ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی

94
ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی
مدرس سلفیہ مسلم انسٹچوٹ پرے پورہ
رابطہ نمبر:6005465614
آخرت کو بھول بیٹھا فکر دنیا کے عوض
موت کا حملہ اچانک بے خبر کیسا لگا؟
ہنستے ہنستے تو نے دنیا میں گزار دی زندگی
اب نیا زیرزمین تنگ گھر کیسا لگا؟
موت وہ حقیقت عینی ہے جس کا انکار ملحدین اور دھرئے بھی نہیں کرتے۔دنیا کی رونق جو کہ چار دن کی چاندنی کے مترادف ھے عارضی اور وقتی یے جسے دوام حاصل نہیں، پھر بھی ہم نے دنیا کو اپنا اصل مسکن بنا رکھا ہے تبھی تو اس کی جدائی کا خوف رکھتے ہیں حالانکہ دارالقرار آخرت کا ہی گھر ہے جہاں ہماری ابدی اور لافانی زندگی رکھی گئی ہے۔دنیا کے دھوکے پر اپنی جان نچھاور کرانے والے صریح دھوکے میں پڑھے ہوۓ ہیں، دنیا کی حیات فقط لہو و لعب اور متاع الغرور ھے۔یہ حقیقت جاننے کے باوجود جو شخص اسی حیات کو ترجیح دے گا یقیناً وہ نادان ھے۔موت سے وہی لوگ گھبراتے ہیں جنہوں نے پوری عمر دنیا کمانے اور خرچ کرنے میں ضائع کردی۔ موت سے وہی اشخاص گھبراتے ہیں جن کے پاس زاد آخرت جمع نہیں۔ دنیا کے محبت جس کے دل میں گھر کر جاۓ اسے اپنا غلام بنا دیتی ہے۔ یقیناً اللہ عزوجل کی بندگی کرنے والے موت کو باعث رحمت سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی اصل نظریں آخرت پر ہوتی ہیں جو کہ اصل آرام گاہ یے اور جو افراد دنیا کی پرستش کرتے ہیں یقیناً وہ موت کو جام زہر تصور کرتے ہیں۔اس وقت اموات کی کثرت ہماری آنکھوں کے سامنے ھے۔ لوگ موت سے بھاگنے کے لئے مختلف تدابیر اپنا رہے ہیں، تدابیر اپنانا کوئی بری شیء نہیں البتہ یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ہمیں ایمان سے زیادہ اپنی جان پیاری ھے کیونکہ اپنی جان بچانے کے لئے کس طرح ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں لیکن ایمان بچانے کے لئے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں جو اس بات کی واضح دلیل ھے کہ آخرت پر ہمارا ایمان کامل نہیں جو کہ خطرے کی بات ھے۔ فرمان ربانی ھے کہ، “ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعتا کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں”.(آل عمران، 3 : 185) اس آیت مبارکہ کے اندر رب تعالیٰ نے پوری زندگی کا خلاصہ بیان کیا ھے، اب ہر کوئی اپنے آپ کو اس میزان پر رکھ سکتا ہے کہ اس کے اقدام کس جانب بڑھ رہے ہیں۔دنیا کا مال و متاع اکٹھا کرنا بنی آدم کا مشغلہ بن چکا ھے کیونکہ نمرود و شداد کی طرح فکر ایسی بن چکی ھے کہ دنیا ھی ہماری جنت ھے، یہ ذھن اہل ایمان کا نہیں ہوسکتا بلکہ منکرین باری تعالیٰ کا ھے۔
اجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا
اسی سے سکندرسا فاتح بھی ہارا
ہر ایک چھوڑ کے کیاکیا حسرت سدھارا
پڑا رہ گیا سب یہیں ٹھاٹ سارا
موت کا ایک دن معین ھے اور کوئی اس دن کی خبر نہیں رکھتا لیکن یہ ایمانی نقطہ ھے کہ موت میں نہ تو اجلت ہوگی اور نہ ہی تاخیر۔جیسا کہ قرآن کا اعلان ھے کہ،”پھر جب ان کا مقرر وقت آ پہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں”.(النحل، 16 : 61)موت کی جگہ، موت کا وقت سب مقرر کردیا گیا ھے پھر موت سے کون باگ سکتا ھے۔ اسی لئے جو شخص تقدیر پر ایمان رکھنے والا ھے وہ اس وبائی قہر میں بھی اطمنان میں ھے۔فرمان باری تعالیٰ ھے کہ، “اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے (یعنی علیم بالذات ہے اور خبیر للغیر ہے، از خود ہر شے کا علم رکھتا ہے اور جسے پسند فرمائے اسے باخبر بھی کردیتا ہے)”.(لقمان، 31 : 34) زمین پر زندگی بسر کرنے والا موت سے اس لئے بھی ڈرتا ھے کہ عمر بھر کی کمائی کا خاتمہ ہوگا، عمر بھر جو کچھ حاصل کیا وہ ہاتھ سے چلا جائے گا، یہ اسی بات کا نتیجہ ھے کہ ہم نے دنیا کو آخرت کے لئے استعمال نہیں کیا۔اگر دنیاوی زندگی آخرت سنوارنے میں بسر کی ہوتی تو یہ سب کچھ نہ دیکھنا پڑتا۔کورونا وائرس کے مرض سے خود کو بچانے کے لئے لوگ  گھروں میں محصور ہوچکے ہیں جو اس آیت کی عملی تصویر پیش کرتی ھے۔فرمان کبریائی ھے کہ، “ان سے کہو کہ جس موت سے تم لوگ بھاگتے ہو وہ بہرحال تم کو آکر رہے گی”.موت سے فرار ممکن نہیں۔ اگرچہ تدابیر اپنانا شریعت کے منافی نہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ھے کہ ہم یک طرفہ دیکھ کر اصل وجوہات اور حقیقی تدابیر سے غافل رہتے ہیں۔
جس کو دیکھو غمِ معاش میں ہے
اور سے اور کی تلاش میں ہے
تھا جو مقصود مل نہیں پایا
مبتلا صرف کاش کاش میں ہے
دنیا  سے رحلت اختیار کرنا اور اپنے عزیز و اقارب سے وصل اختیار کرنا یقیناً درد خیز ھے لیکن اس سے کون خود کو بچا سکتا ھے۔ دنیا کی جدائی کوئی بڑا مسئلہ نہیں البتہ آخرت کا خسارہ اصلی پریشانی اور حقیقی دکھ ھے۔سفر آخرت کے لئے زاد راہ جمع کرنا عقلمندی کا کام ھے جس سے اکثر لوگ کنارہ کشی اختیار کرچکے ھے۔ فرمان باری تعالیٰ ھے کہ، “اور تم اس (مال) میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو قبل اِس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے پھر وہ کہنے لگے : اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کی مہلت اور کیوں نہ دے دی کہ میں صدقہ و خیرات کرلیتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتاo اور اللہ ہرگز کسی شخص کو مہلت نہیں دیتا جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے، اور اللہ اُن کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو”۔ (المنافقون، 64 : 10، 11)دوسری آیت مبارکہ میں اللہ کا فرمان ھے کہ، “یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی (تو) وہ کہے گا : اے میرے رب! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہو گا، اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے”.(المؤمنون، 23 : 99، 100)
خاک مٹھی میں لئے قبر کی یہ سوچتا ہوں
انسان جو مرتے ہیں تو غرور کہاں جاتا ہے ؟
وقت کا تقاضا ھے کہ رجوع الی اللہ میں پہل کریں۔ اعمال صالحات کا ذخیرہ جمع کریں، ماضی کی غفلت پر شرمندہ ہوکر اللہ تعالٰی سے بخشش طلب کریں۔عقائد و عبادات، معاملات و اخلاقیات کے بگاڑ کو صحیح کریں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملے میں محتاط رہیں اور جو کمی کوتاہی رہی ھے اسے پورا کرنے کے لئے قبل از وقت فکرمند ہوجائیں۔ یہ وقت سوچنے کا نہیں ھے، یہ وقت خود کو تسلی دینے کا نہیں ھے۔ موت کے بعد اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ھے۔موت سے پہلے ہی موت کی تیاری کرلیں۔لوگ کثرت سے قبروں کی زینت بن رہے ہیں، اس سے عبرت حاصل کرلیں۔ فرمان نبوی ﷺ ھے کہ، “میں تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، اب زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا میں زاہد بناتی ہے (دنیا کی دولت سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے) اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘(اسے امام ابن ماجہ اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے) بعض آثار میں یہ بات بھی آئی ھے کہ، “اثْنَتَانِ یَکْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ : الْمَوْتَ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَیَکْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ”، “دو چیزوں کو آدم کا بیٹا برا سمجھتا ہے (ایک) موت کو جب کہ موت اس کے لئے آزمائش سے بہتر ہے اور کم مال و دولت کو جب کہ کم مال و دولت کا حساب بھی کم ہو گا۔‘‘(اسے امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے، اور اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں)۔
امتحاں ہر قدم پر ہے تیرا تجھ کو احساس مرے یار نہیں
آج موقعہ ہے فکر فردا کر کل پہ کچھ تجھ کو اختیار نہیں
