ہوممضامین ومقالاتممتاز صحافی ، ادیب و افسانہ نگار قمر اعظم صدیقی بانی و...

ممتاز صحافی ، ادیب و افسانہ نگار قمر اعظم صدیقی بانی و ایڈمن

ممتاز صحافی ، ادیب و افسانہ نگار قمر اعظم صدیقی بانی و ایڈمن
” ایس آر میڈیا ” کا 26 دسمبر 1983 یوم ولادت ہے ۔
پیشکش ✍️ سلمی صنم

پورا نام قمر اعظم ،قلمی نام قمر اعظم صدیقی ہے ۔ ان کے والد کا نام شہاب الرحمن صدیقی اور والدہ کا نام شاکرہ خاتون ہے ۔ وہ 26 دسمبر 1983ء کو اپنے آبائی وطن بھیرو پور ، حاجی پور ، ویشالی ، بہار میں پیدا ہوئے ۔ ان کی تعلیم ایم اے اردو ( فاصلاتی ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد ) سے ہے اور پیشہ تجارت ( پلمبر اینڈ باتھ فٹنگ کا سپلائی) ہے
ان کے تصنیفات کے نام ہیں
1 👈 ” برگ ہاۓ ادب ” ایس آر میڈیا پیج پر شائع مضامین کا مجموعہ (مرتب) : غیر مطبوعہ , قومی کونسل میں مسودہ جمع ہے

2 ” غنچہ ادب ” ( مصنف )
غیر مطبوعہ ہے ۔ اردو ڈایرکٹریٹ میں مسودہ جمع ہے ۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ : شخصیات ، دوسرا حصہ : تبصرہ ، تیسرا حصہ : صحافت
آغازِ تحریر۔۔ پہلی اشاعت : ” اردو سے بے توجہی کے لیے ذمہ دار کون ؟ ” تاریخ اشاعت : 16/07/2001 زبان و ادب اڈیشن ، روزنامہ قومی تنظیم پٹنہ ہے.
ان کی سرگرمیاں :
1 👈 بانی و ایڈمن ” ایس آر میڈیا "پیج
2 👈 رکن کاروان ادب حاجی پور ویشالی
3 👈 رکن اردو ایکشن کمیٹی ویشالی
4 👈 رکن ضیاۓ حق فاؤنڈیشن

خدمت اردو کے لیے ان کے ذریعہ چلایا جانے والا فیس بک پیج ” ایس آر میڈیا ” کی خدمات کو 16 ماہ ہو چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :
"اپنے تجارتی مصروفیات کی وجہ سے اردو کے لیے زیادہ کچھ تو نہیں کر پاتا ہوں لیکن الحمداللہ کچھ وقت نکال کر لوگوں کے آۓ ہوۓ تحریر کو مستعدی سے لگاتا ہوں ۔ خصوصاً نۓ قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں ۔ ” قمر اعظم صدیقی ایس آر میڈیا پیج کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ :
” ایس آر میڈیا پیج کے قارئین کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ ایس آر میڈیا پیج کا دائرہ ہندوستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ فیس بک رپورٹ کے مطابق نو (٩) ملکوں میں اس کے قارئین موجود ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق مرد قارئین کی تعداد 94 ٪ اور خواتین قارئین کی تعداد 6 ٪ فیصد ہے ۔ اور اگر عمر کی مناسبت سے قارئین کا جائزہ لیا جائے تو فیس بک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 25 سے 34 کے عمر کے قارئین کی تعداد 40٪ فیصد جبکہ 35 سے 44 عمر والے قارئین کی تعداد 20٪ فیصد ، 18 سے 24 عمر کے قارئین کی تعداد 19٪ فیصد ، 45 سے 54 کے قارئین کی تعداد 9٪ ، 55 سے 64 کے عمر کے قارئین کی تعداد 5٪ فیصد اور 65 سے اوپر کے قارئین کی تعداد صرف 3 ٪ فیصد ہے ۔ "
دوران طالب علمی انہوں نے کئ غزلیں ، نظمیں اور ایک حمد بھی لکھی لیکن ان سب کا سلسلہ دوران طالب علمی میں ہی مکمل بند کر دیا ۔ ایک دو افسانے بھی لکھے ، ابھی شخصیات اور تبصرہ نگاری پر زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ۔ ویسے تو ان کی تمام تحریریں معیاری اور معلوماتی ہیں لیکن ان تمام تحریروں میں سب سے زیادہ معیاری اور معلوماتی جو تحریر ہے وہ ہے ” اردو میں سرگرم ویب سائٹس اور پورٹل ایک تجزیاتی مطالعہ ” جو کہ صحافت دو صدی کا احتساب 1822- 2022 نامی کتاب میں شامل ہے جس کے مرتب صفدر امام قادری صاحب ہیں ۔

ممتاز صحافی، شاعر اور افسانہ نگار قمر اعظم صدیقی کے یوم ولادت پر پیش خدمت ہے ان کا نمونہ کلام

(((( حمد )))))
نظر کو روشنی دل کو اجالا کون دیتا ہے
اندھیری رات کو جگنو سا شیدا کون دیتا ہے
ہماری سانس کو چلنے کی طاقت کس نے بخشی ہے
ہماری روح کو پاکیزہ رشتہ کون دیتا ہے

بدلتے موسموں کو آج بھی ہم غور سے دیکھیں
تو پائیں گے انھیں رحمت کا سایہ کون دیتا ہے

ہماری کھیت کو فصلوں کی نعمت کس نے بخشی ہے
ہر اک کو رزق کا، قسمت کا دانہ کون دیتا ہے

ہر ایک ماں کی شکم میں پرورش بچوں کی کرتا ہے
کسی پتھر میں کیڑے کو نوالہ کون دیتا ہے

اسی کے ہاتھ میں سب ہے، اسے مختار کل جانو
سوا اس کے کسی کو ایک تنکا کون دیتا ہے

خدا کی حمد لکھوں نعت لکھوں یا غزل لکھوں
قمر دل میں تیرے یہ نیک جذبہ کون دیتا ہے
((((( نظم – کویل )))))
پیاری کویل کالی کالی
سب پنچھی میں بھولی بھالی

آنکھیں اس کی گول مٹول
بولی میں ہے میٹھی بول

گلشن گلشن اڑتی ہے یہ
دل کی باتیں کرتی ہے یہ

میٹھے میٹھے گیت سنائے
نیند سے بو جھل بھی جگ جائے

دل میں پیار کا چشمہ پھوٹے
لب پر اس کے نغمہ پھوٹے

جو اللہ دے کھاتی ہے یہ
اللہ کا گن گاتی ہے یہ

((((( غزل )))))

یا خدا تجھ کو مناؤں کیسے
تیرا بندہ ہوں تو جاؤں کیسے
مفلسی ایسی پڑی ہے پیچھے
بھوک کو اپنی مٹاؤں کیسے
ہوتے ہیں روز غموں کے حملے
گھر کو گھر جیسا بناؤں کیسے
کچھ تو ہے سبز ہوا کی امید
لمحہ زرد بتاؤں کیسے
ان کو پانے کی تمنا تو ہے
دل کی مجبوری بتاؤں کیسے
غم سے انسان نہیں گھبراتا
اے قمر تجھ کو بتاؤں کیسے

ان کی درجنوں غزلیں دوران طالب علمی شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں ۔
👈 انکے افسانے کا لنک ملاحظہ فرمائیں :
ٹوٹتے ارماں

https://www.baseeratonline.com/archives/148703

👈نمونہ تحریر کے لیے لنک ملاحظہ فرمائیں :
قاضی مجاہد السلام قاسمی رحمت اللہ علیہ ایک بے مثال شخصیت

https://ishtiraak.com/index.php/2021/07/22/qazi-mujahidul-islam-qasmi-ek-be-misal-shakhsiyat/

انکی تحریروں کے عنوان بھی ملاحظہ فرمائیں :
1 اردو سے بے توجہی کے لیے ذمہ دار کون ؟
2 قاضی مجاہد السلام قاسمی رحمت اللہ علیہ ایک بے مثال شخصیت
3 میرے نانا جان
4 حضرت مولانا محمد ولی رحمانی میری نظر میں
5 محبت و اخلاص کے پیکر ڈاکٹر ممتاز احمد خاں
6 ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق تیری خوبیاں زندہ تیری نیکیاں باقی
7 علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ ایک مطالعہ
8 علامہ ماہر القادری کی شخصیت اور کارنامے
9 عکس مطالعہ میرے مطالعہ کی روشنی میں
10 پۓ تفہیم ایک مطالعہ
11 آتی ہے انکی یاد میرے مطالعہ کی روشنی میں
12 جہان ادب کے سیاح ڈاکٹر امام اعظم ایک جا ئزہ
13 میزان فکر و فن ایک مطالعہ

14 ہم عصر شعری جہات میرے مطالعہ کی روشنی

میں
15تعلیم اور کیریئر ایک جائزہ
16 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی شعراء کرام کی نظر میں
https://urduleaks.com/mazameen/mufti-muhammad-sana-al-huda-qasmi-a-review149705/

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے