جمعرات, 6, اکتوبر, 2022

مقام رسالت

حضرت مولانا اسرا رالحق قاسمی(ایم پی) نوراللہ مرقدہ
رسالت پر ایمان لانا اسلام کے بنیا دی عقائد میں شامل ہے ۔ چنانچہ جس طرح عقیدہ توحید پر ایمان لا نا ایما ن کے لیے ضروری ہے ، اسی طرح عقیدہ ٔ رسالت پر بھی ایمان لا نا ضروری ہے ، ایسا ہر گز نہیں کہ توحید پر تو ایمان رکھا جائے ، لیکن رسالت پر ایمان نہ رکھا جائے ۔ توحیدو رسالت دونوں ہی ایمان کے لیے ضروری ہیں۔ چنانچہ کلمۂ طیبہ میں جہاں اللہ کی وحدانیت کے اقرارو گواہی کا تذکرہ ہے ، وہیں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی و شہادت کا بھی اقرار ہے ۔
اللہ رب العزت نے ہر دور میں انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے کے لیے پیغمبروں و رسولوں کو بھیجا ۔ تاکہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اللہ ایک ایک ہے ، وہ بے عیب ہے ، عبادت کے لائق صرف وہی ہے ، اس کے علاوہ کسی کی عبادت کر نا شرک ہے ،جو گناہ عظیم ہے۔ہر نبی و رسول نے اللہ کی وحدانیت کی تعلیم دی ، سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں مبعوث کیا گیا اور آپؐ پر نبوت و رسالت کو ختم کر دیا گیا ۔ یعنی آپؐ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک کے لیے ہے ۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا ، آپ کی شریعت ہی آخری شریعت ہے ۔ آپ ؐپر ایمان لانا ہر شخص کے لیے ضروری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان نہ لائے گا وہ مشر ک و کافر ہوگا ۔

رسولو ں ونبیوں کو ہر زمانہ میں اس لیے بھیجا گیا تاکہ وہ اللہ کے احکام کو اس کے بندوں تک پہنچائیں۔ یہ انبیاء ورُسل مختلف قوموں میں بھیجے گئے ۔تاکہ انہیں کی زبان میں وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاسکیں ۔ کیونکہ تمام نبی اللہ کی طر ف سے دنیا میں مبعوث کیے گئے ، اس لیے سبھی انبیا ء پر اس طرح ایمان لانا ضروری ہے کہ دل میں ان کی عزت و احترام ہو اوران کے بر حق ہونے کا پکا عقیدہ ہواوریہ کہ وہ اللہ کے برگزیدہ اور معصوم بندے ہوتے ہیں ۔ انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی معصوم جماعت اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کے لیے اپنی ساری محنتوں کو لگادیتی ہے۔ اور یہ بھی پکا عقیدہ ہو کہ حضرت محمد مصطفے صلی للہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں ۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے اور رسالت پر ایمان لانے کا مقصد یہ ہے کہ رسول کو اللہ کا قاصد بر حق سمجھا جائے اور اس کے فیصلے کو بلا چوں چرا قبول کیا جائے ۔ کیونکہ رسول اور انبیا اپنی مرضی سے کچھ بیان نہیں کرتے ۔بلکہ وہ اللہ کے اشاروں کی تشریح کرتے ہیں۔ اللہ کاارشاد ہے ’’ کہ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے نہیں بولتے ،بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ جو ان کو وحی کی جاتی ہے، (سورہ نجم)

قرآن مجید میں ایک مقام پرپیغمبر آخرالزاں صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت اور آپ ؐ کی اطاعت پر زور دیتے ہوئے فرما یا گیا’’ بیشک یہ شریف رسول کا قول ہے شاعر کا قول نہیں ہے ،تم لوگ بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ کسی کا ہن کا قول ہے تم لوگ بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔یہ(کتاب) اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے او راگر وہ (محمدؐ) کچھ باتیں بناکر پیش کر تے تو ہم ان کا بازو پکڑ کر ان کی شہ رگ کاٹ دیتے اور تم میں سے کوئی روک نہ پاتا‘‘ قرآن مجید میں تمام نبیوں ،رسولوںاور ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان لا نے کا حکم موجود ہے ۔البتہ وہ کتاب جو آخرنبی علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی ، اس پر عمل کر نا ضروری ہے ۔

