں وہیں عدالتِ عظمیٰ نے بھی اپنی ساکھ خراب کردی ہے اور انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اب عدالتِ عظمیٰ سے وہ فیصلے صادر ہونے لگے ہیں جو حکومت چاہتی ہے۔ اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے.

ایسی واضح صورتِ حال کے ہوتے ہوئے اُن قائدین و رہنماؤں کو کوسا نہیں جاسکتا جو بابری مسجد ملکیت مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے یہ فرمارہے تھے کہ عدالتِ عظمیٰ سے جو بھی فیصلہ آئے گا ہمیں منظور ہوگا کیوں کہ ابھی تک عدالت سے انصاف کے فیصلے ہی صادر ہوتے تھے یہ تو موجودہ حکومت میں عدالت کا رویہ بدل گیا اور انصاف کی جگہ ناانصافی نے لے لی۔

تو غلطی قائدین کی نہیں ہے بلکہ یہ بدلے ہوئے سسٹم کی وجہ سے ایسا ہورہاہے۔

لہذا قائدین کو کوسنے والے احباب کو صحیح صورتِ حال پر نظر رکھنی چاہیے نہ کہ اپنے دل کا بھڑاس نکالنا چاہیے۔

زین العابدین قاسمی: ناظم جامعه قاسميه اشرف العلوم نواب گنج علی آباد