جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہارات  ملک کی موجودہ صورت حال کے تدارک کے لئے ملی...

  ملک کی موجودہ صورت حال کے تدارک کے لئے ملی وسماجی سطح کی سرکردہ مسلم تنظیم مولانا سید طارق انور

*مسلمانوں کو آئینی حقوق سے محروم کرنا آسان نہیں*

ملک کی موجودہ صورت حال کے تدارک کے لئے ملی وسماجی سطح کی سرکردہ مسلم تنظیموں کی اعلی قیادت کے ایک مشترکہ وفد کو صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات کرکے اپنے جذبات واحساسات اورخدشات کا اظہار کرنا چاہیے۔ *مولانا سید طارق انور*

▪️ جب سے ملک میں ایک خاص ذہنیت والی سیاسی جماعت اقتدار نشیں ہوئی ہے، تب سے ایسا محسوس ہوہاہے کہ اب اس ملک میں جمہوریت،سیکولرزم اور عوامی حکومت برائے نام رہ گئی ہے،مذموم نظریات کی حامل ایسی جماعت اقتدار پر قابض ہے جو اپنے غیر آئینی عزائم کی تکمیل کے لئے بھارت کی یگانگت،اتحاد ویک جہتی اور مذہبی ہم آہنگی کوپارہ پارہ کرنے پر آمادہ ہے،جو عوام کو جوڑنے میں نہیں بلکہ ان کا شیرازہ بکھیر کر اپنے مقاصد کی تکمیل کا خواب بن رہی ہے،عدل وانصاف اب آئین ودستور کو دیکھ کر نہیں حکومتی اہلکاروں کی منشا کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے جارہے ہیں، آئین ودستور اور جمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھ کراقلیتوں کو ان کے دستوری و آئینی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے،ملک میں جس طرح سے ایک فرقہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے،ایسا کبھی نہیں ہوا۔ملی جماعتوں کی خاموشی اور کاہلی بھی ان مظالم کو فروغ دینے کی راہیں ہموار کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نامور سماجی خدمت گار مولانا سید طارق انور نے کیا،وہ آج اخبارات کے نمائندگان سے ملی مسائل پر بات چیت کررہے تھے۔

نوجوان مفکر اور سماجی تجزیہ نگار مولانا طارق انور نے کہا کہ آئے دن بھارتی مسلمان فرقہ پرستوں کے عتاب کا شکار ہورہا ہے،جگہ جگہ سماج دشمن عناصر کا گروہ اپنے نرغے میں لے انہیں موت کے گھاٹ اتار رہا ہے، تعلیمی اداروں میں اشتعال انگیزی کے ذریعے ان کے صبرو ضبط کو جھنجوڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں،کہیں حجاب کے سبب مسلم طالبات کو کالجوں میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے،کہیں مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکا جارہا ہے،مدارس پر چھینٹا کشی کی جارہی ہے،مسلمانوں سے روزگا چھینے جارہے ہیں،مسلم تاجروں کو طرح طرح سے پریشان کیا جارہا ہے،بے قصور نوجوانوں کو الٹے سیدھے الزامات کے تحت جیل میں ٹھونسا جارہا ہے مگر اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ہماری ملی جماعتوں کی طرف سے ان مظالم کے سدباب کے لئے کوئی مضبوط اور عملی اقدامات سامنے نہیں آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنے کے ارادے سے کی جانے والی کاروائیوں کو اخباری بیان بازی سے روکنا ممکن نہیں ہے اور نہ انفرادی کوششوں سے اس زعفرانی زہر آلود فضا کی آلودگی سے ملک وملت کو محفوظ بنایا جاسکتاہے۔اب ضرورت ہے کہ ملک کی سرکردہ ملی جماعتیں بلا امتیاز مسلک سر جوڑ کر بیٹھیں اور نوجوانوں اور مسلمانوں کو مایوسی کے نفیسات سے باہر نکالنے کے لئے کوئی سنجیدہ لائحہ عمل تیار کرنے پر غوروفکر کریں اورموجودہ ناگفتہ بہٰ حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ملک کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ وفاق بنانے پر پیش رفت ہو۔

مولانا طارق انور نے کہا کہ ماضی میں بھی مسلم طبقے پر اسی طرح کا دور آیا تھا لیکن ہمارے رہبروں نے اپنی کوششوں سے مسلم طبقے کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیا تھا، جب احتجاج کی ضرورت ہوئی تو احتجاج کیا، جیل جانے کی ضرورت ہوئی جیل گئے،جب جانی قربانی دینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بے دریغ پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم دانشوران اور قومی رہبران سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک عزیز کو انگریزوں والی ڈگر پر لے جانے والوں کا راستہ روکیں،آئین کی بالادستی کے لئے آئینی اداروں کے بالائی سطح کے لیڈروں سے مذاکرات کے ذریعہ ملک میں مفلوج ہو رہی جمہوریت کو بحال اور ہرحال میں آئین کا راج عملی صورت میں قائم رہنے کا راستہ ہموار کیا جائے اور اس ہولناک صورت حال و عصبیت وتنگ نظری کے ماحول سے ملک کو باہر لانے کے لئے سرکردہ مسلم تنظیموں کی اعلی قیادت کا ایک مشترکہ وفد صدرجمہوریہ سے ملاقات کرکے اپنے جذبات و خدشات اوراحساسات سے انہیں آگاہ کرنے اور ہر ریاست کے گورنر کو میمورنڈم دیکر احتجاج درج کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے