ملک ایک ممتاز عالم و فقیہ سے محروم ہوگیا

42

اس دنیائے فانی میں کسی کو دوام نہیں ، ہر ایک جانے ہی کے لئے آیا ہے۔کوئی سابق ہے تو کوئی لاحق۔ کل نفس ذائقة الموت۔ یہی حقیقت ہے ۔ دوام صرف ذات باری تعالی کو ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لیکن اس دور قحط الرجال میں دنیا سے اہل علم بڑی تیزی کے ساتھ اٹھتے جارہے ہیں اور اچھے لوگوں سے دنیا خالی ہوتی جارہی ہے، علماء، صلحاء، صوفیاء اور ماہرین علم و فن کا آئے دن جنازہ اٹھ رہا ہے۔ اس سے دل کافی مضطرب اور پریشان ہے۔ایک غم غلط ہوتا نہیں کہ دوسرا زخم آلگتا ہے۔ ؎

 

جو بادہ کش تھے پرانے اٹھتے جاتے ہیں

کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی !

 

چنانچہ ملک کے مقبول و ممتاز عالم دین، فقیہ العصر، دارالقضا امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے قاضی القضاة ،مدرسہ رحمانیہ سپول دربھنگہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی محمد قاسم مظفرپوری بھی داعی اجل کو لبیک کہہ کر راہی ملک عدم ہوئے۔ آج 12 محرم الحرام 1442 مطابق یکم ستمبر 2020 بروز منگل بوقت 3 بجے صبح مظفرپور زکریا کالونی اپنی رہائش گاہ میں انھوں نے آخری سانس لی اور ہزاروں محبین,متعلقین و متوسلین کو بے سہارا یتیم چھوڑ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت والا ایک عرصہ سے قلب کے عارضہ میں مبتلا تھے, ابھی کچھ دن پہلے حضرت پر فالج کا بھی حملہ ہوا تھا جس کے بعد سے حضرت کافی کمزور اور لاغر ہوگئے تھے,ادھر چند روز سے طبیعت کافی علیل چل رہی تھی, حضرت کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے ان کے متعلقین نے سب سے پہلے بہتر علاج و معالجہ کے لئے اوشا ہسپتال،جورن چھپرہ، مظفرپور کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا تھا,مگر وہاں بھی حضرت کی صحت میں خاطر خواہ افاقہ نہ ہوا, متعلقین نے باہمی مشورے کے بعد مظفرپور ہی کے ایک پرائیویٹ نرسینگ ہوم گلیکسی اسپتال میں داخل کرایا تھا.جہاں ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی میں حضرت کا علاج و معالجہ چل رہا تھا,جہاں خاطر خواہ فائدہ ہوا صحت میں بڑی تیزی سے بہتری بھی آئی۔ رو بہ صحت ہونے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج بھی کر دئے گئے مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

حضرت مولانا کا نام پورے ملک میں خصوصا شمالی بہار کے علمائے کبار میں آتا ہے،انھوں نے ایک لمبے عرصے تک مقبول ترین درس و تدریس اور علم و دین کی خدمت انجام دی، شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر فائز رہے،امارت شرعیہ کے جلیل القدر قاضی رہے۔ وہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے معزز تاسیسی رکن، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن، امارت شرعیہ کی مجلس عاملہ اور شوری کے رکن تھے۔ مختلف مدارس و مکاتب اور اداروں کے سرپرست تھے۔ درجنوں گراں قدر کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی کتابوں بطور خاص الادلہ الحنفیۃ اور آثار السنن پر تحقیقی کام سے اہل علم ہمیشہ استفادہ کریں گے۔آپ کی شخصیت علم و عمل کے اعتبار سے امتیازی حیثیت کی تھی,آپ حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق کار تھے,اور امارت شرعیہ کے حقیقی ترجمان بھی,صبر تحمل سے کام لینا آپ کی فطرت ثانیہ تھی,مدارس اسلامیہ میں پڑھنے والے طلبہ سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے,عام طور پر جب آپ طالبعلموں کے درمیان خطاب کرتے تو انہیں علم پر عمل کی تلقین کرتے اور کہتے کے علم وہی باقی رہتا ہے جس پر عمل کیا جائے,آپ ہر چھوٹی بڑی مجلس کے میر مجلس ہوتے,آپ کا حسن اخلاق اس قدر اعلی تھا کہ غیر مسلم بھی آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر آداب بجا لاتا, آپ سے جو ملا آپ کا اسیر ہوئے بغیر نہ رہا۔ آپ کی پوری زندگی علم ودین کی روشنی جلانے میں گذری ۔ زبان حال سے آپ کی صدا تھی :

 

میری زندگی کا مقصد ہرایک کو فیض پہنچے

میں چراغ رہ گذر ہوں مجھے شوق سے جلاو

 

حضرت مولانا نمونہ اسلاف اور اللہ کے ولی تھے، دنیا کی چمک دمک سے کوسوں دور انتہائی ساذج، جاہ و منصب سے کنارہ کش رہتے، بہار کے دیہاتوں کو اپنی خدمت اور توجہ کا مرکز بناتے، چھوٹے چھوٹے مدرسوں اور معمولی معمولی گاؤں کی دعوت قبول کرتے، کار،بائک حتی کہ پبلک بس سے سفر کرلیتے، اس لیے کہ ان کا مشن دور دراز علاقوں میں پڑی امت مسلمہ کی اصلاح تھی ، اسی لئے انہوں نے حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ کے مشورہ سے مظفر پور کے ایک گاؤں کو خصوصی طور پر تعلیمی،دعوتی و اصلاحی مرکز بنایاجو مدرسہ طیبہ ، مدرسۃ البنات اور مرکزی لائبریری کی شکل میں رواں دواں ہے،

اللہ تعالی نے قضاء میں آپ کو خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، چنانچہ آپ نے امارت شرعیہ کو اس میدان میں گراں قدر خدمات دیئے ہیں۔ فتاوی اور قضایا امارت شرعیہ پر نہائی کام کیا کیا۔ فیصلے فقہی عبارات کے حوالوں کے ساتھ کئے اور حکمت و مصلحت پر مبنی فیصلے دیئے۔ خوشی بختی ہے کہ کئی بار حضرت والا نے راقم کی مسلوں کے انداز تحریر کو دیکھ کر مسرت کے اظہار کے ساتھ دعائیہ کلمات سے نوازا۔حضرت والا سے بارہا شرف ملاقات اور استفادہ کا موقع ملا۔ ان کی شفقت و عنایت نے اپنا اسیر بنا لیا۔ مسلم بچیوں کی دہنی تعلیم و تربیت کے لئے چھوالٹی بلیا بیگوسرائے میں قائم ادارہ جامعہ طیبہ للبنات کا حضرت والا نے معائنہ کرتے ہوئے اس کے نظم و نسق اور نظام تعلیم و تربیت کو سراہا, ترقی کی دعا کی اور اپنے گراں قدر تاثرات سے نوازا بھی ،جو جامعہ کے لئے قیمتی سرمایا ہے۔

حضرت مولانا قاضی محمد قاسم مظفرپوری رحمہ اللہ کا مختصر سوانحی خاکہ :

نام :(حضرت مولانا) محمد قاسم صاحب مظفر پوری

والد ماجد :جناب معین الحق صاحب

مولود :1937

وطن :مادھوپور، ڈاکخانہ :انگواں، وایا ججوارہ، ضلع :مظفرپور بہار

تعلیم

ابتدائی :خانگی

متوسطات :مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ بہار

اساتذۂ کرام :حضرت مولانا عبدالجبار صاحب مونگیری، حضرت مولانا مقبول احمد خان صاحب

مدرسہ امدادیہ لہیریا سرائے دربھنگہ

اساتذۂ کرام :حضرت مولانا ریاض احمد صاحب چمپارنی، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب، حضرت مولانا محی الدین صاحب. حضرت مفتی عبدالحفیظ صاحب سیدھولی

عالمیت و فضیلت :دارالعلوم دیوبند فراغت :1957

حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، حضرت علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاوی، حضرت مولانا اعزاز علی صاحب و حضرت مولانا شیخ فخرالدین صاحب مراد آبادی.

تدریس :مدرسہ امدادیہ لہیریا سرائے دربھنگہ بہار. 1/سال

مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ. 46 سال

عہدے اور ذمہ داریاں

ناظم :مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور، انگواں، ججوارہ، مظفرپور بہار

رکن :مسلم پرسنل لا بورڈ

رکن مجلس عاملہ و شوریٰ و قاضی شریعت :امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

رکن :اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی

سرپرست :مختلف دینی مدارس و ادارے

تالیفات

1.رشتہ داروں کا احترام کیجئے اور یتیموں کا اکرام کیجئے

2. بینک سے متعلق چند مسائل

3.مسجد کے آداب اور اس کے احکام

4.مکاتیب رحمانی

5.تذکرہ عثمان

6.رہنمائے قاضی

7.رہنمائے مفتی زیر طبع

8.قرآنی سورتوں کا تعارف زیر طبع

 

خلاصہ یہ کہ حضرت والا کی ذات شخصیت ساز تھی۔ صبح و شام مستعد و متحرک اور دن رات جدو جہد کرتے دکھائی دیتے۔ اخلاص و للہیت سے مالا مال, محبت و عنایت کی مجسم تصویر تھے۔ ان کی زندگی میں جمود و تقفل نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اپنی ذات میں ایک انجمن اور شب زندہ دار تھے۔ نسل نو کو عزم پیہم اور جہد مسلسل کی دعوت اور عمل بالعلم کی تلقین کرتے تھے۔ آپ کے انتقال سے جہاں امارت شرعیہ علمی شخصیت اور اپنے اہم قاضی سے تو ملک ایک ممتاز عالم و فقیہہ سے محروم ہوگیا۔ جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں ناممکن ہے۔

اللہ تعالی ان کے درجات بلند اور اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ ملت کو نعم البدل عطا فرمائے۔پسماندگان بطور خاص مولانا عبد اللہ مبارک ندوی، حافظ محمد ناظم اور مولانا رحمت اللہ ندوی صاحبان کو صبر جمیل عطا فرمائے-آمین

عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے

زمین کی رونق چلی گئی ہے،اُفق پہ مہر مبین نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل ، خستہ گام پہنچے

جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم ، خواص پہنچے، عوام پہنچے

تری لحد پہ خدا کی رحمت ، تری لحد کو سلام پہنچے