بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومزبان وادبمفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی شعراء کرام کی نظر میں

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی شعراء کرام کی نظر میں

ڈاکٹر احسان عالم
پرنسپل الحراء پبلک اسکول، دربھنگہ
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی شعراء کرام کی نظر میں: ایک تاثر
(عبدالرحیم برہولیاوی کی عمدہ ترتیب)

عبدالرحیم بن ڈاکٹر مولوی انور حسین دربھنگہ ضلع میں واقع ایک گاؤں برہولیا کے رہنے والے ہیں۔ فی الحال وہ معہد العلوم الاسلامیہ، چک چمیلی، سرائے، ویشالی (بہار) میں درس و تدریس انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی مسجد پرانی بازار، سرائے، ویشالی میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ کافی ملنسار اور مخلص انسان ہیں۔ انہوں نے ”مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی شعراء کرام کی نظر میں“ کے عنوان سے ایک کتاب ترتیب دی ہے۔ 72صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 36شعرا کے اشعار رقم کئے گئے ہیں جو مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی شخصیت اور فن پرروشنی ڈالتے ہیں۔اس طرح عبدالرحیم برہولیاوی کی یہ ترتیب کردہ کتاب ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی ولادت ویشالی ضلع کے ایک گاؤں حسن پور میں 17نومبر 1958کوہوئی۔ مفتی صاحب نے اسلامی اور دینی تعلیم بڑی دلجمعی کے ساتھ حاصل کی۔ ان کی گھریلو ترتیب نے انہیں تصنع اور بے کار مشاغل سے دور رکھا۔ صرف مطالعہ ہی ان کا مشغلہ بن کر رہ گیا۔ نصابی اور درسی کتابوں کے علاوہ وہ معاون کتابوں کو بھی بڑی توجہ سے پڑھتے۔ مطالعہ کی کثرت نے ان کے ذہن و دماغ کو علوم متداولہ اور اس کی جزائیات سے مزین کر دیا۔
”اپنی بات“ کے عنوان سے کتاب کے مرتب عبدالرحیم لکھتے ہیں کہ عصر حاضر کے ممتاز علماء، ادباء، ناقدین، تجزیہ نگاروں اور زبان وادب کے رمز شناسوں میں ایک نمایاں نام نائب ناظم امارت شریعہ، بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کا ہے جو لوگوں کے درمیان محتاج تعارف نہیں ہیں۔
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوان ناقد و شاعر کامران غنی صبا لکھتے ہیں:
”مفتی صاحب کی شخصیت کا اختصاص ان کا متوازن طرز عمل اور طرز اظہار ہے۔ گفتگو کی طرح ان کی شخصیت میں بھی ٹھہراؤ ہے، سنجیدگی ہے، متانت ہے۔ وہ ایک طرف تعلق اور رواداری کا بھی خیال رکھتے ہیں، دوسری طرف معروضیت کا دامن بھی نہیں چھوڑتے۔ وہ تعلق نبھانے کے لیے غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط کہنے کی مصلحت کو درست نہیں سمجھتے۔ وہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے اپنی رائے پیش کرنے کا فن جانتے ہیں۔“(ص:9)
معرو ف ادیب و شاعر ڈاکٹر عطا عابدی ”دو باتیں“ کے عنوان سے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی شخصیت پر لکھتے ہیں:
”مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ہمہ جہت خدمات کے سبب دینی، ملی، سماجی، علمی اور ادبی حلقوں میں خاصے معروف ہیں، منصبی ذمہ داریوں کے علاوہ مختلف سماجی و علمی امور و موضوعات کے مطالعے، اس کے بعد غور و فکر اور اس غور و فکر کے حاصل کو تحریر و تقریر کی وساطت سے دور دور تک پہنچانے کا سلسلہ ان کے تبلیغی و تحریکی مزاج کا ثبوت تو ہے ہی، کام کے تئیں ان کی محنت و محبت کا آئینہ دار بھی ہے۔“(ص:11)
کتاب میں سب سے پہلا منظوم تاثرات محمد انوارالحق داؤد قاسمی کا ہے۔ ”منظوم سوانح حیات“کے عنوان سے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:
آبروئے وطن، صاحبِ فکر وفن
ہیں ”ثناء الہدیٰ“ خود میں اک انجمن
خوبصورت ”حسن پور“ کی سرزمیں
ابنِ نورالہدیٰ ہیں یہیں کے مکیں
ہے ”ہدیٰ فیملی“ اس میں جلوہ نشیں
جس کی موجودگی سے ہے بستی حسیں
مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی شخصیت شش جہات ہے۔ تالیف و ترتیب میں بے مثال ہیں۔ صحافت میں مہارت رکھتے ہیں۔ ادارت سے بھی وابستگی رہی ہے۔ کامیاب محقق ہیں۔ موصوف کی ان خوبیوں کا اجاگر کرتے ہوئے مظاہر حسین عماد عاقب قاسمی اپنے شعری اظہار میں کہتے ہیں:
لائق صد ستائش، ثناء الہدیٰ
میرِ بزم ادب ہیں، ثناء الہدیٰ
وہ محدث، محقق، سخنور بھی ہیں
مرکز علم و فن ہیں، ثناء الہدیٰ
ان کی تصنیف ہر فن میں موجود ہے
ہیں سبھی فن میں ماہر، ثناء الہدیٰ
حسن نواب حسن(مرحوم) مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی خوبیوں سے متاثر ہوکر کہتے ہیں:
یہ ہیں مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی
ان کو سننا بھی پڑھنا بھی ہے لازمی
دین و مذہب کے ساتھ ادب کے امیں
ایسا جلدی ملے گا کہاں آدمی
عالمی شہرت یافتہ شاعر پروفیسر عبدالمنان طرزی مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:
علم و دانش کا اک معتبر آستاں ہیں ثناء الہدیٰ
جن کے دامن میں تقویٰ کا توشہ گراں ہیں ثناء الہدیٰ
گر ہیں پابند دیں آپ اعمال و اقوال و کردار میں
اپنے افکار میں شرع کے ترجماں ہیں ثناء الہدیٰ
دعوتِ دیں کا بھی فرض پورا جو کرتے ہیں موصوف گر
فن افتا کے اک ماہرِنکتہ داں ہیں ثناء الہدیٰ
کامران غنی صبا (اسسٹنٹ پروفیسر، نتیشور سنگھ کالج، مظفرپور) اپنے خیالات و جذبات کا اظہار اشعار میں اس طرح کرتے ہیں:
ہیں علم شریعت کے وہ رازداں
خموشی میں جن کی نہاں داستاں
وہ ہیں عالمِ باعمل بالیقیں
جنہیں کہئے اسلاف کا جانشیں
مفکر، مدبر کہ دانشوراں
سبھی ان کے حق میں ہیں رطب اللساں
ڈاکٹر منصور خوشتر (ایڈیٹر، سہ ماہی ”دربھنگہ ٹائز“ دربھنگہ) اپنے خیالات کی ترجمانی ان اشعار کے ذریعہ کرتے ہیں:
علم دیں کا ایک باغ پُر بہار
ہیں وہ مولانا ثناء عالی وقار
عالمانہ بردباری ان میں ہے
ہے طبیعت میں بڑا ہی انکسار
مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی تین جہتیں ہیں، اسلامی، ادبی، تعلیمی اور تدریسی۔ اس لیے ان کے مقالے اور مضامین بھی تین نوعیتوں کے ہیں۔ ان کی ان خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے احمد حسین قاسمی لکھتے ہیں:
تو ہمارے درمیاں اہل ادب کی آبرو
تیرے قرطاس و قلم رہتے ہیں ہر دم باوضو
دین و شریعت کی حفاظت کا تو اک سامان ہے
ملت بیضاء کی خاطر وقت تیری جان ہے
منصور قاسمی، مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی ذات پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے شعری پیرائے میں بیان کرتے ہیں:
ظلمتِ شب بھی جن سے منور ہوئی
گمشدہ راہ گیروں کو منزل ملی
نام ان کا ہے مفتی ثناء الہدیٰ
رب نے بخشا ہے دیدہ وری آگہی
زماں برداہوی ایک اچھے شاعر تھے۔ ان کے کئی مجموعے شائع ہوکر قارئین کے درمیان مقبول ہوئے۔ انہوں نے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کی شان میں اپنے اشعار کہے ہیں۔ دو اشعار ملاحظہ ہو:
ایک عالم باعمل دینِ متیں کا پاسباں
وہ بصیرت عالمانہ کا ہوا اک آسماں
دین کا پابند ہے اعمال میں، افکار میں
لغزشوں سے پاک رہتا ہے سدا کردار میں
ڈاکٹر امام اعظم (ریجنل ڈائرکٹر، ریجنل سنٹر کولکاتا) اپنی چھوٹی بحر کی ایک نظم میں اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
بحر و بر کی گہرائی
یہ پتہ تو دیتی ہے
علم کے حوالے سے
فکر کے وسیلے سے
بس کرم خدا کا ہے
مفتی قاسمی صاحب!
وقیع منظر آسنسول اپنے اشعارکے ذریعے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کا استقبال اس طرح کرتے ہیں:
نظریں بچھائے بیٹھے تھے آمد پہ آپ کی
منظور چشم و دل ہوئی تشریف آوری
مفتی بھی، قاسمی بھی، ثناء الہدیٰ کی ذات
خوش آمدید آپ کو کہتے ہیں ہم سبھی
اما ن ذخیروی اردو شعر وادب کا ایک نمایاں نام ہے۔ انہوں نے کئی شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کے فکر و فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:
اک بحر بیکراں ہے ثناء الہدیٰ کی ذات
ملت کی پاسباں ہے ثناء الہدیٰ کی ذات
ملت کا درد ان کے ہے سینے میں جاگزیں
اس غم سے سر گراں ہے ثناء الہدیٰ کی ذات
اس طرح مختلف شعرا حضرات نے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی شخصیت اور ادبی و دینی خدمات پر اپنے عمدہ منظوم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ موصوف علمی وادبی دنیا کی اہم شخصیت ہیں۔ ان کے ذکر کے بغیر بہار کی علمی وادبی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ بہار کے نثر نگاروں، عالموں اور محققوں میں ان کا نام نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔
٭٭٭
Dr. Ahsan Alam
Ahmad Complex, Near Al-Hira Public School
Moh: Raham Khan, P.O. Lalbagh, Darbhanga – 846004

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے