جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہومزبان وادبمصائب کے اندھیروں میں بھٹکنا ہی نہیں آتا

مصائب کے اندھیروں میں بھٹکنا ہی نہیں آتا

غزل
مصائب کے اندھیروں میں بھٹکنا ہی نہیں آتا
غم و اندوہ کا بادل ہوں، برسنا ہی نہیں آتا
نہیں شکوہ کسی سے ہے، نہیں کوئی گلہ اپنا
ملے جو خار راہوں میں، الجھنا ہی نہیں آتا
تلاطم خیز موجوں سے گزرتی ہے مری کشتی
حوادث کے تھپیڑوں سے لرزنا ہی نہیں آتا
خوشی اور غم کے چہرے کو فقط اللہ جانے ہے
کسی کو اپنے بارے میں بتانا ہی نہیں آتا
نکھرنے سے بکھرنے تک، محض تھوڑی سی مدت ہے
انہی قسمت کے لمحوں کو گنوانا ہی نہیں آتا
رضائے رب کی چاہت میں، رہے خندہ جبیں بے باک
رفیقوں کو، رقبیوں کو، بھلانا ہی نہیں آتا

محمد شاہ نواز بے باک

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے