جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمفتی محمد ثناء الہدی صاحب قاسمی؛ علم وادب کے خورشید تاباں

مفتی محمد ثناء الہدی صاحب قاسمی؛ علم وادب کے خورشید تاباں

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی : علم و ادب کے خورشید تاباں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از قلم : فخرالدین عارفی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے از راہ عنایت مجھے اپنی چار کتابوں سے نوازا ہے ۔ ۔ یہ چاروں کتابیں فی الحال میرے زیر مطالعہ ہیں ۔ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کی حیات و خدمات اور ادب میں ان کے کارناموں پر اظہار خیال کرنا بہت دشوار اور مشکل کام ہے ۔ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب ، علم کا ایک سمندر ہیں ۔ علم کے اس سمندر کی غوّاصی اور پھر علم کے اس عمیق سمندر سے موتی اور جواہرات نکالنا کوئی معمولی کام نہیں ہے ۔ پھر بھی میری یہ کوشش ضرور ہوگی کہ جو قیمتی نگارشات اور تحریریں انہوں نے ہمارے سامنے رکھی ہیں ۔ ان سے اپنے ذہن کے اندھیروں کو دور کرسکوں ۔ میں مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب سے ملا ہوں اور بار بار ملا ہوں ۔ متعدد مواقع پر ہم دونوں نے ایک ہی اسٹیج سے تقریریں بھی کی ہیں ۔ لیکن ان کی تقریر میں زور بیان اور شوکت الفاظ سے جو بلند پیکر بنتے ہیں وہ سب کو کہاں میسر آتے ہیں ۔ وہ کم بولتے ہیں لیکن جب بولتے ہیں تو خوب بولتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہاڑ سے ایک خوب صورت آبشار نکل رہا ہو۔۔۔۔ان کے الفاظ پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکراتے ہیں ، بل کھاتے ہیں ۔ کہیں کسی دوشیزہ کی زلف میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور کہیں کسی سمندر کی لامکاں وسعتوں میں گم ہوجاتے ہیں ۔ وہ ایک انتہائی نیک ، شریف اور مہذب انسان ہیں ۔ ان کی حیثیت ایک مذہبی پیشوا کی ہے ۔ وہ شریعت اور اصول شریعت سے بخوبی واقف ہیں ۔ لیکن ادب میں بھی جو دسترس اور کمال انہیں حاصل ہے وہ بہت کم لوگوں کے حصّے میں آتا ہے ۔ ان کی جو عام گفتگو ہوتی ہے وہ آواز کی ایک مخملی چادر ہوتی ہے ۔ لیکن جب وہ کسی موضوع پر ، کسی اسٹیج سے تقریر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہیں آسمان پر بادل گرج رہا ہو ۔ اس وقت ان کی آنکھوں میں بھی ان کی لیاقت ، اہلیت اور قابلیت کی برق صاف نظر آتی ہے ۔ ان کے جیسا مقرر اس وقت بہار کی سرزمین پر بہت کم ہے ۔ ان کی شخصیت میں جو عاجزی اور انکساری ہے وہ بھی بہت نادر اور موجودہ عہد میں عنقا کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ بیدل ، راسخ اور شاد کی سرزمین "عظیم آباد ” ہے ۔ جسے شہزادہ عظیم الشان نے سجایا اور سنوارا تھا ۔ لہذا یہاں نہ تو جوہر کی کمی ہے اور نہ جوہر شناسوں کی ۔۔۔۔

یہ بستی اب بھی بازار ختن ہے باکمالوں سے

غزال آنکھیں چراتے ہیں عظیم آباد والوں سے

( حافظ فضل حق آزاد عظیم آبادی )

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی اور ان کی کتابوں کے تعلق سے باقی باتیں ، ان شاء الله جلد ہی پھر کروں گا ۔ ان کی کتابیں جو دستیاب ہیں ان سے استفادہ کررہا ہوں ۔ جب کسی روز ان کے علم کے روشن چاند سے میرے ذہن و دل کی سرزمین پھر منوّر ہوگی تو اس چاندنی پر آپ کا بھی حق ہوگا ۔ یہ میرا وعدہ ہے ۔ تب تک کے لیےء اجازت دیں ۔ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب سے وقفے کے لیےء معذرت خواہ ہوں ۔ ہاں یہ وعدہ ضرور ہے کہ جلد ہی آپ کی کتابوں پر اظہار خیال ضرور کروں گا ، لیکن جو کچھ بھی لکھوں گا پڑھ کر ، سمجھ کر اور سنبھل کر لکھوں گا ۔ ان شاء الله ۔۔۔۔۔۔۔فخرالدین عارفی

10 جنوری 2022 ء

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے