ملت کے خطباء…علماء کی عدالت میں

106

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بار ہمولہ کشمیر

فروغ کہکشاں کو ناز ہے جن کی جبینوں پر

یہ تلقینِ خودی پیدا کی وہ نوجواں تو نے

انھیں کے زور بازو سے ہے اب گردش زمانے کی

بدل کر رکھ دیا آخر مزاج آسماں تو نے

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں”.(سنن ابو داؤد).

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہر عالم خطیب تو ہوسکتا ہے پر ہر خطیب عالم نہیں ہوسکتا.عصر حاضر میں عوام الناس علماء اور خطباء کے درمیان فرق کرنے سے قاصر ہیں.اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ خطباء نے بعض ایسے طریقے فن خطابت میں شامل کئے ہیں جس سے گمان ہوتا ہے کہ منبر پر وعظ و نصیحت کرنے والا جید عالم دین ہے جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے.عصر حاضر میں بعض نوجوان ایسے بھی ہیں جن پر طلب شہرت کا بھوت سوار ہے ,جسے تکمیل تک پہنچانے کے لئے وہ اس شعبہ میں داخل ہوتے ہیں.بعض ایسے نوجوان بھی ہیں جو غم روزگار میں مبتلا ہوکر اس راستے کی طرف چل پڑتے ہیں.وجوہات مختلف ہوتے ہیں لیکن ایک بات متفق علیہ ہے کہ اس خلط ملط سے علم اور علماء کی قدر عوام الناس میں کافی حد تک کم ہوگئی.اس مخلوط نظام کی سبب ایک عظیم شر بھی سامنے آیا کہ عوام الناس اب اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کی خاطر علماء کو چھوڑ کر خطباء کے پاس جاتے ہیں.سوشل میڈیا (youtube,facebook,whatsapp,instagram) کا فائدہ اٹھا کر یہ حضرات خود کو اہل علم کے صف میں شامل کرنا چاہتے ہیں.یہ بات بھی واضح ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ فرد واحد کو اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنا ہے.لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ شعر و شاعری منبروں پر پڑھ کر ,ترنم اور سریلی آواز کا استعمال کرکے کوئی علماء کے صف میں شامل ہوجائے.خطباء میں بھی درجات ہیں ,بعض تو عملی یتیم ہیں جو قرآن بھی قواعد التجوید سے نہیں پڑھ پاتے ہیں.بعض خطباء تجوید میں ماہر لیکن عربی لغت سے جاہل ہیں.یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ قرآن و سنت کے بنیادی ماخذ (Primary sources) جنہیں ہم اصل کہتے ہیں عربی لغت میں ہی ہیں.بعض خطباء ایسے ہیں جو مختلف علماء کے پاس جاکر علم حاصل کرتے ہیں پھر امانت داری سے اس علم کی نشر و اشاعت کرتے ہیں.ایسے خطباء قابل تحسین ہیں جنہیں ہم طلاب العلم میں شامل کرسکتے ہیں.لیکن اکثریت ایسے خطباء کی ہے جو اس شعبہ میں داخل ہوتے ہی علم اور علماء سے تحذیر اختیار کرتے ہیں.ایسے خطباء خود کو فقط ایسی کتب کے ساتھ مقید کرتے ہیں جو خطبات پر لکھی جاچکی ہیں مثلاً زاد الخطیب,خوشبوے خطابت,خطبات جمعہ,ترجمان الخطیب,خطبات محمدی وغیرہ.

