ملک کا طبی نظام اور ڈاکٹر و ہسپتال کی لوٹ کھسوٹ

30

ملک کا طبی نظام اور ڈاکٹر و ہسپتال کی لوٹ کھسوٹ

*تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور*
اِنسانوں سمیت تمام مخلوق اللہ رب العزت نے پیدا فر مائی۔انسان یا دوسری مخلوق پیدا ہوئی ہے تو مرے گی بھی؟بیماری سے ایکسیڈینٹ وآفات ِنا گہانیوں سے وغیرہ وغیرہ۔ انسان سمیت سبھی مخلوق کا بیماری سے چولی دامن کا ساتھ ہے، یہ اور بات ہے کہ انسان اشرف المخلوق ہونے کی وجہ کر اس کو اپنی تکلیف وبیماری کا جلدی پتہ چل جاتا ہے اور وہ علاج و معالجہ کی جانب توجہ دیتا ہے۔ جانوروں کی بیماری کا پتہ دیر سے چلتا ہے ان کے علاج کے بھی طریقے اور ڈاکٹر موجود ہیں۔

بہترین صحت اور زندگی اللہ کی دی ہوئی عظیم نعمتیں ہیں !:

رب تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں میں تندرستی اورجان یعنی زندگی رب العا لمین کی امانت ہے اس کی قدر کرنی چاہیے۔
بقول غالبؔ

تنگ دستی اگر نہ ہو غالبؔ

تن درستی ہزار نعمت ہے

انسان آخری سانس تک زندگی بچانے، بڑھانے کے لیے علاج، معالجہ اورتدبیر ہر ممکن کوشش کرتا ہے، آخر میں پھونک،جھاڑ اور دُعائوں کا سہارا لیتا ہے۔

قدرِصحت اور قدرِ جان مریض سے پوچھو؟

بہت مشہور ہے health is wealth صحت کی دولت ہی سب سے بڑی دولت ہے جان کی قیمت کا مفہوم تو وہی جانتا ہے جو خود کسی بیماری میں مبتلا ہو؟ کیونکہ بہت مشہور کہاوت ہے اور سچ ہے۔’’ جان ہے تو جہان ہے‘‘

جنبش لب کا تو مفہوم یہی ہے دشنام

اور کیا مجھ کو دعا تم تہ لب کرتے ہو (قائم)

جو شخص کسی بیماری کی زد میں ہو اور دن رات بیماری کی ٹیس،تکلیف میں تڑپ رہا ہو،وہی جانتا ہے دوسرا نہیں ؟ مریض کی اس مشکل میں اگر عزیز و اقارب اوردوست شامل نہ ہوں تو یہ تکلیف دوگناہو جاتی ہے۔اسلام میں ـ” تیماداری “(مریض کی دیکھ بھال، مریض کے آرام کا خیال رکھنا، بیمار پُرسی کرنا،داوائی دینا،خبرگیری رکھنا،غمگُسَارِی کرنا) ایک خوبصورت اور نفیس جذبہ ہے جس سے مریض کو یہ باور کرا جاتا ہے کہ اس پریشانی میں وہ تنہا نہیں ہے! جس سے اس کی ہمت بندھ جاتی ہے۔ تکلیف کم محسوس ہوتی اور مریض کوڈھارس( حوصلہ،دل کی مضبوطی،اطمینان۔) ہوجاتا ہے اور مریض کو ڈھارس بندھانے والوں کو ثواب بھی ملتا ہے۔ تیماداری کرنے کے نتیجے میں مریض کا مدافعتی نظام، مرض سے دفاع self-defence مزاحمت،و بچائو مضبوط ہوکر بیماری سے بہتر انداز میں لڑنا شروع کردیتا ہے۔

علاج کے بدلتے طریقے،ہسپتال واِنشورنس کمپنیوں کا جال:

مہنگا علاج، تڑپتا مریض، بدحال رشتے دار- ڈاکٹر و ہسپتال اور انشورنس کمپنیاں ہورہی ہیں مالامال۔ جیسے جیسے دنیا ہر شعبے میں ترقی کررہی ہے اسی طرح علاج ومعالجے Medical کے طریقوں میں بھی ترقی ہوئی ہے۔ پر جہاں علاج کے طریقوں میں بہتری آئی وہیں مریض کے علاج کے خرچ میں بہتری کے بجائے لوٹ،کھسوٹ کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے اب ڈاکٹری پیشہ مسیحائی کم، لُٹیرے گینگ کی طرح ہر چہار جانب سے مریض کی کھال بلکہ مرے مریض کی بھی کھال تک نوچنے لگے ہیں۔ ہردن اخبارت ونیوز میں خبریں آتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر، ہسپتال،انشورنس کمپنیاں اور پورے نظام میں صرف اور صرف روپیئے کمانا ہی مطمع(لالچ، روپیے کمانا) ہی مرکزِ نگاہ رہتا ہے۔ میڈیکل لائن میں اب انسانیت کی بہت کمی ہوگئی ہے دوچار کو چھوڑ کر اِلا ماشا اللہ پورے آوے کا آوا ہی بگڑا ہے کس کس بات کا رونا رویا جائے۔ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ کی پھٹکار ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو پڑ چکی ہے،لیکن افسوس پیسے کمانے کی ہوڑ میں اب نہ حکومت کا ڈر ہے اور نہ ہی عدلیہ کا؟ یہ اچھا سنکیت نہیں۔ اب اس لوٹ میں اِنشورنس کمپنیاں بھی ہمدر دی کے نام پر، برساتی کوٹ پہن کر خوب خوب نہا رہی ہیں !۔

صحت بیمہ کے نام پرلوٹ:

آج کل نوکریاں کرنے والوں کو انشورنس پلان لینا پڑتا ہے، دوسرے لوگ بھی صحت کابیمہ کراتے ہیں ہیلتھ انشورنس کیا ہے؟ فوائد کی و ضاحت، کا جا ننا بہت ضروری ہے۔ نوکری کرنے والوں کو اُن کی تنخواہ کے مطابق صحت کابیمہ کرانا لازمی ہوتا ہے، خاص کر باہری ملک میں نوکری کرنے والوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں بہت سو ں کو برائے نا م سہولت ملتی ہے۔زیادہ تر حضرات جب واپس ہوتے ہیں اس وقت معاہدہ کی تاریخ نہیں پوری ہوتی ہے،دوبارہ اسی جگہ گئے تو ٹھیک ورنہ پھر نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے اور کئی طرح کی رکاوٹیں آتی ہیں۔ نجی کمپنی میں نوکری کرنے والوں اور سر کاری نوکریاں کرنے والوں کو کلینک اور ہسپتالوں میں ہیلتھ انشورنس کے کارڈ کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے۔ اِ ن کارڈ وں کے ذریعہ علاج بہت مہنگا ہوتا ہے،آج علاج مہنگا ہونے کی یہ بھی بڑی وجہ ہے۔ اب رفتہ، رفتہ ہیلتھ انشورنس کمپنیاں اپنا دائرہ وسیع کرتے جارہی ہیں، جیسے نوکری کرنے والوں کے والدین کے لیے بھی انشورنس کرنے لگی ہیں۔ انشورنس کی تھوڑی رقم آدمی جہاں کام کرتا ہے وہ دیتی ہیں باقی کام کرنے والے کی تنخواہ سے لے لیا جاتا ہے۔ یہ رقم پانچ ہزارسے پینتالیس ہزار تک یا اس سے بھی زیادہ تک ہوتی ہے۔تب ہیلتھ انشورنس کمپنیCashless Health insurance card کارڈ دیتی ہے،اس کے ذریعہ کارڈ ہولڈر اسپتالوں میں جاکر فری علاج کراتے ہیں۔ اس میں کیا کیا فوائد ہیں کیا کیا نقصانات ہیں ایک لمبی فہرست ہے کیا کیا لکھوں ؟۔ کارڈ رکھنے والا یہ سوچتا ہے ہم چاہیں تو کسی بھی ہسپتال میں جاکر لیٹ سکتے ہیں، توبہ سوبار توبہ اللہ سے اللہ بیماری سے بچائے آمین۔ کارڈ ہولڈر مریض کو ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر گدھ کی نظر سے دیکھتے ہیں مریض آئے اور نوچنا شروع کریں، سب سے پہلے بھرتی ہوئے مریض سے ڈاکٹر بیماری پوچھنے سے پہلے،ہیلتھ انشورنس کی مالیت ویلو، پوچھتا ہے۔یعنی کتنے کا انشورنس ہے پانچ لاکھ دس لاکھ وغیرہ وغیرہ پھر یہاں سے مریض کا علاج کم بل پر توجہ مر کوز رہتی ہے بہت سی مثالیں موجود ہیں مضمون طویل ہو جائے گا ایک ملاحظہ فر مائیں۔

ہمارے بڑے بھائی حاجی محمد قاسم صدیقی پرانے شوگر مریض اور سانس لینے کی تکلیف میں ایک معرف ہسپتال میں بھرتی ہوئے ایک ہفتہ علاج چلا خاطرِ خواہ فائدہ نہیں ہوا لیکن بل ویلو بڑی تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ایک ہفتہ بعد ہسپتال کی ایمر جنسی ڈیپارٹ سے فون آیا۔ جانے پر وہاں کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر نے کہا کہ ان کو ہارٹ کا پرابلم ہے کل صبح 9 بجے آپریشن ہو گا میں گھبرا گیا بھائی کے چھوٹے بیٹے محمد خادم سے پوچھا ان کے ہیلتھ انشورنس پالیسی کا کیا ویلو ہے لڑکے نے بتا یا دس لاکھ،ڈاکٹر کے پوچھنے پر میرے کان کھڑے ہو گئے اور میں ہوشیار ہو گیا۔میں اندر گیا جا نے نہیں دے رہے تھے میں نے ضد کیا تو جانے دیے، بھائی صاحب سے میں نے پوچھا کیا حال ہے انھوں نے سب ٹھیک بتایا میں باہر آکر ڈاکٹر سے ملنے کی کوشش کی ہسپتال میں ڈاکٹر کے رہتے ہوئے نہیں ملنے دیا گیا نہ ہی فون نمبر دیا گیا اور کہا گیا اب مریض سے کوئی نہیں ملے گا۔ میں نے فوراً پونے فون لگایا محمد کاظم کے پاس جو بھائی صاحب کا بڑا لڑ کا ہے وہ “سام سنگ کمپنی “samsung company کا ایریا منیجر ہے۔اور رفعت البشریٰ ان کی بیٹی جو کمپنی میں ایچ آر ہے کہ آپ لوگ ہسپتال انتظامیہ کو میل کریں، فون کریں کہ آ پ لوگ آپریشن نہ کریں مریض کو ہم لوگ باہر لے جائیں گے۔ڈاکٹر نے مجھے بلاکر بہت سخت سست کہا کہ آپ ڈاکٹر ہیں یا میں وغیرہ وغیرہ دوسرے دن صبح ہم لوگوں نے مشکل سے مریض کو ہسپتال سے نکالا۔پھر ڈاکٹر علیم الدین اے خان dr,Alimuddin A, khan کو دکھا یا علاج ہوا (شفا ہوئی الحمدُ للہ) علاج مہنگا ہوا ہے اس کا ایک سبب انشورنس کمپنیوں کے آفیسران جو ہسپتال کی کیبن میں بیٹھے رہتے ہیں ڈاکٹروں سے باتیں کرتے رہتے ہیں اور بل ٹائم ٹو ٹائم پاس کرتے رہتے ہیں اور اس کھیل میں انشورنس کمپنیوں کے آفیسران،ہسپتال،ڈاکٹر، پورا منجمنٹ خوب خوب لگے رہتا ہے۔ بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اللہ ہم سب کو صحت و تندرستی وعافیت کی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین-
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