مل کے رہنا سکھاتا ہے یوم آزادی

20
مل کے رہنا سکھاتا ہے یوم آزادی
15 اگست1947 کا ذکر آتے ہی ہم تمام ہندوستانیوں کے جسم میں تر و تازگی اور مسرت کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے اور ذہن و فکر میں اسلاف کا وہ کارہاۓ نمایاں گردش کرنے لگتا ہے جس کے بدولت ہمیں آزادی کا پروانہ ملا اور آنکھوں میں  ان کی قربانیاں سامنے آ کر دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کس طرح ہمارے اسلاف نے جان کی پرواہ کیے بغیر مال و دولت گھر بار سب کچھ لٹا کر انگریزوں کو نکال باہر کرنے میں اہم رول ادا کیا۔یہ آزادی ا گر چہ ہمیں 1947 کو ملی لیکن اس کی چنگاری  ہندوستانیوں کے دلوں میں 1857 سے ہی پنپ رہی تھی جو ایک آتش فشاں بن کر 1947 کو پھٹی جس کی زد میں آکر انگریز خاک ہو گۓ اور راہ فرار کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارۂ کار ہی نہ رہا  علامہ فضل حق خیرآبادی نے سب سے پہلے دہلی کی جامع مسجد سے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور تا حیات انگریزوں کے خلاف بر سر پیکار رہیں 1857کی بغاوت کے بعد ہزاروں علمائے کرام نے انگریزوں کے ظلم و ستم اور طرح طرح کی ایذا رسانیوں کے سبب جام شہادت نوش کیا بھگت سنگھ کھودی رام بوس اور بہت سارے ایسے نوجوان جو اپنے سینوں میں ہندوستان کو آزاد کرانے جذبہ رکھتے تھے انگریزوں کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے لیکن پھر بھی آزادی کا جذبہ ہم ہندوستانیوں کے سینوں سے ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ 15 اگست 1947 کو ہمیں آزادی نصیب ہوئی لیکن ہمیں یہ آزادی کسی ایک فرد یا کسی ایک قوم کے ذریعہ میسر نہیں ہوئی بلکہ مختلف مذہب و ملت کے ماننے والے کروڑوں ہندوستانیوں کے سعئ پیہم سے حاصل ہوئی جس میں ہندو مسلم سکھ عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہیں اگر ہم تمام ہندوستانی متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوتے اور آپس ہی میں لڑتے رہتے تو شاید یہ آزادی ہمیں نصیب نہ ہوتی کیوں کہ انگریزوں کی پالیسی ہی یہی تھی لڑاؤ اور حکومت کرو جس میں وہ کامیاب بھی تھے کبھی ہندو مسلمان فساد کرا کے ہندو مسلمان کو آپس میں لڑا دیتے تو کبھی سکھ کو عیسائی کے خلاف کر کے آپس میں لڑا دیتے اس طرح ہمیں آپس میں لڑا کر انگریز بڑی آسانی کے ساتھ ہم پر حکومت کرتے رہیں یہ تو ہمارے عظیم لیڈروں کی محنتوں کا ثمرہ ہے کہ انہوں نے ہم ہندوستانیوں کو متحد کیا جب تمام ہندوستانی متحد ہو گۓ تب انگریزوں کو وطن عزیز سے باہر نکال کر  ہمیں فتح و نصرت سے ہم کنار ہونے کا موقع فراہم کیا
متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام
منتشر ہو تو قسطوں میں صفایا ہوگا
ا گر موجودہ دور میں وطن عزیز کی حالت دیکھی جاۓ تو دل درد سے کراہنے لگتا ہے کہ پہلے کے سیاسی لیڈران ہمیں متحد کرنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے تاکہ دوسرے ملک کے لوگ ہمیں کمزور نہ سمجھیں اور اب کے سیاسی لیڈران کا بہترین مشغلہ ہی یہی ہے کہ ہم ہندوستانیوں کو مذہب کے نام پر بانٹ کر انگریزوں کی طرح آسانی کے ساتھ حکمرانی کریں اور اپنی ناکامیوں کوتاہیوں پر پردہ ڈالیں رکھیں مہنگائی بے روزگاری بھوک مری یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر کلام کرنا ہمارے لیڈروں کے لیے شمشیر برہنہ پر چلنے کے مثل ہے اس سے بچنے کے لیے ایک سے ایک نئے ایسے مدے لاکر ہم ہندوستانیوں کو اس میں الجھا دیا جاتا ہے کہ ہم ان‌ کی کوتاہیوں اور ناکامیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کر سکتے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ کر کے اس میں طرح طرح کے ٹیکس لگا کر سرکار کئی ہزار کروڑ کا منافع کما کر الیکشن کے وقت چند ہزار کروڑ کسان اور غریب نام پر بھولی بھالی عوام میں تقسیم کر کے بڑی آسانی کے ساتھ آرام سے الیکشن جیت جاتی ہے اور پھر غریب عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہو جاتی ہے پہلے روپیہ اور ڈالر برابر تھا پھر ہم آزاد ہو گۓ اور ہمارے لیڈروں کی محنت سے روپیہ ڈالر سے بہت پیچھے ہو گیا ہے ان ساری چیزوں میں جہاں لیڈروں کی خامیاں ہیں وہاں عوام کی بھی غلطیاں ہیں حکومت اور سیاسی لیڈران جس طرح ہمیں سمجھاتے ہیں ہم سمجھ جاتے ہیں اور ان کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے اگر کسان کے خلاف کوئی بل پاس کیا جائے تو غیر کسان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہندو کے خلاف بل ہو تو مسلمان کو اور مسلمان کے خلاف ہو تو ہندو کو کوئی فرق نہیں پڑتا اس طرح حکومت طرح طرح کے بل لا کر ہم پر مسلط کرتے جا رہی ہے اور ہم  کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہے ہیں کیوں کہ ہم مذہب، قوم، برادری کے نام پر بٹ چکے ہیں اور ہمیں اپنے علاوہ کسی سے کوئی سروکار نہیں رہتا حالاں کہ یہ ہمارا آئینی اور اخلاقی فرض ہے کہ اگر کچھ غلط ہو تو پر امن طریقے سے احتجاج کریں سرکار سے سوال کریں اور قوم و مذہب کو بالائے طاق رکھ کر پہلے ایک اچھے انسان بنیں کیوں کہ کسی بھی قوم و مذہب میں یہ درس نہیں دیا جاتا ہے کہ مذہب کے نام پر انسانیت کو شرمسار کیا جائے ماب لنچنگ فرقہ وارانہ تشدد انتہا پسندی اور نفرت پھیلا کر آپس میں خون کی ندیاں بہائ جائیں بلکہ ہر قوم و مذہب امن کا درس دیتا ہے خصوصاً مذہب اسلام امن و شانتی کا سب سے زیادہ درس دیتا ہے اور بلا وجہ کسی جان دار کو یا کسی شخص کو ایذا دینے سے سخت منع کرتا ہے حتیٰ کہ اگر کوئی راستے سے اس نیت سے پتھر ہٹاۓ کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے تو اس پر بھی ثواب ہے تو پھر ماب لنچنگ یا کسی کمزور کو ستانے کی اجازت اسلام دے ہی نہیں سکتا اس لیے اسلام اور مسلمان پر بے جا جو الزامات لگائے جاتے ہیں بے بنیاد اور  باطل ہیں۔ لہذا نفرت و عداوت،انتہا پسندی بغض و عناد وغیرہ کو بالائے طاق رکھ کر ہم ہندوستانیوں چاہیے کہ آپس میں مل جل کر محبت و اخوت کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کریں اور ایک ہندوستانی بن کر ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے اپنا اور اپنے وطن عزیز کا نام اپنے عظیم کارناموں سے پوری دنیا میں روشن کریں اور سارے جہان کو اپنے کردار سے امن و شانتی کا پیغام دیں ساتھ ہی اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ
یہ ملک ہندو مسلماں سبھوں کا ہے اظہر
امن سے رہنا سکھاتا ہے یوم آزادی
محمد اظہر شمشاد
برن پور بنگال
8436658850