مسلم معاشرے کو شادی خانوں، ہوٹلوں سے زیادہ تحقیقی مراکز کی ضرورت

62

مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی کا بیان
(پریس نوٹ ) مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی(کامل الحدیث جامعہ نظامیہ )، خلیفہ و جانشین دوم حضرت شاہ سید شفیع اللہ حسینی القادری الملتانیؒ (سابق سجادہ نشین درگاہ امام پورہ شریف) و جنرل سکریٹری مرکزی مجلس فیضان ملتانیہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ جس میں ذرہ برابر بھی غرور و تکبر ہوگا وہ جنت سے محروم رہے گا لیکن مسلم معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت نہ صرف غرور و تکبر کا شکار ہے بلکہ مختلف اقسام کے غرور میں مبتلا ہے۔ کسی کو مال و دولت کا غرور ہے، کسی کو مقام و منزلت کا غرور ہے، کسی کو علم و عمل کا غرور ہے، کسی کو حسب و نسب کا غرور ہے اور کسی کو اثر و رسوخ کا غرور ہے ۔ اسی طرح دین اسلام میں فضول خرچی کی مذمت بیان ہوئی ہے اور مسلمانوں کو بتایا گیا کہ اسراف کرنے والا شیطان کا بھائی ہوتا ہے اور ایک مقام پرکہا گیا کہ جو لوگ غلط روش اختیار کرکے شیطان کے مددگار بنتے ہیں اور شیطانی فوج میں بھرتی ہوجاتے ہیں انجام کار انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔اس سخت ترین تنبیہ کے باوجود مسلمان نہ صرف عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہیں بلکہ بے جا اسراف اور نمود و نمائش کی مختلف اشکال ایجادکرلی ہے۔ مسلم معاشرے میں عالی شان اور محل نما شادی خانوں کی کثرت اور غیر ضروری بڑے بڑے ہوٹلوں کاقیام اسی قبیل سے ہے۔جبکہ موجودہ حالات کا اشد تقاضہ ہے کہ مسلم معاشرے میں اعلی اور معیاری طرز کے تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ بحال ہو۔ واضح باد کہ شادی خانوں اور ہوٹلوں میں سرمایہ کاری کرنے سے چند لوگوں کا مالی فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اس طرح کے کاروبار کے منفی اثرات پوری انسانیت بشمول شادی خانوں اور ہوٹلوں کے مالکین پر پڑتے ہیں جبکہ اعلی اور معیاری طرز پر تحقیقی مراکز قائم کرنے سے سرمایہ مشغول کرنے والوں کو برائے نام مالی منفعت حاصل ہوتی ہو لیکن اس کے مثبت اور دیر پا اثرات پوری انسانیت پر پڑتے ہیں چونکہ ان اداروں سے علم و تحقیق کے نئے دروازے کھلتے ہیں جس سے ہر روز تعمیر و ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اس کے برعکس شادی خانوں اور ہوٹلوں کی وجہ سے مسلم معاشرہ روز افزوںپستی کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق یومیہ کروڑہا روپیہ مسلمانوں کا یا تو شادی خانوں کے کرایہ کی ادائیگی میں ضائع ہورہا ہے یا پھر ہوٹلوں کی نظر ہورہا ہے ۔ جب انسان عیش و عشرت کی زندگی کا خوگر ہوجاتا ہے تو اس کا احساس مرجاتا ہے ۔ہماری بے حسی کی اس سے بڑی اور حیران کن صورت حال کیا ہوسکتی ہے کہ یو ٹیوب اور سوشیل میڈیا پر ارطغرل غازی نامی سیریل بہت مشہور ہورہا ہے جس میں سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان کے والدارطغرل کی داستان بتائی جارہی ہے جنہوں نے تاتاری اور صلیبی فتنوں کو کچل کر سلطنت عثمانیہ کے قیام میں اہم رول ادا کیا تھا۔ اس طاقتور سلطنت کا دبدبہ تقریباً چھ سو سال تک تین بر اعظموں پر قائم رہا۔ اس سیریل کے بنانے والوں کو کہیں نہ کہیں یہ اُمید رہی ہوگی کہ نوجوان نسل کو اس سیریل کے ذریعہ اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا ،ان کی ایمانی حرارت، حمیت و غیرت میں اضافہ ہوگا اور ان کے اندر مومنانہ کردار کے ساتھ ز ندگی گزارنے کا جذبہ موجزن ہوگا لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس ۔ ارطغرل کے عظیم کارناموں سے مسلم نوجوانوں میں کوئی تبدیلی آئی ہو یا نہیں لیکن بازاروں میں ارطغرل کے نام سے ہوٹلیں ضرور قائم ہونے لگی ہیں۔ ہمیں تو حکم دیا گیا تھاکہ اگر تم بہشت کی دائمی و ابدی نعمات کے وارث بننا چاہتے ہو تو سعادت کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دنیاوی امور و معاملات میں سبقت لےجانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ایسی ہی بے اعتنائی مسلمانوں نے چودہویں صدی عیسوی کے ممتاز و معروف سیاح ابن بطوطہ کے ساتھ بھی کیا ہے جس نے 75 ہزار میل کا سفر کرکے مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی معلومات کو کتابی شکل دی جس کا نام رحلہ ہے۔ اس کتاب کا اصلی نام ”عجائب الاسفار فی غرائب الدیار“ ہے۔ بہت کم مسلم نوجوان ایسے ہیں جو ابن بطوطہ کو اس حوالے سے جانتے ہوں لیکن مسلمانوں کی اکثریت ابن بطوطہ کو ایک فلمی نغمے سے جانتی اور پہچانتی ہے۔کاش ہم ابن بطوطہ کو اس کے سفرنامے کے حوالے سے جانتے ہوتے تو مسلم نوجوان نسل کے پاس علم کا وافر ذخیرہ موجود ہوتا ۔یہ سب اس لیے ہورہا ہے چونکہ مسلم نوجوانوں میں عقلی و تحقیقی رجحان ،سائنسی ذوق و شعور اور دانشورانہ و ناقدانہ مزاج میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہونے کے باوجود کورونا ویکسین کی ایجاد، تیاری اور تقسیم میں مسلمانوں کا کردار صفر کے برابر ہے۔جبکہ یہ بھی ایک طی شدہ اور تاریخی حقیقت ہے کہ خلافت عباسیہ کے دور میں مسلمانوں نے یونانی، سرائیکی، پہلوی اور سنسکرت زبانوں میں لکھی گئی مختلف علوم کی کتابوں کو عربی میں ترجمہ کیااور سائنس، فلسفہ،طب، علم معاشیات، الغرض ہر میدان میں ایسے کارہائے نمایاں اور خدمات انجام دیے جو ناقابل فرامو ش ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کا دبدبہ پوری دنیا پر قائم ہوگیا تھا۔ ہمارے اسلاف کے انہی علمی تحقیقات و خدمات سے یورپ کے نشاۃ ثانیہ کی راہ ہموار ہوئی تھی۔’لاسٹ ہسٹری اینڈ عربیہ: دی گولڈن ایج‘ کے مصنف مسلمانوں کی علمی و تحقیقی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”کئی دہائیوں تک اسلامی تہذیب دنیا کی سب سے ترقی پسند قوت تھی“۔ تیرہویں صدی عیسوی میں خلافت عباسیہ پر چنگیز خان اور ہلاکو خان نے حملے کرتے ہوئے مسلمانوں کے فکری ورثے کو تباہ وتاراج کردیا۔ اس بربادی کے اثرات آج تک مسلم معاشرے میں پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج بھی جدید سائنسی علوم سے مسلمانوں کی اکثریت کا کوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ مسلمانوں کے اس فکری تنزل و انحطاط کی دوسری اور اہم وجہ خود مسلمان ہیں چونکہ آج کا مسلمان شادی خانوں اور ہوٹلوں میں سرمایہ مشغول کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلم معاشرے میں تعلیمی اداروں کی کوئی قلت ہو۔حقیقت تویہ ہے کہ مسلم معاشرے میںاعلی و عصری تعلیم کے اسکولس اور کالجس بھی بکثرت پائے جاتے ہیں لیکن وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءو طالبات کی اکثریت صرف اس نیت سے سند یا ڈگری حاصل کررہے ہیں تاکہ انہیں اچھی ملازمت مل جائے ۔یقینا اس فکر میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن حصول روزگار ہی کو تعلیم کا مقصد سمجھ لینا انسان بالخصوص مسلمانوں کی بہت بڑی غلطی و بھول ہے چونکہ جب انسان محض حصول روزگار کے لیے تعلیم حاصل کرنے لگتا ہے تواُس وقت تعلیمی صداقتناموں کی کوئی اہمیت و وقعت باقی نہیں رہ جاتی سوائے اس کے ڈگریاں تعلیمی اخراجات کی رسیدیں بن کر رہ جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج اعلی تعلیمی ڈگریاں رکھنے والے افراد میں بھی جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور سماج میں سدھار آنے کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہورہا ہے چونکہ ان کے علم کا عکس ان کے اعمال میں نظر نہیں آرہا ہے۔ آج مسلم نوجوان ڈاکٹر ، انجینئر، وکیل اور دیگر پیشہ وارانہ کورسس میں اعلی ڈگریاں ضرور حاصل کررہے ہیں لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو مذہب حقہ کی خدمت کے لیے اپنے قیمتی اوقات وقف کرتے ہوںاور اپنی صلاحیتوں کا لوہا اس شعبہ میں منوانے کی کوشش کرتے ہوں۔لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ مسلم معاشرے میں شادی خانوں اور ہوٹلوں میں سرمایہ مشغول کرنے کے بجائے مسلمان اعلیٰ اور معیاری تحقیقی مراکز قائم کرنے میں اپنا قیمتی سرمایہ مشغول کرنے کو ترجیح دیں تاکہ ہمارے اندر تدبر و تعقل، تحقیق و تدقیق، تنقید و تعمیر کے جذبات موجزن ہوجائیںاور تمام شعبہ ہائے حیات میں ہماری کارکردگی پوری انسانیت کے لیے قابلِ رشک اور لائق اتباع بن جائے۔شادی خانوں اور ہوٹلوں پر تحقیقی مراکز کو ترجیح دینا مسلمانوں کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے چونکہ یہ قرآن کا حکم ہے کہ مسلمان اپنے اندر تحقیقی مزاج پیدا کریں۔اگر مسلمان ارکان اسلام، یعنی کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی پر کامل توجہ دے رہا ہے لیکن غور و فکر کرنے اور تحقیقی مزاج و شعور کو ابھارنے کے حکم سے مکمل بے اعتنائی برت رہا ہے جبکہ یہ دونوں ہی قرآنی ہدایات ہیں۔