بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزارریا نیوزموت کوئی حادثہ نہیں ہے

موت کوئی حادثہ نہیں ہے

موت کوئی حادثہ نہیں ہے

جامعہ تجوید القرآن میر نگر ارریہ میں ناظم مدرسہ جناب مولانا قاری نیاز احمد صاحب قاسمی کی نظامت میں مرحوم سبطین احمد کے لیےایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی،مولانا جسیم الدین صاحب حسامی اوراساتذۂ جامعہ وطلبہ کے ساتھ ساتھ عمائدین شہر کی ایک قیمتی تعداد موجود تھی، مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب حضرت مولانا افتخاراحمد صاحب قاسمی استاد حدیث جامعہ اکل کواں نے اپنے صدارتی بیان میں مجمع کو خطاب کرتے ہوئےیہ کہا ہےکہ؛ مجھے معلوم ہوا کہ مرحوم سبطین احمد بڑی خوبیوں کے حامل تھے،تعلیمی وملی خدمات میں پیش پیش رہتے، انسان میں کمیاں بھی ہوتی ہیں، مرنے کے بعد کمیوں کا نہیں بلکہ خوبیوں کا ذکر کرنے کا حکم ہے،اپنی خوبیوں سے انسان زندہ رہتا ہے، قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے جو نفع کی چیز ہوتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے، اس دنیا کا یہ اصول ہے کہ پھل دار درخت کو دشمن بھی نہیں اکھیڑتا ہے،اور خاردار درخت کو دوست بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے،مرحوم کم سخن تھے مگر علم وعلماء کے قدردان تھے،یہ ان کے بڑے ہونے کی دلیل ہے،
درحقیقت بڑے لوگ وہی ہیں جو علم وعلماء کی قدر کرتے ہیں، ایک واقعہ سلطان سبکتگین کا یاد
آگیا ہے، پہلےیہ کوئی بادشاہ نہیں تھا بلکہ بادشاہ کی فوج کا ایک ادنی ملازم رہا ہے، ایک موقع پر ان کے گھر ایک عالم تشریف لائے، انہوں نے بڑی تکریم کی، جب روانگی کا وقت ہوا تو ساتھ ساتھ چلے، چلنے میں چند قدم اس عالم سے آگے نکل گئے تھے، فورا اپنے کو پیچھے کیا، اورچھ قدم پیچھے ہوگئے، اللہ نے اس کے صدقے ان کے چھ نسلوں میں بادشاہت عطا کی، سلطان محمود غزنوی انہیں کی لائق وفائق اولاد ہے،آپ اگر یہ سوچیں اس وقت ہمیں بادشاہت نہیں مل سکتی ہے تو یہ سوچ غلط ہے،اصل بادشاہت تو دلوں پر ہوتی ہے، اس وقت جو دلوں پر حکومت کرتا ہے وہی دراصل بڑا فاتح ،اور ایک عظیم انسان ہے،وہ چپ اور خاموش بھی بیٹھا رہتا ہے مگر وہ بڑا ہے،بقول شاعر
ع۰۰۰ یہ الگ بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں
پھر بھی جو لوگ بڑے ہیں وہ بڑے رہتے ہیں
مرحوم کے والد گرامی قدر جناب پروفیسر الحاج رقیب احمد صاحب اس وقت ہمارے سامنے موجود ہیں، انہیں دیکھ کر مجھے خوشی بھی ہے اور غم بھی،غم اس بات پر کہ جوان بیٹا باپ کے سامنے فوت ہوگیا ہے، یہ ایک باپ کے لیے صدمہ کی بات ہے، مگر خوشی اس بات پر ہورہی ہے کہ انہیں صبر جمیل نصیب ہوا ہے، ہشاش بشاش ہیں،اپنے چھوٹے بیٹے انجینئر ابوسفیان صاحب اور مرحوم کے اکلوتے بیٹے ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے اہل خانہ کو سنبھالنے کا کام کررہے ہیں، یہ بڑی بات ہے،
قرآن کریم کا یہی پیغام ہے،خدا تعالی نے صبر کرنے والوں کو بشارت دی ہے،جب کوئی جانی مالی نقصان کا سامنا اہل ایمان کو ہوتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، قرآنی یہ جملہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہتا ہے تو دنیا وآخرت کی بھلائیاں اسے نصیب ہوجاتی ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون کے دو مطالب لیے جاسکتے ہیں، ایک یہ کہ اے اللہ یہ اولاد کی شکل میں دی ہوئی امانت آپ کی ہی ہے، آپ نے واپس مانگ لیا ہے تو بخوشی ہم اس کو واپس کررہے ہیں اور یہی نہیں بلکہ ہم بھی تیار بیٹھے ہیں، جب بھی بلاوا آئے گا ہم بھی واپس چلے جائیں گے، دوسرا مفہوم یہ کہ اے اللہ! اس مصیبت کی گھڑی میں ہم آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو حکم آپ نے اس موقع پر اہل ایمان کو دیا ہے بسروچشم اسے قبول کرتے ہیں، ہم آپ کی مرضی کے خلاف نہ کچھ کہنے جارہے ہیں اور نہ کچھ کرنے جارہے ہیں، موت ایمان والوں کے لیے کوئی حادثہ نہیں ہےبلکہ ایک تحفہ ہے،جب بندہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس پر اسے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
اس دنیا میں خوشی بھی ہے اور غم بھی ہے،زندگی تو اسی کا نام ہے،ترمذی شریف کی حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، جب کسی کا بچہ فوت ہوجاتا ہے،تو اللہ تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کے بچے کی روح نکال لی؟ باوجود یہ کہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے،فرشتے عرض کرتے ہیں کہ نکال لی ہے،پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے نے اس پر کیا کہا ہے؟فرشتے کہتے ہیں؛اس نے آپ کی حمد کی ہے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہوتا ہے کہ اس کے بدلے میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بنادو جس کا نام بیت الحمد ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۹/ربیع الاول ۱۴۴۴ھ

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے