ملت کےدردمندافرادامارت شرعیہ کےتعلیمی مشن کاحصہ بنیں:احمدحسین قاسمی

32

ہر آبادی میں دینی مکاتب کانظام معیاری عصری اسکول کاقیام اوراردوزبان کافروغ ہماری ترجیح ہو: علماء ودانشوران
(نمائندہ ڈہری ,روہتاس 04/فروری 2021ء)

ملک کی عظیم وباوقار تنظیم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ متعلقہ تمام ریاستوں میں تعلیمی شعور وبیداری پیدا کرنے کےلئے تحریک کےطورپر ہفتہ برائےترغیب تعلیم وتحفظ اردو منارہی ہے جس کا آغازریاست بہار میں یکم فروری سے ہوچکا ہے جو سات فروری 2021ء تک جاری رہے گا۔یہ ایک خالص تعلیمی تحریک ہے جس کے تین بنیادی عنوان ہیں بنیادی دینی تعلیم کی فکر ,معیاری عصری تعلیمی اداروں کاقیام اور تحفظ اردوکی کوشش ہے۔ امارت شرعیہ نےملکی حالات کےپیش نظر ترجیحی بنیاد پر ان اہم موضوعات کو اپنےمشن کا حصہ بنایاہے بنیادی اسلامی تعلیم کےتحت تمام مسلم آبایوں میں ہر مسجد کےتحت دینی مکتب کا مضبوط نظام قائم کیاجائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس ملک میں اپنے دین وایمان کے ساتھ زندہ رہ سکیں اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی کوئی ان کےدین و ایمان کاسودہ نہ کرسکے ۔عصری تعلیم گاہیں بھی ہمارے لئے دنیوی کامیابی اور ترقی کا ذریعہ ہیں ان اداروں کےقیام کےبغیر کوئی قوم اپنی تہذیب کی چھاپ دنیاپر نہیں چھوڑ سکتی ہے آج عالمی ترازو میں اسی قوم کاکچھ وزن ہے جس نے تعلیم کےمیدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس سمت میں اقوام عالم کی رہنمائی کی ہے اس جانب مسلمانوں کاماضی کافی روشن وتابناک رہاہے اکیسویں صدی جو تعلیم وترقی اور چاندپرکمندڈالنے کی صدی ہےاس کاتقاضہ ہے کہ ہم بھی وقت کی ضرورتوں کوپوری کرنےکےلئےاس میدان میں پوری منصوبہ بندی کیساتھ آگےآئیں چنانچہ ہم پر فرض ہےکہ ہم یکسوہوکر اپنی نسلوں کے مستقل کو بہترسےبہتر بنا نےکی عملی فکر کریں اور کل کی تیاری آج ہی کرلیں اور جس طرح دوسری اقوام ایکسلینس کی معیاری عصری تعلیم گاہیں چلارہی ہیں ہم بھی انفرادی واجتماعی کوششوں سے پوری ریاست بہارمیں اپنی آبادی کے تناسب سے بڑھ کر علم کی شمعیں روشن کریں دنیامیں جتنی بھی تعمیری کام ہیں ان میں سب سے اہم تعمیر ی کام اسکول ,کالج اور یونیورسٹیوں کاقیام ہے یہ قائم کرنے والوں کی جانب سے پوری قوم وملت کےلئے مقبول صدقہ وعطیہ ہے جن سے صدیوں بنی نوع انساں فائدہ اٹھاتی ہے ۔مسلمانوں نےماضی میں اس ملک ہندوستان کو ترقی کی راہوں سے گذار کر سونے کی چڑیا بنا دیا مسلمانوں نےاس سرزمین کوفقط فن تعمیر کاشاہکار تاج محل ,جامع مسجد لال قلعہ اور قطب مینارجیسی نادرو تاریخی عمارتیں ہی عطاء نہیں کیں بلکہ ایک بین الاقوامی صفت رکھنےوالی شیریں زبان “اردو” کے انمول خزینہ سے بھی اس کے دامن کو مالا مال کردیا مگر بد نصیبی کہئےکہ آج اس کےمخالفین نےہرسطح پر اس کی حق تلفی کی ہےاور اپنوں نے بھی اس پر نارواظلم وستم کم نہیں ڈھائے ہیں اس حوالے سے یہ گنگاجمنی تہذیب کی حامل زبان غیروں کی بہ نسبت اپنوں سے زیادہ چوٹ کھائی ہے امارت شرعیہ کی یہ آواز ہے کہ اس زبان کو اپنے گھروں میں روزمرہ کےطور پر استعمال کریں اس کے حقوق کی بحالی کےلئے کرنے کے کاموں میں مشترکہ حصہ لیں انفرادی واجتماعی لحاظ سے اس کے فروغ میں اپنا عملی تعاون پیش کریں یہ صرف ہماری مادری زبان نہیں بلکہ اس ملک میں ہمارے دین وایمان کی ترجمان بھی یہی زبان ہے ساری اسلامی تعلیمات اس زبان میں محفوظ ہیں ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نےکیا انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانامحمدولی رحمانی مدظلہ العالی کی یہ ہدایت ہے کہ آج سےتینوں جہت سے اس فکر کو ضلع روہتاس کے تمام بلاک میں اتارنے کی ذمہ داری ضلع کے باشعور مسلمانوں کی ہے امارت شرعیہ نےان تینوں موضوعات پر زمینی کام کرنے کے جو رہنما خطوط کتاب کی شکل میں جاری کئےہیں ان پر عمل کیا جائےاس کےلئے پروگرام کےدوران ہی مشورہ سے تما م بلاک کے ذمہ داروں پر مشتمل اکتالیس رکنی ایک ضلع تعلیمی مشاورتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ضلع کے تمام حصوں سے علماء وائمہ اوربڑی تعدادمیں دانشوران اس تحریک میں شریک ہوئے
IMG 20210204 WA0010
اہم شرکاء میں مولانا عبدالحق قاسمی مبلغ امارت شرعیہ مولانا منت اللہ قاسمی مولانا احسان الحق صاحب قاضی شریعت ڈھری اون سون (سرپرست وذمہ دارتعلیمی کمیٹی) مولانا شکیل صاحب قاضی شریعت کواتھ (نگراں)محمد کلیم خان(کنوینر) ماسٹر نسیم صاحب محمد اقبال صاحب ماسٹر غلام سرور صاحب محمد رستم صاحب ماسٹر محمد شاھد سلال صاحب ڈاکٹر محمد نواب اختر صاحب ماسٹر محمد مشتاق الرشید صاحب محمد اظہار الحق صاحب ایڈوکیٹ صاحب ماسٹر محمد اشرف صاحب محمد سعد اکرم صاحب پروفیسر محمد انعام الحق صاحب محمد نثار خان صاحب غیاث الدین صاحب (نایب کنوینر) محمد اعجاز صاحب بستی پور کےعلاوہ سینکڑوں خواص حضرات مجلس میں موجود تھے