مشہورصحافی سمیع اللہ خان کی اس تحریر سے مولانا سلمان حسینی ندوی کی اصلیت سامنے آگئی

129

خدارحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

آج صبح جیسے (سمیع اللّٰہ خان) خوشیوں کی سوغات لے آئی ہو، صبح صبح یہ فرحت زا خبر موصول ہوئی کہ مولانا سلمان حسینی صاحب، حضرت مولانا سید رابع حسنی مدظلہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس ملاقات کی تصویریں کلیجے کو ٹھنڈک پہنچانے والی ہیں، ساتھ میں مولانا سلمان صاحب نے اپنے آفیشل پیج پر اس ملاقات کو ” معاملات اور دل کی صفائی ” کا عنوان دیا ہے
حضرت مولانا رابع حسنی صاحب مولانا سلمان حسینی کے جہاں ماموں ہیں وہیں وہ ان کے شیخ بھی ہیں جب انہوں نے معاملات اور دل کی صفائی کے لیے ان کا ہاتھ تھام لیا ہے تو اب مزید ہنگاموں کی گنجائش اصولی طورپر نہیں ہے، اب یہ پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ مولانا سلمان حسینی پوری عاجزی اور وارفتگی کے ساتھ ہم سب کے بزرگ اور محترم مرشد الامت مولانا رابع حسنی صاحب کے پاس حاضر ہوگئے یقینًا اس موقع پر حسنی خاندان نے اپنے حقیقی رشتےدار کے ساتھ اپنے جدامجد حضرت حسنؓ کا کردار جو حضرت مفکراسلام مولانا علی میاں ندوی ؒ کے ذریعے وراثت میں ملا ہے اس کو برتا یہی امید ہے، پوری ندوی برادری عالی ہمت بڑے بھائیوں کی طرف سے اسی بوالحسنی تاریخ دوہرائے جانے کی منتظر رہی_
*اس سے پہلے مولانا سلمان حسینی نے اپنی سابقہ بحثوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا، پھر الله کے حضور اپنی غلطیوں کے لیے توبہ پیش کی، اہل اسلام سے معافی بھی مانگ لی، اور اب وہ اپنے شیخ کے یہاں معاملات و دل کی صفائی کے لیے حاضر ہیں جوکہ موجودہ ہندوستان میں مشائخِ حق کے یہاں ممتاز مقام رکھتے ہیں، رجوع معافی اور اس حاضری کے بعد اور کیا چاہیے، کچھ نہیں، اگر اختلاف حق کی خاطر ہے تو اس کا استقبال ہوناچاہئے اور دیگر جزئی باتیں بڑے بزرگوں کے حوالے کردیں*
اب ضروری ہیکہ بڑے مخلصین اور امت کے مشفق بزرگ معاملات کو سنبھالیں چھوٹے لوگ خاموش ہوجائیں، قاری طیب صاحب ؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا منت اللّٰہ رحمانی، اور مولانا الیاس کاندھلوی رحمھم الله والا کردار نبھانے کا وقت ہے، چودہ سو سالہ تاریخ میں کئی عظیم شخصیت سے ایسی خطائیں ہوئی ہیں لیکن الله کی نصرت اپنے خاص بندوں کے ساتھ ہوئی وقت کے بزرگوں اور الله والوں نے مخلصانہ مومنانہ کردار نبھایا اور آغوش میں لے لیا-
اب تک ہم نے مولانا سلمان حسینی صاحب کی مشاجرات صحابہ والے مسئلے میں مخالفت کی کیونکہ اس موضوع پر ان کے موقف سے ہمیں اتفاق نہیں تھا جو وہ عوام کے درمیان شدت سے بیان کررہےتھے وہ بالکل غلط تھے اسی لیے ہم نے ان کی مخالفت کی اس مسئلے میں صحیح موقف تو جمہور اہلسنّت والجماعت کا ہے جب مولانا نے اس مسئلے میں جمہور کے تعامل سے ہٹ کر راہ اختیار کی تو ہم نے الدین النصیحہ اور خیرخواہی والا موقف اختیار کرتے ہوئے مولانا کی اس موقف میں مخالفت کی کیونکہ اس جگہ مولانا غلطی پر تھے*

مولانا سلمان حسینی سے مجھے کتنی محبت کیسا تعلق اور والہانہ لگاؤ ہے اور کیوں نہ ہو؟ کہ مولانا کے علمی و فکری چشمے سے اور ان کی نوازشوں سے ہم نے عمر کے ان مراحل میں سیکھا جب شعور کو پختہ کیاجاتا ہے جبکہ پوری دنیا ان سے سیکھ رہی تھی ہم قریب سے سیکھتے تھے ان کے گھرانے سے ہمیں لله عقیدت رہی ہے، یہ بیان کرنے کی مجھے حاجت نہیں زمانے کو اس کا اندازہ ہے اور اسی کے نتیجے میں مولانا سلمان حسینی صاحب کے ان تمام نزاعی معاملات پر ایک جمِ غفیر ہمیں مستقل سوالات کی صورت میں نوچتا رہا جبکہ ہم نے مولانا کی غلط چیزوں سے اختلاف اور نااتفاقی کا اظہار کردیا تھا ان کے نزاعی موقف کو جو جمہور اہلسنت والجماعت کےخلاف تھا اس کی ہم نے بھی تردید کی، کیونکہ ان سے محبت عقیدت اور تعلق کبھی بھی غلط چیزوں میں مجھے سلمان صاحب کی تائید پر آمادہ نہیں کرسکے ان سے جب کبھی اختلاف ہوا میں نے مخالفت کی، یہ میرے تعلق کی ایمانی شفافیت ہے الحمدللہ، لیکن مجھے لگتاہے کہ اب وہ اپنے غلط موقف سے واپسي کرچکے ہیں اور انہوں نے اس سے تنازل اختیار کرلیا، انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا جس پر وہ توبہ بھی کرچکے معافی بھی طلب چکے اور حضرت مولانا رابع حسنی صاحب کے یہاں حاضر بھی ہیں، تو یہ کافی ہے، لہذاٰ جسطرح ہم نے مخالفت کی تھی ویسے ہی میرے ضمیر کی آواز ہے کہ اس پہل کا استقبال کرنا چاہیے کہ یہ اطمینان بخش ہے، اور مولانا سلمان حسینی کی عالی نسبتوں کے تناظرمیں جو ان کو حاصل ہیں ان کے لیے واپسی کا اتنا ہی تقاضا تھا اس کے بعد مزید شور شرابہ اور ہنگامہ ناانصافی ہوگی، اور مزید جو کچھ ضروری ہوگا وہ اب بڑوں کے حوالے ہے، امت میں خوشگواریوں کا استقبال ہونا چاہیے، اگر اتحاد اور سکون چاہیے تو ادنی سی اچھی پہل کو سر آنکھوں پر رکھنا چاہیے
مولانا سلمان حسینی صاحب کے والد مولانا طاہر منصور پوری ؒ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی ؒ کے خلیفہ تھے اسی کے ساتھ وہ عارف بالله ڈاکٹر عبدالعلی صاحب ؒ کے داماد تھے ڈاکٹر عبدالعلی صاحب ؒ ایسے الله والے تھے جنہوں نے مفکر اسلام مولانا علی میاں ندویؒ کی تربیت کی تھی، مولانا سلمان حسینی صاحب مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی ؒ کے نواسے ہیں ان کی تربیت میں مولانا علی میاں ندوی ؒ عارف بالله حضرت احمد پرتاب گڑھی قاری صدیق باندوی ؒ جیسے عظیم الله والوں کا ہاتھ ہے
*مولانا سلمان حسینی صاحب نے تصوف و سلوک کے ذریعے مزید اصلاح کے لیے پاکستان کا رخ کیا اور وہاں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ شاہ نفیس الحسینی ؒ سے بیعت ہوئے، حضرت شاہ صاحب بڑے مشائخ میں سے تھے وہ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ جیسے نابغہء روزگار ولئ کامل کے خلیفہ تھے، انہوں نے مولانا سلمان حسینی صاحب کو ناصرف اجازت و خلافت سے نوازا بلکہ آگے چل کر اپنی خانقاہ کا سرپرست بنایا* اور اپنی وفات کے وقت اپنے جانشین پوتے کو مولانا سلمان حسینی کی سرپرستی میں دیا
اسقدر مراحل طے کرنے کے باوجود مولانا سلمان حسینی صاحب نے شاہ نفیس الحسینی کی وفات کےبعد حضرت مولانا رابع حسنی ندوی صاحب کو اپنا شیخ و مرشد بنایا جوکہ حضرت مفکر اسلام کے خلیفہ ہیں، آگے چلکر مولانا رابع حسنی ندوی صاحب اور حضرت مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی ؒ کے ایک اور خلیفہ حضرت مولانا علی آدم ندوی صاحب نے بھی مولانا سلمان حسینی صاحب کو اجازت و خلافت سے نوازا