سلف و صالحین میں سے بعض سلف بیان کرتے ہیں کہ، “اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب بھی میں آنکھ جھپکتا ہوں تو مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں پلکیں اکٹھی ہونے سے پہلے ہی میری جان قبض نہ کر لی جائے اور میں جب بھی کسی چیز کی طرف نگاہ اٹھاتا ہوں تو مجھے گمان گزرتا ہے کہ نگاہ نیچی کرنے سے پہلے میری جان قبض کر لی جاے گی اور میں جب بھی کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ اسے پیٹ تک نہیں پہنچا سکوں گا اور اس سے نفع اندوز نہیں ہو سکوں گا بلکہ عین ممکن ہے کہ یہی لقمہ گلے میں اٹک جائے اور موجب موت بن جائے (یعنی ہر وقت اور ہر لحظہ موت سر پر کھڑی محسوس ہوتی تھی اور کسی لمحہ اس سے غافل نہیں ہوتے تھے) پھر فرمایا : اے بنی آدم! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے کو اموات میں شمار کرو۔ اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جس (موت، قیامت اور عذاب و ثواب) کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے وہ لامحالہ آنے والا ہے اور تم اللہ تعالیٰ کو اور اس کے ملائکہ کو عاجز کر دینے والے نہیں ہو۔‘‘۔(اس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے)۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ایسے افراد کی موت سامنے آئی جو  فخر و غرور میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کافی کچھ بکواسات کیا کرتے تھے لیکن آج برزخی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسے افراد کی موت واقع ہوئی جو طاقت کے بل بوتے پر مظلوم اور مجبور لوگوں پر حد سے زیادہ ظلم و تشدد کیا کرتے تھے لیکن آج اللہ کے حضور حساب دے رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول یاد آتا ھے کہ، “أَيْنَ الوضآء، الحسنۃ وجوھھم، المعجبون بشبابھم؟ أین الملوک الذین بنوا المدائن وحصنوھا بالحیطان؟ أین الذین کَانوا یعطون الغلبۃ في مواطن الحرب؟ قد تضعضع بھم الدھر، فأصبحوا في ظلمات القبور، الوحا الوحا، النجاء النجاء۔”.یعنی ، “کہاں ہیں خوبصورت چہروں والے جو اپنی جوانیوں پر ناز کرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ بادشاہ، جنہوں نے شہر بنائے اور ان کے گرد فصیلوں کے ساتھ قلعے تعمیر کئے؟ کہاں ہیں وہ فاتحین، جنگوں میں کامیابی جن کے قدم چومتی تھی؟ زمانے نے ان کا نام و نشان مٹا ڈالا۔ اب وہ قبروں کے گھور اندھیروں میں پڑے ہیں۔ افسوس! افسوس! نجات! نجات!۔”.( أخرجه أبو نعیم في حلیۃ الأولیاء) نیز فرماتے ہیں کہ، “فإن أقوامًا جعلوا آجالھم لغیرھم، ونسوا أنفسھم، فأنھاکم أن تکونوا أمثالھم، الوحا الوحا، النجا النجا، إن وراءکم طالبًا حثیثًا أمره سریع”. یعنی، “بہت سے لوگوں نے اپنی عمریں دوسروں کے لیے داؤ پر لگا دیں جبکہ اپنی ذات کو بھول گئے۔ میں تم کو روکتا ہوں کہ تم انکے مثل نہ بن جانا۔ خبر دار! خبردار ! نجات! نجات! موت تمہارے تعاقب میں ہے، جو تیزی سے آن دبوچے گی۔” (أخرجه ابن أبي شیبۃ في المصنف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ، “دنیا سے زہد اختیار کرنے والے اور آخرت میں رغبت رکھنے والے کے لئے خوشخبری ہے۔ انہی لوگوں نے زمین اور اس کی خاک کو بستر بنایا۔ اس کا پانی مشروب بنایا۔ قرآن اور دعا کو ذریعہ ہدایت سمجھا”.
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ، “اگر تم دیکھ لو جو کچھ تم موت کے بعد دیکھو گے تو تم کبھی بھی شہوت کے ساتھ نہ کھاؤ اور نہ ہی شہوت کے ساتھ پیؤ اور نہ ہی کسی ایسے گھر میں داخل ہو جس میں تم دھوپ سے بچ سکو۔ اور تم یقینا مٹی کے لئے حریص ہوجاتے، اپنے سینوں کو مارتے اور اپنے آپ پر روتے۔ کاش میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا اور پھر کھا لیا جاتا۔‘‘
چمک سی ایک فریبِ امید کی جو نہ ہو
جو موت کا ہے وہی رنگ ہے جدائی کا
اب ہمیں باز آنا ہوگا، وہم و خوف سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ عملی کردار ادا کرکے خود کو آنے والی زندگی کے لئے تیار کرنا ہوگا۔ اللہ سے دعا ھے کہ ہمیں فکر آخرت عطا کرکے حقیقی حیات کی تیاری کرنے کی توفیق عنایت فرماۓ۔۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