خطابت فقط فن نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے .اور عبادت کی قبولت کی خاطر علم کا ہونا بنیادی شرط ہے .امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ “علم ایک وہبی چیز ہے جسے اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب بندے کو ہی عطا کرتا ہے.یہ ایسی چیز نہیں کہ جسے حسب و نسب کی بنیاد پر حاصل کیا جاسکے”.امام شعبی رحمہ اللہ سے صحیح سند سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ “خود پر اعتماد نہ کرنے,مختلف شہروں کا سفر کرنے,گدھے کے صبر کی طرح صبر کرنے اور کوے کی طرح صبح سویرے جاگنے سے علم حاصل ہوتا ہے”.(الرحلۃ فی طلب الحدیث) علم حاصل کرنے کی خاطر کسی مدرسے میں پڑھنا لازمی نہیں البتہ علماء اور محققین کی رہنمائی ضروری ہے.خطباء پر لازم ہے کہ وہ خود میں حصول علم کا ذوق و شوق پیدا کریں.خطباء اسلام کے ترجمان (representatives) ہوتے ہیں.لہذا حتی المقدور ان پر واجب ہے کہ علماء سے تعلق مضبوط کرلیں.ثانیاً یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ خطباء حضرات علماء کی قدر و منزلت سے ناآشنا ہوتے ہیں.قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی “امارۃ الصبیان” ہے یعنی بچوں کی حکومت.دوسری روایات میں ان حضرات کے لئے “رویبضۃ” کا لفظ آیا ہے یعنی نااہل اور بعض روایات میں انہیں کے لئے “اصاغر” کا لفظ وارد ہوا ہے.لوگ علماء حق کو ترک کرکے جہلا کو اپنا پیشوا تسلیم کریں گے. اب خطباء پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے خطبات میں علماء کی شان و مرتبہ کو اجاگر کریں.طبقات الحنابلۃ کی پہلی جلد کے ص 268 پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قوم آیا ہے کہ ” مکثت فی کتاب الحیض تسع سنین حتی فھمتہ”. یعنی “میں نے کتاب الحیض کو سمجھنے میں نو سال گزارے”.علماء نے اپنے لیل و نہار حصول علم میں صرف کئے ہوتے ہیں جس کے باعث اللہ ان کے درجات بلند کرتا ہے.امام شنقیطی رحمہ اللہ کے بارے میں آیا ہے کہ انہیں کسی مسئلہ کو سمجھنے میں دشواری ہورہی تھی تو وہ پوری رات اس کا ادراک کرنے میں ڈٹے رہے ,ان کا خادم شمع لئے ان کے سر پر کھڑا رہا طلوع فجر کے قریب ان کا اشکال زائل ہوا بحمداللہ تعالی.

خطباء حضرات سوشل میڈیا کا استعمال اعلی درجے پر کرتے ہیں جس میں کراہت کا پہلو بھی موجود ہے.ہمارے یوٹیوب چینلز (Youtube channels) بھی ایسے ہی خطباء کو promote کرتے ہیں جن کی آواز سریلی ہو اور جو مرثیہ خوانی میں ماہر ہو.چونکہ ریاکاری زوال علم کی مفتاح ہے.اسی ظلمت کی لپیٹ میں آکر خطباء وراثت انبیاء سے محروم ہوتے ہیں.ایک عربی شاعر کا فرمان ہے کہ “العلم حرب للفتی المتعالی کالسیل

حرب للمکان العالی” یعنی “جس طرح سیلاب بلند عمارت کو پاش پاش کردیتا ہے اسی طرح متکبر

عالم کے علم کو اس کا تکبر ختم کر دیتا ہے”.ایک دوسرے شاعر نے کہا ہے کہ “رایت احق الحق حق المعلم واوجبہ حفظا علی کل مسلم “.یعنی “میری رائے میں استاذ کا حق تمام حقوق سے بڑھ کر ہے اور اس کا پاس و لحاظ رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے “.خطباء پر لازم ہے کہ اپنے وقت کو ضایع کرنے سے اجتناب کریں.خطبہ جمعہ ہو یا خطبہ نکاح پوری ریاری کرکے آئیں تاکہ علمی خیانت و کتمان علم سے آپ محفوظ رہیں.سلف و صالحین کی طرف دیکھئے ….امام نووی رحمہ اللہ نے فقط 45 سال عمر پائی لیکن ان کی خدمات اہل اسلام پر قرض و احسان کی حیثیت رکھتی ہیں .ان کی شرح صحیح مسلم,المجموع,ریاض الصالحین,اربعین قابل ذکر تصانیف ہیں.اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کا اسوہ بھی خطباء کے لئے لمحہ فکریہ ہے.صحیح بخاری کی معروف شرح فتح الباری ,بلوغ المرام ہر مدرسے کی زینت بنی ہوئی ہیں.عصر حاضر میں محدث الھند کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ تعالی,محدث کبیر علامہ البانی رحمہ اللہ طلباء و خطباء کے لئے بحیثیت نمونہ ہے.خطباء پر واجب ہے کہ قرآن کو زیادہ سے زیادہ حفظ کرنے کی کوشش کریں ,اسکے ساتھ ساتھ عربی متون کو حفظ کرکے ان کی شروحات کا مطالعہ کریں.عربی لغت,اصول حدیث و اصول فقہ ,فقہ العبادات,عقیدہ و منھج ,تفسیر القرآن و اصول تفسیر ,غزوہ فکری ,علم الفرائض پر مکمل دسترس حاصل کریں اور یہ تبھی ہوگا جب علماء کے دروس میں شرکت کی جائے گی.فن خطابت پر بھی عبور پانے کے لئے جید خطباء کی رہنمائی حاصل کریں.صحیح و ضعیف میں امتیاز کریں.

عصر حاضر میں خطباء پر ایک اور فرض عائد ہوتا ہے کہ جدید فتنوں کا تعاقب کریں.جیسے فتنہ الحاد,فتنہ انکار حدیث,فتنہ غامدیت وغیرہ.islamophobia اور Liberalism کے خلاف علمی مواد جمع کریں.نوجوان ملت کے مسائل کو باریک بینی سے اپنے مطالعہ میں لائیں.شرک و بدعات,بے حیائی,بدکرداری,بدکاری,عریانی,فحاشی,منشیات کی لت,حرام خوری ,سود خوری ,قتل و خون ریزی ,ڈاکہ زنی ,دھوکہ,جھوٹ ,خیانت جیسی سماجی برائیوں کو موضوع سخن بنائیں.دعوت و تبلیغ کا فریضہ اصول دعوت ,رحم کرو,حلم و بردباری سے ادا کریں.سب سے اہم اپنے کردار و پاکدامنی کی حفاظت کریں.علم کو عملی جامع پہنائیں.حسنہ اخلاق سے خود کو مزین کریں.سنن مبارکہ پر مضبوطی سے عمل کریں.فرائض و نوافل کا خصوصی اہتمام کریں.محرمات,منکرات,لغویات سے حتی المقدور اجتناب کریں.کسی کے اشاروں پر ناچنے سے محفوظ رہیں.اپنی خودی کا سودا ہرگز نہ کریں.چند پیسوں کی خاطر کتمان حق سے بچیں.کسی کی قربت تمہیں حق بولنے سے نہ روک پائے.موسی و ھارون علیہما السلام کی طرح داعی بن کر میدان عمل میں اتریں.سیرت نبویہ پر لکھی گئی مستند کتب کو اپنے کتب خانے کی زینت بنائیں بالخصوص علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی زادالمعاد ,قاضی عیاض رحمہ اللہ کی الشفاء وغیرہ.اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے مطالعہ کیا کریں.

مناظرہ بازی ,مسلکی منافرت ,تعصب ,ہٹ دھرمی,سخت مزاجی سے تحذیر کریں.تصویر سازی (Photography) سے بعید رہیں.اپنی ذاتی زندگی کی تشہیر facebook پر نہ کریں عورتوں اور مال کے فتنے سے بچے رہیں.صحابہ کرام ,تابعین ,فقہاء عظام ,محدثین کرام اور ائمہ دین کی حیات و خدمات کو غور و تدبر سے پڑھیں.اپنے معاملات,لین دین آئنے کی طرح صاف رکھیں.بلا ضرورت قرض نہ لیں ,اگر لیا بھی تو ادائگی وقت پر کریں.اپنے نفس کو رعب و وزن سے بھردیں.مخصوص شروط و حدود میں رہ کر شعر و شاعری سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے لیکن حد سے تجاوز نہ کریں.لحن جلی و خفی سے بچ کر رہیں.خطابت ایک عظیم عبادت ہے اسی لئے اسلام کے پورے ضابطہ حیات پر نظر رکھیں.عقائد,عبادات,معاملات,اخلاقیات,معاشیت,سیاست,قوانین و حدود کو اچھی طرح تفقہ و تدبر میں لائیں تاکہ دین رحمت کا پیغام آپ احسن طریقے سے ابن آدم تک پہنچا سکیں.اسکے ساتھ ساتھ تاریخ پر بھی نظر رکھیں.خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد,ابن عساکر کی تاریخ دمشق,ابن خلدون کا مقدمہ ,ابن کثیر کی البدایہ والنھایہ,علامہ ذھبی رحمہ اللہ کی تاریخ الاسلام اپنی ذاتی Library میں شامل کریں.علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ,علامہ ابن قیم رحمہ اللہ,حافظ ابن رجب رحمہ اللہ,حافظ ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ,علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ,علامہ مقبل بن ھادی الوادعی رحمہ اللہ,علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ,علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتب کا مطالعہ اپنے شب و روز کا معمول بنائیں.

اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں علم نافع اور عمل صالح سے نوازے .اللہ ہمارے دلوں میں علماء کی محبت ڈال دے….آمین یا رب العالمین.