ملک میں عوامی بےچینی کی وجوہات!

45
محمد قاسم ٹانڈؔوی
ملک کے موجودہ حالات اور سیاسی افکار و نظریات کے علمبرداروں میں اس وقت جو رسا کشی اور بےچینی کی صورتحال نظر آ رہی ہے، اس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں ملک کی سلامتی، آئینی تحفظ اور عوام کی ترقی و خوشحالی کو لےکر طرح طرح کی چہ مگوئیاں، مختلف قسم کے اندیشوں اور خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اور ان اندیشوں و خطرات کے دائرہ میں جہاں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ویسے ہی ملک کی سیاسی فضا مکدر اور قانونی حکمرانی کا دائرہ کم سے کمتر ہوتا جا رہا ہے۔ اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ خارجی طاقتوں کا ڈر و خوف ہے، جو ہر وقت حفاظتی دستوں کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی کے سبب ملک کی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے پیش نظر سب کو ستاتا رہتا ہے، اس لئے کی جدید ٹیکنولوجی کی آمد نے جہاں عوام کی زندگی کی بھاگ دوڑ اور اس کی رات و دن کی مصروفیت کی شدت کو آسانیوں میں تبدیل کیا ہے، وہیں اس جدید ٹیکنولوجی کے سائڈ افیکٹ بھی کثرت سے سامنے آتے رہتے ہیں، جس سے ہر وقت ملک کی سلامتی اور مالی تحفظ کا شدید خطرہ لاحق رہتا ہے۔
بارہا مرتبہ دیش سے غداری اور ملک کی سلامتی سے کھلواڑ کرنے والوں تک ہماری خفیہ ایجنسیوں کی رسائی ہوئی اور وہ جعلی اور فرضی دھندوں میں ملوث پائے گئے، اور ایسا بھی ہوا کہ آئینی عہدہ سنبھالنے والا ملک کے خفیہ راز اور سلامتی سے متعلق اہم دستاویز و نقشے پڑوسی ممالک کو شئر کرتا پا گیا، مگر بدطینت اور اخلاقی و قانونی مجرموں کے ناپاک عزائم و مقاصد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس لئے کہ پیشہ ور عناصر اور مجرموں کےلئے اس میں سب سے بڑی آسانی اسی جدید ٹیکنالوجی نے پیدا کی ہے۔ اور عوام بشمول ہماری حکومت اسی ٹیکنولوجی کے حصول و برآمدات پر فرحا و نازاں رہے، اور اس کے تدارک و اسباب پر کوئی پیش رفت نہیں کی، جس سے کہ قومی ملکی سلامتی اور عوامی تحفظ میں مدد ملتی۔ اور اگر کسی موقع پر کسی آفیسر نے کچھ ہمت کر انصاف کی طرف پہل بھی کی تو اس کو یا اس کی آواز کو خاموش کر دیا گیا، اور کچھ نہیں ہوا؟ اسی وجہ سے آئے دن لوگوں کے بینک اکاؤنٹ سے رقم چوری کرنے کی خبریں سامنے آتی ہیں، جس میں ہیکرز کا ہاتھ بتا کر بات آئی گئی کر دی جاتی ہے، مگر رقم وصولی یا ہیکرز کو قانونی شکنجے میں لانے کا اقدام نہیں کیا جاتا، قانونی دستاویزات چوری ہوتے ہیں، وقفہ وقفہ سے سرکاری فائلیں گم ہونے کی اطلاعات موضوع بحث بنتی ہیں، مگر حقیقی مجرم کو کبھی سامنے نہیں لایا جاتا، کیوں اس لئے کہ اس کے مراسم و تعلقات کہیں نہ کہیں کسی اعلی ذات یا بلند مناصب شخصیت سے مربوط ہوتے ہیں۔ ورنہ تو جیسے اگر مجرموں کی بروقت گرفتاری ہو جاتی ہے، ویسے ہی ان کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے تو آئندہ کےلئے سارا معاملہ ہی ختم ہو جائے۔ مگر نہیں؛ بس ان سے دکھاوے کے طور پر پوچھ تاچھ کی، ظاہری طور پر ڈرایا دھمکایا اور رہا کر دیا، اس لئے کہ ان کا تعلق اکثریتی فرقہ سے تھا۔ جس کا نتیجہ اگلی بار اس شکل میں ظاہر ہوتا ہے کہ دیش دروہی اور وطن سے غداری میں ملوث و منہمک یہ جرائم پیشہ گروہ شاید اپنا معاہدہ فائنل اور منافع وصول کرنے کے واسطے اگلی بار اور بھی زیادہ طاقت و توانائی اور ہوشیاری کے ساتھ میدان میں ڈٹا ہوا پکڑا جاتا ہے۔ ورنہ اگر جیسے بروقت ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ویسے ہی اگر ان کے خلاف سخت سے سخت تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی تو آئندہ کسی کی ہمت نہ ہوتی۔
ملک کی سلامتی اور اس کے خفیہ اداروں کی اہم پالیسیاں کتنی محفوظ ہیں؟ اور ان کو  کسی طرح بیچا اور خریدا جاتا ہے؟ اس کا ثبوت اور انکشاف گزشتہ ہفتے اے ٹی ایس کی وہ کارروائی ہے جس میں اس کے ہاتھوں مغربی یوپی کے کئی شہروں سے موبائل سم کارڈ فروخت کرنے والا مافیا ہتھے چڑھا ہے جو لوگوں کی آئی ڈیز اور ان کے ضروری دستاویزات میں ہیر پھیر کر سموں کو فروخت کرتے پکڑا گیا ہے، یہ گروپ مغربی یوپی کے شہر امروہہ، مراداباد، سنبھل، چندوسی، بدایوں اور راجدھانی دہلی سے متصل ضلع نوئیڈا کے علاقے میں سرگرم و متحرک تھا۔ جس میں اے ٹی ایس کی طرف سے اس بات کا اندیشہ اور شک ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ سب غیر ممالک کو ملک کی پالیسیوں سے باخبر کرنے کے دھندہ میں مشغول یا حوالے کے پیسوں سے ملک مخالف کارروائی انجام دینے کی کوشش میں تھے۔ خیر وہ سب اب گرفت میں ہیں، آگے آگے دیکھئے، کیا ہوتا ہے؟
عوام کی بےچینی اور خلفشار کی دوسری بڑی وجہ آئے دن ہیبت و غمناکی پر مبنی مسلسل ایسی خبروں کا موصول ہونا ہے، جو یکا یک پورے سماج کو مبہوت و متحیر کر دینے والی ہوتی ہیں۔ جن میں راہ چلتے مسافر اور اجنبیوں کے جان و مال سے کھلواڑ ہوتا ہے اور ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اس لئے کہ فرقہ پرست اور شدت پسندوں کا “ٹانڈو” ہر جگہ جاری ہے۔ ایسے میں اگر ضروریات کی تکمیل میں صبح کو گھر سے نکلنے والا شام کو صحیح سلامت اپنے گھر اور اپنے بال بچوں میں پہنچ کر آرام کی سانس لےلے تو یہی اس کے لئے بڑی خیر کی بات ہوتی ہے اور وہ اس وقت اپنے مقدر اور اہل خانہ کی زندگی پر شکر گزار ہوتا ہے، کیوں کہ پست اور بیمار ذہنیت کی جو لابی ہمارے اس ملک میں بےلگام چھوڑ دی گئی ہے اس کی طرف سے ہر وقت عوام کو ڈر ستاتا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کون کس واہیات اور خرافات شئی کو بہانہ بنا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر ڈالے؟ شدت پسندوں کی یہ حرکت بھی اس وقت  پورے آب و تاب کے ساتھ منھ پھیلائے عوامی طاقت و اجتماعیت کا جنازہ نکالنے پر آمادہ ہے۔
اس کے علاوہ بھی ہیبت و انتشار اور ملک کے عوام کو غمناکی میں مبتلا کر دینے والی کئی وجوہات ہیں، جن سے عوام جوجھ رہے ہیں؛ جیسے: غریب مزدور اپنے اور اپنے اہل خانہ کے واسطے دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے، پہلے اسے نوٹ بندی نے ترسایا اور اب یہ طبقہ ‘لاک ڈاؤن’ کی مار برداشت کر رہا ہے، جو گرمی سردی سے بچاؤ اور اس کے اسباب کی خاطر لائن میں کھڑا کھڑا دم توڑ رہا ہے، تو وہیں ملک کا کسان بھی اپنے حقوق کی جنگ پچھلے دو ماہ سے دہلی سے متصل ریاستوں کی سرحد پر ڈیرا ڈالے لڑ رہا ہے۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ ان تمام حالات سے جوجھتے ہوئے ملک و ملت کو کم و بیش سات سال کا عرصہ ہو گیا، جس کا آغاز مئی؍2014 میں اسی وقت ہو گیا تھا جس وقت پونجی پنجیوں کی محبوب سرکار کی مرکز میں حلف برداری ہوئی تھی اور اس کی سرپرست تنظیم و زعفرانی جماعت کو اپنا خفیہ مشن پورا کرنے اور تحریک کو عروج بخشنے کا موقع ملا تھا۔