ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمسلم نوجوانوں کاطبقہ ارتداد کے دہانے پر

مسلم نوجوانوں کاطبقہ ارتداد کے دہانے پر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

           مسلم نوجوانوں کا طبقہ ارتداد کے دہانے پر

       اللہ تبارک و تعالی کا بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ایمان جیسی پیش بہا نعمت سے نوازا اور سرفراز کیا ہے اللہ تعالی ہمیں اس پر قائم و دائم رکھے۔ امت مسلمہ آ ج جن بڑے بڑے حالات اور سنگین مسائل سے دو چار ہے ان میں سے ایک ارتداد اور الحاد کا مسئلہ ہے مسلم دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہوگا جو اس سنگین مسئلے سے دو چار نہ ہو۔ ہمارا ملک ہندوستان بھی اس سنگین مسئلے سے شدید طور پر متاثر ہے۔ ملک کے ہر چہار جانب سے آئے دن یہ خبر مل رہی ہے کہ فلاں مسلمان اسلام چھوڑ کر دوسرے مذہب میں داخل ہوگیا یا دوسرے مذہب سے متاثر ہو کر مذہب اسلام کو ترک کر دیا، یا فلاں مسلمان کو زبردستی کسی غیرمسلم کے ذریعے مزہب اسلام چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا یا کوئی مسلمان کسی کی خاطر مجبوری کی وجہ سے مذہب اسلام کو تیاگ دیا۔

     یہ دور فتنوں کا دور ہے طرح طرح کے فتنے وجود میں آرہے ہیں ہیں جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جارہے ہیں ہوتے ہیں فتنے جنم لیتے جا رہے ہیں اور فتنے بڑھتے چلے جا رہے ہیں ان فتنوں کی زہریلی اثر مسلم معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

   اس وقت پورے عالم میں مذہب اسلام کو مٹانے اور سلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسلام دشمن طاقتیں متحد ہوکر پوری طرح زور آزما ہے کہ اسلام کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹیا جائے اسلام کے قوانین کو بدل دیا جائے، آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مٹا دیا جائے اور شریعت کے احکامات کو ختم کردیا جائے یا کم ازکم مسلمانوں کو مسلمان باقی نہ رہنے دیا جائے۔ ان سب سے بڑھ کر مسلم لڑکیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے اور انھیں اپنے گھر کی بہو بنانے کی دھمکی دی جا رہی ہے یہ دھمکی اور چیلنج کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ کھلم کھلا اسٹیج پر دیا جا رہا ہے یہ لوگ لوگ اپنے ٹارگیٹ اور ارادے میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ جیسا کہ 2017 میں آر ایس ایس کے منچ سے کھلم کھلا اعلان کیا گیا تھا کہ ہم اکیس سو مسلم عورتوں کو اپنے گھر کی بہو بنائیں گے۔ چنانچہ 2017 سے لے کر 2021 کی آخیر تک کی یہ ریکارڈیڈ خبر ہے کہ 40 ہزار سے زیادہ مسلمان عورتیں غیر مسلم کے گھروں کی بہو بنائی ہوئی ہیں ۔ یہ تو صرف ریکارڈ یڈ اور درج کئے ہوئے کیس ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جن کا کیس درج نہیں اور ہم ہیں کہ محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں جالوں میں پھنسایا جا رہا ہے خاص طور پر چار کاموں کے ذریعہ سے اسلام سے بدظن کیا جا رہا ہے نمبر 1 احکام شریعہ پر حملہ کیا جا رہا ہے نمبر 2 فر قہ پرست طاقتوں کے ذریعے مسلم عورتوں کو ارتداد کے دہانے پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے نمبر 3 میڈیا کے ذریعے چاہے پرنٹ میڈیا ہو الیکٹرونک میڈیا ہو یا پھر سوشل میڈیا ہو ، میڈیا کے ذریعے ہمارے نئی نسل کے ذہن کو خراب کیا جا رہا ہے۔ نمبر چار اسکولوں اور کالجوں میں بیحیائی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ قرآن کے احکامات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کی زندگی کو ہے بیچارے اسلام سے ناواقف مسلمانوں سے غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ اسلامی احکامات سے نفرت بھی لایا جارہا ہے۔اسلام کو تنگ اور سست مذہب بنا کر پیش کیا جارہ ہے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے بچوں کے سامنے نے دوسرے مذہب کا تعارف اور دوسرے مذہب سے متاثر کیا جا رہا ہے۔ اسلام کے اتار چڑھاؤ سے ناواقف اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے مسلمان بچے اپنے اساتذہ کے اعتراضات کا جواب نہیں دے پاتے ۔اس طرح سے نوجوانوں کا ایک اچھا خاصا طبقہ مذہب اسلام سے نکل کر دوسرے مزہب میں داخل ہو رہا ہے ۔عورتیں بے لگام ہوتی چلی جارہی ہیں۔ نوجوانوں کا طبقہ اپنے آپ کو مشرقی کلچر یا مغربی کلچر سے جوڑ رہا ہے اور اپنے آپ کو ماڈل ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے ۔

    اللہ تعالی نے ہمیں دو ہی کلچر دیا ہے ایک خدا پرستی کا کلچر دوسرا نفس پرستی کا کلچر ۔ جو شخص بھی نفس پرستی کے کلچر کے حساب سے جینا چاہتا ہے اور اور اللہ کے احکامات سے بغاوت کرنا چاہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے دور ہٹ کر جینا چاہتا ہے دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتا ہے نفس پرستی کو خدا پرستی پر ترجیح دیتا ہے اللہ کے دین سے منہ موڑتا ہے ان کے بتائے ہوئے احکامات کو ٹھکراتا ہے تو اللہ تعالی ایسے شخص کے بارے میں کہتا ہے فاما من طغى واثر الحياه الدنيا فان الجحيم هي الماوى واما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى فان الجنه هي الماوى۔ ترجمہ پس جو شخص سرکشی کرے اور دنیاوی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے تو بے شک ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جو شخص اکیلا اپنے رب کے سامنے نے پیش ہونے سے ڈرے اور نفس کی پیروی نہ کرے تو بیشک انکا ٹھکانا جنت ہے۔

    جو شخص ایمان لانے کے بعد اسلام قبول کر لینے کے بعد اللہ کے اوپر یقین کر لینے کے بعد کسی دوسرے مذہب میں داخل ہو جاتا ہے ارتداد کے ہوا میں بہہ جاتا ہے تو اللہ تعالی ایسے شخص کے بارے میں کہتا ہے۔

   من كفر بالله من بعد ايمانه الا من الا من اكره والقلبه مطمئن بالايمان ولكن من شرح بالكفر صدرا عليهم غضب من الله ولهم عذا ب عظيم۔ ترجمہ: جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کرے مگر وہ شخص جسے مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن وہ شخص جس کا دل کفر سے بھڑا ہو ان کے اوپر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

ہم نے اسلام قبول کیا ہے ہے ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اور کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرنا چاہیے خدارا اپنے بچوں کو ارتداد اور الحاد کی ہوا سے بچائیں اسلامی تعلیمات دیں اسلام کی روشنی سے منور کریں اسلام پر ہونے والے اعتراضات سے انہیں واقف کرائیں۔ انہیں اتنی تعلیم ضرور دیں کہ ظالموں کے چیلنجز کا سامنا کر سکے اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دے سکے ورنہ نہ وہ دن دور نہیں ہیں کہ ہم بھی اس ارتداد کی ہوا میں بہ جائیں گے اور ہمارے بچے بھی اس ہوا میں بہہ جائیں اور یہ ارتداد کی ہوا ہمارے گھروں کے اوپر سے چلے گی اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔ اس دن کے آنے سے پہلے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دیں اور اسلام سے واقف کرائیں۔

محمد انتخاب عالم

بھیرو پور

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے