مشفق ومربی استاد جناب ماسٹر ابو القاسم صاحب اس دار فانی سے کوچ کرگئے

127

آج صبح نو بجے جب گھر امی کو فون کیا خبر خیریت کے بعد ایک نہایت افسوس ناک خبر انہوں نے سنائی کہ ہمارے بچپن کے نہایت ہی مشفق ومربی استاد جناب ماسٹر ابو القاسم صاحب اس دار فانی سے کوچ کرگئے .

اللہ حضرت کی مغفرت فرمائے اور انکے صاحبزادگان ابوالکلام بھائی اور مظہر بھائی اور اہل خانہ کو صبر جمیل بخشے ..

ابھی جیسے چند برسوں کی بات ہو ہم لوگ ڈومریا مدرسہ (فیض المنت ) ڈومریا میں تھے تو سب سے زیادہ فیض اور نگاہ کرم اور شفقت ان سے ہی ملتی تھی اور چونکہ میں ماسٹر مرحوم صاحب کیساتھ اکثر رہا کرتا تھا گرچہ عمر طفولیت کی تھی لیکن پھر بھی ماسٹر مرحوم صاحب سے لگاؤ زیادہ تھا رمضان میں بھی مدرسہ میں قیام کرنا اور چندہ کی غرض سے گاؤں کی چکر لگانا وغیرہ وغیرہ بہت سی یادیں ہیں ۔۔

البتہ ہم آج جو بھی اردو ، حساب ، ہندی ، انگلش لکھ اور پڑھ سکتے ہیں ابتدائی تعلیم ان سے ہی پائی ہیں اور ہندی تو انکے بعد کہیں نہیں پڑھا ، انکا انداز درس نرالا تھا اتنا نرالا کہ ہمارے بیچ کے اکثر رفقاء کو املا نویسی میں درجہ ثانیہ اور ثالثہ سے ہی مہارت حاصل ہوجاتی تھی اور انکی ہی مرہون منت ہمارا حساب بھی ہے ..

ماسٹر مرحوم صاحب اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ ” عبد الحکیم ہمیشہ وقت کی پابندی کیا کرو اور سبق کبھی ناغہ نہ کرو اور جب چاہے میرے کمرے میں آکر پوچھ لیا کرو اور اپنی امی کی بات کبھی نہ کاٹو اور انکی بات کا اتنا اثر ہوتا تھا کہ امتحانات میں پوزیشن بھی کبھی کبھار ہمارے نصیب میں ہوتی تھی اور جب بھی ڈومریا چوک سے آتے تو یکسر پاپڑ یا کچھ بچوں کے لئے لایا کرتے تھے ..

تقریبا سنہ 2005 ( میری یاد داشت ) سے ریٹائرمنٹ تک مرحوم صاحب جس پوسٹ پر بھی فائز ہوئے بخوبی انجام دیا ، جب تک ہاسٹل انچارچ رہے بچوں کو وقت پر جگانا اور فجر میں سب کا معائنہ پھر سب کو لیکر 2 کیلومیٹر دوڑ لگانا اور ورزش کرانا پھر پورے صحن کی صفائی کرانا یہاں تک آج بھی کئی اشجار انکی ہمدردیوں کے قصے آپ کو سنائیں گی چونکہ پورا پارک نما صحن انکی ہی کاوش ہے انکے جیسا کوئی سجاوٹ کر بھی نہ سکا ۔۔

پھر انکو مطبخ کی ذمہ داری بھی ملی تھی انہوں نے مطبخ کا نظام ایسا چلایا کہ کبھی بھی کسی زباں پر شکایت نہ آئی اس طرح تقریبا ہر منصب پر فائز ہوئے سب کو بخوبی انجام تک پہونچایا کرتے تھے ..

یہاں تک کہ مجھے یقین ہے کہ جو بھی ان سے فیض یاب ہوا سبھی کو انکے خوبیوں کا پتہ ہے اور سب سے انکی کچھ یادیں وابستہ ضرور ہیں…اور چونکہ وہ بھی انسان تھے تو ضرور کبھی ان سے کوئی بھول چوک ہوئی ہونگی ہمارے علم میں تو نہیں ہیں البتہ جن سے ایسی غلطیاں منسلک ہوں وہ معاف فرما دیں اللہ اسکا بھی اجر دیگا اور اگر چاہیں تو میں ازخود یا مظہر بھائی (ماسٹر مرحوم صاحب کا چھوٹا فرزند ) سے بذریعہ فون یا گھر آکر معافی مانگ لونگا ۔ ” والله يجزاكم الخير والعافية ”

اخیر میں یہ کہوں گا کہ” وہ تو ایسا تھا جنکا استقبال قبر نے بھی کیا ہوگا اور کرے بھی کیوں نہ سینکڑوں انکے لئے دعاگو ہیں اور جب تک انکی تعلیمات ہم میں ہیں انکے لئے صدقہ جاریہ ہیں ۔۔

اللہ ان کو غریق رحمت کرے ۔۔

انکا عزیز :- عبد الحکیم الندوي ڈومریا …