مقصد میں پختگی ہو تو ڈرنا فضول ہے

48

حیدر میواتی ندوی
ہمراز ہر کسی کو بنانا فضول ہے،
سورج ہے تو چراغ جلانا فضول ہے
———————–
مالی نے خود چمن سے یہ گل توڑ کر کہا،
گلشن کا تیری بو سے مہکنا فضول ہے.
———————–
اللہ کا کرم ہے کہ خوشیاں مجھے ملیں،
میرے عدو کا مجھ سے تو جلنا فضول ہے.
———————–
منزل کی ہے تلاش تو ہمت نہ ہارئے،
مقصد میں پختگی ہو تو ڈرنا فضول ہے.
———————–
سر کو اٹھا کے چلنے میں جینے کا ہے مزہ،
ڈر ڈر کے زندگی تو یہ جینا فضول ہے.
———————–
مسلک کے نام پر جو جھگڑتے ہیں آج کل،
باتوں کو ان کی سنا, سنانا فضول ہے.
———————–
حیدر خدا کی راہ کا رہبر تلاش کر
رہبر بنا سفر پہ نکلنا فضول ہے.
———————–
9/10/2020,بروز جمعہ,
______________
پیش کردہ
محمد مبارک میواتی آلی میو