آپؐ کی نبوت و رسالت کی پیشن گوئی اور خاتم الابنیاء ہونے کا ثبوت سابقہ کتابوں میں موجو د ہے ۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمؑ سے خطا کا ارتکاب ہو گیا ، تو انہوں نے( جناب باری تعالی ) میں عرض کیا کہ اے پروردگار میں آپ سے بواسطہ محمد ؐ درخواست کرتا ہوں کہ میری مغفرت کردیجئے ۔ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم تم نے محمدؐ کو کیسے پہچانا ۔حالانکہ ابھی میں نے ان کو پیدابھی نہیں کیا، عرض کیا کہ اے رب میں نے اس طرح پہچانا کہ جب آپ نے مجھ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی( شرف دی ہوئی) روح میرے اندر پھونکی تو میں نے سر جو اٹھایا تو عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تو مجھے معلوم ہوگیا کہ آپؐ نے اپنے پاک نام کے ساتھ ایسے ہی شخص کے نام کو ملایا ہوگا جو آپ کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہوگا۔ حق تعالی نے فرمایا کہ اے آدم تم سچے ہو ،حقیقت میں وہ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارے ہیں اور جب کہ تم نے ان کے واسطے سے مجھ سے درخواست کی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت کردی اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا۔ (بیہقی) سرور کا ئنات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہر مسلمان پر فرض ہے، آ پ ؐ کی رسالت کی تصدیق عہد الست میں دیگر انبیاء کرام سے بھی کرائی گئی تھی۔ آخر میں حضرت ابراہیم ؑنے آپ کی بعثت کی دعا فرمائی اور عیسی ؑ نے آپ ؐ کی آمد کی خوشخبری سنائی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں اس دنیا کو بتلائی ہیں ،اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ نے خدا کی طرف سے خاص اور یقینی علم حاصل کر کے بتلائی ہیںاور وہ سب بالکل حق او رصحیح ہیں، ان میں کسی طرح کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح آپؐ نے جوبھی ہدایات و احکامات لوگوں کو دیے ہیں،وہ سب در اصل اللہ کی ہدایات اور خدائی احکام ہیں، جو آپؐ کی طرف وحی کیے گئے تھے ۔ اسی سے یہ بات بھی معلو م ہوتی ہے کہ کسی کو رسول ماننے سے خود بہ خود ہی یہ لازم آتا ہے کہ اس کی ہر ہدایت اور ہر حکم کو مانا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالی کسی کو اپنا رسول اسی واسطے بناتا ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے بندوں کو اپنے وہ احکام بھیجے جن پر وہ بندوں کو چلانا چاہتا ہے ۔ چنانچہ اگرکوئی شخص کلمہ پڑھتاہے، مگر اپنے متعلق اس نے یہ طے نہ کر رکھا ہو کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلا ئی ہوئی ہر بات کو بالکل حق اور اس کے خلاف تمام باتوں کو غلط جانو نگا ، اور آپؐ کی شرعت پر اورآپؐ کے حکموں پر چلوں گا ،تو وہ آدمی دراصل مومن اور مسلمان ہی نہیں ہے ۔در اصل اس نے مسلمان ہونے کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔

حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کابر حق رسول ماننا اور ایک امتی کی طرح آپ ؐ کی اطاعت و فرمانبرداری کر نا ،آ پ ؐ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا در حقیقت رسالت کو تسلیم کر نا ہے اورآپؐ پر ایما ن لانے کا مطلب ہے ۔ ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ یہ دونوں عقائد(توحید و رسالت)ایمان کا اہم حصہ ہیں،ان کی شہادت پر ہی ہماری نجات کا دا ر ومدار ہے۔ جس شخص نے ذرا بھی ان بنیادی عقائد میں لا پرواہی سے کام لیا ، اس کا ایمان خطر ہ میں پڑ سکتا ہے ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ عقیدہ ٔتوحید اور عقیدہ ٔ رسالت جس قدر اہمیت کے حامل ہیں اسی قدر نازک بھی ہیں ۔ اس لیے شرک سے بچنا لازمی ہے ، ایسے ہی ایسی تمام نظریات ، باتوں اور کاموں سے اجتناب لازمی ہے جو عقیدہ ٔ رسالت کو متأثر کریں ۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے