مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی ؒ باصلاحیت منتظم اور صاحب حوصلہ عالم دین تھے : حضرت نائب امیر شریعت

107

پٹنہ۔24؍مئی 2021 (نوائے ملت)
مولانا مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی صاحب کے سانحہء ارتحال پر نائب امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی قاسمی مدظلہ العالی نے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ مولانا عثمانی صاحب ایک بڑے متحرک ،سر گرم اورنیک عالم دین تھے ،دینی وملی اور سماجی کاموں سے بڑی گہری دلچسپی رکھتے تھے ،انہوں نے تعلیم کے میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیئے اور خدمت خلق کے میدان میں بھی بڑ اکام کیا، اسلام اور مسلمانوں پر اغیار کی طرف سے ہونے والے حملوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا، ناموس رسالت کانفرنس اور تحفظ شریعت کے نام پر متعدد کامیاب کانفرنسیں کیں،وہ ایک کامیاب اور باصلاحیت منتظم تھے،ایسے حوصلہ مند عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا بڑا سانحہ ہے ،اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے ،امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے مفتی صاحب کے انتقال پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتی صاحب اپنے کارنامہ کی وجہ سے عرصہ تک یاد رکھے جائیں گے،انہوں نے ملک و ملت کے لیے بہت سارے کام کیے ہیں جنہیں بھلایا نہیں جاسکتااور بہت ساری علمی وادبی یادگاریں چھوڑی ہیں وہ بہت سارے اداروں اور مدرسوں کے ذمہ دار اور سرپرست تھے خود ان کا اپناایک بڑ مدرسہ جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے نام سے سوپول میں چل رہا ہے جو ان کے لیے صدقہء جاریہ اور ملت کے لیے ایک عظیم ورثہ ہے،اس موقع پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا سہیل احمد ندوی صاحب،جناب مولانا سہیل احمد قاسمی صاحب صدر مفتی امارت شرعیہ ،جناب مولانا مفتی سعید الرحمٰن صاحب قاسمی مفتی امارت شرعیہ جناب مولانا رضوان احمد ندوی صاحب نائب مدیر ہفت روزہ نقیب کے علاوہ امارت شرعیہ کے دیگر ذمہ داران وکارکنان نے اس حادثہ پر دلی رنج وغم کا اظہار فرمایااور کہا کہ انہوں نے جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کو کم وقت میں مثالی ادارہ بنایا،اللہ تعالیٰ مولانا کے اس علمی ورثہ کی حفاظت فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے ،وارثین کو صبر جمیل عطافرمائے ۔آمین