*فنِ حدیث اور فکر اسلامی پر مولانا سلمان حسینی صاحب کی دسترس اسقدر مضبوط اور راسخ ہے کہ ان کے کمالِ علم و اصول کو دیکھنے کے بعد*
شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی ؒ، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی ؒ، عالمِ عربی کے عظیم محدث شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ، محقق و محدث حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی ؒ ان کی کتاب مكانة الامام ابى حنيفة فى الحديث بڑی مشہور ہے، اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی رحمھم الله جیسے آفتابِ علم ماہتاب فضل نے اجازت حدیث سے نوازا ہے
*مولانا سلمان حسینی کی علوم قرآن و حدیث پر تصنیفی و تحقیقی خدمات، سیرت نبویﷺ کی تفہیم و تدریس میں ان کا کمال، موجودہ دنیا پر اسلامی نقطۂ نگاہ منطبق کرنے میں ان کا کمال، عالمِ اسلام کی صورتحال پر ان کی بصیرت افروز نگاہ، ظالم شیطانی و دجالی طاقتوں کی نقاب کشائی میں ان کی بیباک خدمات، لازوال ہیں، اور چند روزہ نہیں بلکہ ان کی مکمل زندگی ستر سالہ زندگی اسلام کی ہر میدان میں سپہ سالاری کرتے گزری ہے، ان کی خدمات، ان کی نسبتیں عالی شان اور بے نظیر ہیں، ان کی ایک غلطی ان کی عظمتوں بھری تاریخ پر حاوی نہیں ہوسکتی اب ان کے رجوع اور واضح معافی کےبعد جو ان پر لعن طعن کرنا چاہے وہ ان کی حیات و خدمات اور مقام و مرتبت میں اپنا آئینہ دیکھے کہ کیا وہ ان کی برابری کرسکتاہے؟ اگر ایسی عظمت و نسبت اور قربانیوں کے حامل شخص کی معافی، رجوع اور واپسی کو اب بھی کوئی قبول نہیں کرتا تو اسے جانچنا چاہیے کہ سید سلمان حسینی صاحب کی مخالفت وہ حبِ صحابہ کے جذبات میں کررہےتھے یا نفسیاتی بھڑاس میں، بہت سارے لوگ ہیں جو دجالی طاقتوں کے خلاف مولانا کی سرگرمیوں کی وجہ سے بپھرے رہتے تھے اور جن کا بڑا خواب تھا کہ سلمان ختم ہوجائے، کئی آرزوئیں تھیں کہ سلمان کی زبان تھم جائے، بڑی طاقتوں کی ترجیح تھی کہ سلمان ٹھہر جائے، بدقسمتی سے مولانا نے انہیں اب موقع دے دیا تھا لیکن الله نے اپنے نیک بندے کو سہارا دیا اور خوش قسمتی سے وہ موقع جو دشمنوں حاسدوں اور طاقتوں کو میسر آیا تھا وہ بند ہوگیا،* عالم عربی کے ظالموں پر، امریکہ و اسرائیل نوازوں کے خلاف اسی طرح امت کو ترقی دلانے کے لیے جن اصلاحات کا علم سید سلمان حسینی نے بلند کیا ہوا تھا اس نے اچھے اچھوں کی نیند اڑا رکھی تھی، یہ بات سبھی کو قبول ہے کہ موجودہ ہندوستان میں عالم عربی کے علمائے حق سے ہندوستانی مسلمانوں کا تعلق بنائے رکھنے میں بہت سے افراد کے بشمول سید سلمان حسینی صاحب کا لازوال کردار ہے، بڑے بڑے لوگوں پر دباؤ رہتا تھا کہ اس شخص کو خاموش کرو، مولانا نے صلیبی و صہیونی اور سعودی سازشوں کے پرخچے اڑائے ہیں یہ کون نہیں جانتا؟ ایسے تمام عناصر کے لیے سلمان حسینی صاحب کی یہ غلطی نعمت تھی عظیم نعمت اب وہ بوکھلائیں گے کہ یہ موقع کیونکر ہاتھ سے نکلا چلا جاتاہے، اب جو لوگ مولانا سلمان حسینی صاحب پر کفر و نفاق کا غوغا کرینگے وہ ماضی میں کہیں نہ کہیں سلمان حسینی صاحب کی حقیقت بیانی اور جراتمندانہ اسلامی موقف کی نمائندگی کرتے ہوئے زد میں آئے ہوں گے، کیونکہ جس نے اپنی ذات کے لیے جھگڑا نہیں کیا ہوگا اس مومنِ مخلص کے لیے رجوع، توبہ معافی اور حاضری کےبعد اب مزید جھگڑے کی گنجائش نہیں ہے، *سلمان حسینی صاحب نے آلِ سعود کے صہیونی کردار کو واشگاف کرنے میں تاریخی رول ادا کیا ہے جس سے ایک ٹولہ ہمیشہ ان کے خلاف رہا اور مولانا کی غلطی کو اس نے مولانا کے خاتمے کے لیے استعمال کیا اور سلمان مخالف فضاء کو بھڑکائے رکھنے کے لیے وہ کوشاں رہے یہ ٹولہ پوری دنیا میں ہمیشہ اہلِ حق مجاہدین اور اسلامی عزیمت کے خلاف آپکو نظر آجائےگا، لہذا حاسدوں، معاندوں خالص مخالفوں اور اس مخصوص ٹولے سے بچے رہیں،* امت کو آج اپنے قیمتی افراد کی ضرورت ہے سلمان حسینی ایک قیمتی ہیرا ہے اس امتِ مرحومہ کا، وہ اپنی غلطی سدھار لیے ہیں رجوع بھی کیا توبہ بھی کی، معافی بھی مانگ لی، ان کی جو حیثیت تھی اس صورت میں اتنے مراحل کافی ہیں ، اب نا ہی کسی کو اصولی حق حاصل ہے نا ہی سوشل میڈیا پر ہلڑ مچانے والے مولانا سلمان صاحب کے مقام و مرتبے کے ہم پلہ ہیں کہ ان پر داروغہ بن کر بیٹھ جائیں، جن لوگوں نے سلمان صاحب کی مخالفت کی تھی ان میں یقینًا مخلصین بھی تھے ابھی بھی ہیں جنہوں نے الحب فی الله والے اصول پر عمل کیا، یقینًا بیشمار لوگ ہیں جنہوں نے نیک جذبات کے ساتھ سلمان صاحب کی مخالفت کی، لیکن وہ بھی تھے جن کی عرصے سے تمنا تھی کہ سلمان کی یہ حق گو زبان بند ہوجائے، ان کو چاہیے کہ اب سلمان صاحب کی پہل کا استقبال کرلیں، اور اب ان کی رفعت و منزلت کی سطح سے ان سے بات کریں، اس کے علاوہ اگر مگر وہی کرینگے جو اس بہانے سلمان حسینی کا خاتمہ چاہتے تھے *اگر کسی کو مزید کچھ چاہیے مزید اطمینان کرناہے تو اب اس پر ضروری ہیکہ وہ مولانا کی طرف سفر کرے، مولانا مسلسل اپنی غلطی کو ختم کرنے کی کوشش کررہےہیں اور ان کی اس پہل پر مجھ سمیت مولانا کے ہزاروں تلامذہ اور لاکھوں چاہنے والے مولانا کا استقبال کررہےہیں، اگر اس غلطی کی اصلاح میں مزید کسی نقطے سے اتمام کی ضرورت ہوگی تو اللّٰہ رب العزت مولانا کی راہ نمائی فرمائیں گے. اکابر علمائے اہلِ حق اور مشائخ رابطہ کررہےہیں وہ ضرور اپنی جماعت کے عظیم فرد کے تئیں سوشل میڈیا پر ہلڑ مچانے والوں سے زیادہ فکرمند ہیں، امت میں خوشگواریوں کا استقبال کرنے والے آج اخلاص کے چراغ ہیں* محمدﷺ کی خواہش کےمطابق امت پنے کو قائم کرنے والے ہیں، اس پرآشوب دور میں ایک نزاعی باب کا خاتمہ الله کا خاص فضل ہے، *قوم اور قومیت امت اور امت پنا یہی ہیکہ اس پہل پر منفی باتیں نا ہوں بلکہ ایکدوسرے کے گلے لگا جائے، شکوے گلے ختم کیجیے، محبتوں کے پھول برسائیے، آنکھیں مت دکھائیے بانہیں مت چڑھائیے محبتانہ تبسم بکھیریے بانہیں پھیلا کر گلے لگائیے یہ وقت آپس میں محبتوں کو بڑھانے دلوں کو جوڑنے اور ایک جان ہونے کا وقت ہے دیکھیے کہ اسلام دشمن طاقتیں آپس میں مخالف ہونے کے باوجود اسلام دشمنی میں مسلمانوں کےخلاف متحد ہوچکی ہیں آئیے ہم اسلام کی خاطر متحد ہوجائیں۔
الله مولانا سلمان حسینی کی جرات و عزیمت علمی و اصولی دسترس صہیونی ریشہ دوانیوں کے خلاف ان کی بصیرت، فکرِ ولی اللہی پر ان کی نگاہ، مشائخِ حق سے ان کے ایمانی روابط، ان کی عظیم نسبتوں اور عالی اسناد سے امت کے لیے فیضِ عام کا دروازہ تادیر قائم و دائم رکھے_