مسیحا کی موت! خورشید انور ندوی

85

سچ اپنے آپ میں طاقتور ہوتا ہے.. اور بولنے والے کو ہیرو بنادیتا ہے.. لیکن ڈرپوک سچ بول نہیں سکتا.. جانتا بوجھتا سمجھتا سب ہے… آج انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک رپورٹ میں اپنی بپتا سنائی ہے.. اور اس جن سیوا کے پردھان سیوک کی خوب کھلی اڑائی ہے.. میرے لئے یہ خبر غصے سے زیادہ تکلیف اور دکھ کی ہے.. 382 میڈیکل ڈاکٹرز کی موت دشمن ملک سے جنگ ہار جانے کے مترادف ہے.. ہم انھیں ملک کی خدمت کے شہید سپاہی قرار دے کر اپنا اور ان کے خاندانوں کا غم کم کرسکتے تھے، اور اپنا سر فخر سے بلند کرسکتے تھے.. اگر ima نے ان افسوسناک اموات کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے کر اخلاقی فرد جرم عائد نہ کی ہوتی.. میڈیکل انشورنس اور پس مرگ زر تلافی کے بارے میں ایسوسی ایشن نے سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے.. ادھر یوپی میں ڈاکٹروں نے غیر معیاری حفاظتی کٹ کا اسکینڈل اجاگر کیا ہے..آخر یہ لاپرواہ حکومت، اپنے پروپگنڈہ میڈیا مشن کے بل بوتے پر کب تک زندہ رہے گی.. ادھر پرسون باجپئی نے ایک نہیں کئی Aiims کا بھانڈا پھوڑا ہے.. کئی ایمس جو اب تک بن جانے تھے ابھی تک زمین پر نہیں ہیں.. 2014 کے بجٹ میں اعلان کردہ سارے ایمس اب آپریشن میں ہونے چاہیے تھے، جو ابھی تک بنے ہی نہیں،اور بہار الیکشن کے پیش نظر انھیں ایمس کو سابقے اور لاحقے کے اضافہ کے ساتھ لایا جارہا ہے، اور جھوٹے پردھان سیوک کے ہاتھوں آدھار شیلا رکھوائی جارہی ہے.. خیر یہ تو کرپشن کی ایسی کہانی ہے جو ایک کان سے سننے اور دوسرے کان نکال دینے کے ہم عادی ہوچکے ہیں… مجھے ملال ان مسیحاؤں کی موت کا ہے، جو محض حکومت کی سفاکی لاپرواہی اور غرور کی بھینٹ چڑھ گئے.. کیا ظلم ہے کہ ان شہیدان خاک وطن میں ایک ستائیس سالہ ڈاکٹر بھی تھا.. وہ وفا شعار تو وطن اور اہل وطن پر جان وار بیٹھا، اپنا عہد وفا، بے وفا ناقدری قوم سے بھی نبھا گیا.. اس کے پیچھے اس کے خاندان کے درد کی کسک پورا ملک محسوس کرے گا.. چاہے شری دوردھن اور ان کے نائب شری اشونی دوبے کریں نہ کریں.. دوبے تو اپنے بیانوں میں بھی آدھے مجرم لگتے ہیں. شاید ان جیسے بے رحم آدمی کو انسانی زندگی کو بچانے کا شعبہ سپرد کرنا، قصاب کو گائے دینا ہے.. جو انسانی زندگی سے کھلواڑ کی بات کریں وہ زندگی کا بچاؤ کیسے کرسکے گا؟ پارلیمنٹ میں وبا سے نمٹنے کیلئے اپنی حکومت کی خوب واہ واہی کی گئی ہے، اور خیالی اعدادوشمار کا گورکھ دھندا کیا گیا، لیکن ڈاکٹرز کی قربانیوں کا کوئی تذکرہ بھی نہیں کیا گیا.. دعوی کیا گیا کہ ہم نے امکانی طور پر دو ڈھائی لاکھ جان بچائی ہے، جو جا سکتی تھی.. اور یہ کہا جارہا ہے امکانی طور پر کتنے ہی شہری جان گنوا سکتے تھے، حکومت کے بروقت جراتمندانہ فیصلے سے وہ بج گئے .. اب تو یومیہ شرح اموات تیرہ سو پہونچ گئی ہے..
خاص بات یہ ہے کہ کسی قومی یا بین الاقوامی فورم نے وبا سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کی حکومت کی سراہنا نہیں کی، بلکہ بہتر اور سنجیدہ اقدامات کی صلاح دی ہے.. جب کہ پڑوسی ملک پاکستان کی جم کر تعریف کی گئی ہے اور WHO نے کووڈ سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو رول ماڈل قرار دیا ہے،جہاں وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کیا ہی نہیں، صرف سندھ نے چند دن کے لئے کراچی شہر میں کیا تھا، اور وفاق نے اس کی مخالفت کی، اور ان لاک کرایا..
اس وبا میں ہم شہریوں کی قیمتی جانیں گنوارہے ہیں. ان کو بچانے والے جان ہار رہے ہیں اور ہم سرحدوں پر ایک ایسی جنگ جیتنے کے لئے پورے ملک میں ہنگامہ مچارہے ہیں، جو ہوئی نہیں.. بیس فوجیوں کی شہادت اہم ہے، ان کی جان ہماری سرحد بچانے اور دھرتی کی حفاظت میں گئی ہے، لیکن یہ 382 دھرتی کے سپوت کس کے لئے اپنی جانیں ہار بیٹھے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم پورے ملک میں مرنے مارنے والے ماحول کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور امن کے سپاہیوں کو نظرانداز کررہے ہیں.. اگر ایسا ہے تو ہم زندگی کے بارے میں کم سوچ رہے ہیں.