ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمسلم معاشرے پر مغربی تہذیب کے بڑھتے اثرات : لمحۂ فکریہ

مسلم معاشرے پر مغربی تہذیب کے بڑھتے اثرات : لمحۂ فکریہ

حضرت مولانااسرارالحق صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ

معاشرہ جس تیزی کے ساتھ بد ل رہا ہے،اس نے ملت اسلامیہ کو مختلف قسم کے مسائل سے دوچار کر دیا ہے ۔ مسلم معاشرہ میں آئے دن ایسی چیزیں داخل ہورہی ہیں جو اسلامی معاشرت کے خلاف ہیں اور مسلمانوں کے تشخص پر کا ری ضرب لگا رہی ہیں ۔ خاص طور سے مغربی تہذیب کی چکاچوند اب مسلم نوجوانو ں اور مسلم لڑکیوں کو بھی متأثر کرنے لگی ہے ۔ اسی لیے مسلمانوں کی نئی نسل اپنے انداز و لباس سے جدید تہذیب سے مرعوب ہوتی نظر آرہی ہے ۔ نئی نسل کا مغربی تہذیب سے اس قدر متأثر ہونا اور اپنی وضع قطع کو بالائے طاق رکھ کر غیروں کا لباس اور ان کے طور و طریق کو اختیار کرنا مسلم معاشرہ کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرنا ک بات ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوںکی نئی نسل دینی و اخلاقی تربیت سے محرو م ہونے اور اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان خیالات اور افکار سے متاثر ہوتی جارہی ہے ، جو اسلام سے متصادم ہیں اور اسلام میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ نئی نسل کے اس طرح کے اسلام مخالف خیالات سے ہم آہنگ ہونے کی متعددوجوہات ہیں ۔جن میں سے ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ اسلامی تہذیب و معاشرت کا عام طور سے مشاہدہ نہیں کرپاتے ۔ جب بچے صبح کو ٹی وی آن کرتے ہیں ، تو اس پرایسے کلچر کا مشاہدہ کرتے ہیں ، جو عریاں تہذیب کا عکاس ہوتا ہے اور مسلم تہذیب کا کوئی تصور اس میں موجود نہیں ہوتا ۔ جب بچے اسکول جاتے ہیں تو وہاں بھی وہ ایسا ہی کلچر دیکھتے ہیں جس میں مسلم معاشرت نام کو بھی نہیں پائی جاتی ، بلکہ اس کلچر میں مغربیت اور عریانیت کے نظارے لمحہ بلمحہ نظر آتے ہیں ۔ اس لیے ان بچوں پر آہستہ آہستہ بعینہ وہی اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔

مسلمانوں کے پاس تعلیم کے خاطر خواہ ادارے نہ ہونے کی وجہ سے اب مسلم والدین اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں بھیجنے کے لیے آمادہ ہوتے جارہے ہیں ، جن پر عیسائی مشنری ،یا دیگر نظریات رکھنے والے افراد کا اثر و رسوخ ہے ۔ان اسکولوں میںمذہب ، اخلاقیات اورروحانیت کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا ، ہاں عریاں تہذیب و کلچر کو فروغ دینے والی بہت سی چیزیں وہاں ضرور پائی جاتی ہیں ۔وہاںلڑکو ں و لڑکیوں کی مخلوط تعلیم ہوتی ہے ، جس کے سبب اجنبی لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ طور سے بات چیت کرنے لگتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بات آگے بڑ ھ جاتی ہے ۔ ایسے اسکولوں ، کالجوں و یونیورسٹیوں میں جہاںمسلم لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوتے ہیں ، وہاںوہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے ۔ یہاں تک بہت سے مسلمان لڑکے اور غیر مسلم لڑکیوں کے درمیان عشق ومعاشقہ کی صورت پیدا ہوجاتی ہے ، ایسے ہی بعض اوقات مسلم لڑکیوں اور غیر مسلم لڑکوں کے درمیان بھی دوستانہ تعلقات پروان چڑھنے لگتے ہیں ، جو آگے چل کر خطرناک رخ اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی کبھی کورٹ میرج تک بات پہنچ جاتی ہے ۔اب مسلم لڑکوں کی غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ شادی اور غیر مسلم لڑکوں کی مسلم لڑکیوں کے ساتھ شادی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ آئے دن اخبارات میں شائع ہونے والی خبر وں سے معلوم ہوتاہے کہ کتنی مسلم لڑکیاں نہ صرف مسلم لڑکوں کے ساتھ بلکہ غیر مسلم لڑکو ں کے ساتھ فرار ہوررہی ہیں ،ایسے ہی مسلم لڑکوں کی غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ بھاگنے کی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ یہ صورت حال بہت زیادہ تشویشناک ہے۔ کیونکہ اسلا م میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور مسلم تہذیب کو اس سے شدید خطرہ لاحق ہے۔

خبروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لڑکیاں خوبصورتی کے مقابلوں میں حصہ لینے لگی ہیں اور بہت سی مسلم لڑکیاں ماڈلنگ میں بھی اپنا کرئیر بنانے کی تگ ودو کررہی ہیں۔ یہ سب مغربی تہذیب کی چکاچوند کانتیجہ ہے جو نئی نسل کی آنکھوں کو خیر ہ کررہی ہے اور نئی نسل انجام سے لاپرواہ ہوکر اس عریاں تہذیب کی اسیر ہوتی جارہی ہے۔ابھی چند روز کے بعد شمسی کیلنڈرکے حساب سے نئے سال کاآغاز ہونے والا ہے جس کو منانے کی تیاریاں زوروںپر چل رہی ہیں ، نہ صرف بیرون ہند میں بلکہ ہندوستان میں بھی جہاں کے سماج میں شمسی کیلنڈر سے شروع ہونے والے سال کے منانے کی روایت ماضی میں نہیں رہی ہے مگر اب ہندوستان میںاس نئی روایت کو زبردست فروغ حاصل ہورہا ہے۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ بہت سے مسلمان بھی اس کی طرف دوڑتے نظرآرہے ہیں۔کارڈوں کے تبادلے اور عجیب وغریب قسم کا جنون بہت سے مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے سروںپر بھی سوار ہے ۔ حالانکہ مسلمانوں کے لئے کسی بھی صورت مناسب نہیں کہ وہ مغربی تہذیب کو فروغ دیں یا اس کے فروغ کا سبب بنیں۔
مسلم خواتین کا مغربی تہذیب سے متاثر ہونا اور اسلامی معاشرت سے بیزار ہوناخطرناک بات ہے۔سادہ لباس کو چھوڑکر عریاں فیشن والا لباس پہننا ، حجاب میں رہنے کی بجائے سڑکوں وبازاروں میں بے حجابانہ گھومنا اور غیر مسلم مردوں کے ساتھ شادی کرنامسلم معاشرہ کے لئے ایسا چیلنج ہے جو فوری توجہ کا طالب ہے۔بڑی حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب مسلم خواتین اسلامی رہن سہن اور اسلامی طوروطریق سے صرف نظر کرکے مغربی تہذیب وثقافت کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف عملی طورپربہت سی مسلم عورتوں میں تبدیلی آرہی ہے بلکہ ذہنی وفکری طورپر بھی مسلم عورتوں میں تبدیلی پیداہوتی جارہی ہے۔بعض مسلم خواتین اس بات کی بھی شاکی دکھائی دیتی ہیں کہ مسلم سماج میں عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیئے جاتے ، ان کااحترام نہیں کیاجاتا، انہیں تعلیم حاصل کرنے سے روکاجاتاہے اور ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔ لیکن یہ ناقص سوچ ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اسلامی معاشرت عورت کی جس قدر عزت کی حامل ہے کوئی اور سوسائٹی اس کے عشرعیشر کو بھی نہیں پہنچ سکتی اور اسلام نے صنف ناز ک کو جس احترام وعظمت سے نوازا ہے، اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتی۔

سچ بات یہ ہے کہ اسلام پوری انسانیت کی فکر کرتا ہے اور سب کو اہم مقام سے نواز تا ہے اور عورتوں کے ساتھ بہترین سلوک کا حکم دیتا ہے اور ان کے تحفظ کے لیے اہم تعلیمات پیش کرتا ہے ۔جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا معاملہ ہے تو قرآن میں متعدد مقامات پر علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، لیکن جہاں بھی علم کے حصو ل کی بات کہی گئی ہے وہاں مرد کی تخصیص نہیں کی گئی ۔ گویا کہ قرآن میں تعلیم کے تعلق سے جو کچھ فرمایا گیا ، اس کے مخاطب مرد و عورت دونوں ہیں ۔یہانتک کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی تعلیم کا دن بھی مقر ر فرمایا تھا ۔ چنانچہ قرون اولی میں خواتین اسلام علم حاصل کرنے پر بڑی توجہ دیتی تھیں ۔ اسی لیے ان میں بہت سی عورتیں تعلیم یافتہ اور مختلف علوم و فنون میں ماہر تھیں۔رہا عورتوں کے پردہ کا مسئلہ تو در اصل پردہ تو خود خواتین کے تحفظ کے لیے ہے نہ کہ انہیں مصیبت میں ڈالنے کے لیے ۔ اسلام قطعا ًاس بات کو برداشت نہیں کر تا کہ کوئی عورتوں پر ظلم و ستم کرے ۔ چنانچہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ۔حضور ؐ نے فرمایا کہ عورت اپنے گھر بار کی نگراں ہے ( بخاری ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ بلاشبہ تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے ‘‘(بخاری شریف ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ’’ جو شوہر اپنی بیوی کی بد خواہی اور اذیت پر صبر و تحمل سے کام لے گا وہ جنتی ہے ‘‘(طبرانی )بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے سلسلہ میں آپ ؐ نے فرمایا ’’ مومنوں میں سب سے زیادہ مکمل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہو ںاور تم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اچھا اپنی بیوی کے ساتھ ہو‘‘(ترمذی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی پرورش پر بھی خاص توجہ فرمائی ۔ آپ ؐ نے فرمایا ’’ جو بندہ دو لڑکیوں کا بار اٹھائے گا اور ان کی پرورش کرے گا یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائیں تو وہ بندہ اور میں قیامت کے دن اس طرح ساتھ ساتھ ہونگے اور آپ ؐ نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو بالکل ملاکر دکھا یا ۔ یعنی جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ‘‘(بخاری شریف)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اسلام عورتوں کو کتنا بلند مقام عطا کر تا ہے اوران کے ساتھ کتنے شریفانہ برتائو کا حکم کرتا ہے ۔اسلام سے پہلے لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کی رسم تھی اور معاشرے میں وہ شخص زیادہ عز ت والا سمجھا جاتا تھا جس نے زیادہ لڑکیوں کو دفن کیا ہوتا تھا ۔عرب ہی میں اسلام سے قبل عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ اسلام سے قبل عورتوں کو کتنا برا اور قابل لعنت سمجھا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا تو اس نے صنف نازک کے بارے میں فرسودہ خیالات کو مسترد کردیا اور اسے عزت کا مستحق ٹھہرایا ،اسے حسن سلوک کا مستحق سمجھا اور اسے تعلیم حاصل کرنے کے موقع دیا ۔

یہ بات غورکرنے کی ہے کہ نئی نسل میں یہ تبدیلی محض انہیں کی ذہن کی اختراع نہیں ہے بلکہ اس میں والدین کی بھی کہیں نہ کہیں تھوڑی بہت کوتاہی ضرور ہوتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کی خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، صحیح انداز میں پرورش وتربیت اور ان کی رہنمائی ونگرانی کی جانی چاہئے۔ بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتے وقت ان چیزوں پر خاص طور سے توجہ دی جائے کہ جن اسکولوں میں ان کو تعلیم کے لیے بھیجاجارہا ہے ، ان اسکولوں کا ماحول کیسا ہے ؟ ان میں مخلوط تعلیم ہے یا غیر مخلوط تعلیم ؟ جہاں مخلوط تعلیم ہو وہا ں تعلیم کے حصول سے اپنی لڑکیوں کو تو محفوظ رکھا ہی جائے ، وہیں دوسری طرف لڑکو ںکو بھی مخلوط تعلیم سے دور رکھا جائے ۔گرلز اسکولوں میں بچیوں کا داخلہ کراتے وقت اس بات کی معلومات فراہم کی جانی ضروری ہیں کہ اس اسکول کا ماحول کیسا ہے ؟ وہاں اجنبی مردتو نہیں آتے اور اسکول سے لڑکیاں گھومنے پھرنے باہر تو نہیں نکل جاتیں ۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی لڑکوں و لڑکیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ وقت پر اسکول یا کالج پہنچ رہے ہیں یا نہیں ؟ کہیں وہ راستہ میں تو نہیں رکتے ، ایسے ہی یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ اسکول و کالج کی چھٹی کب ہوتی ہے اور وہ کس وقت گھر آتے ہیں ۔ اگر بچوں کے پاس موبائل یا گاڑیاں ہیں تو وہ ان کا کہاں استعمال کرتے ہیں، کس سے بات کرتے ہیں ، کس کے گھر جاتے ہیں اور کس کو اپنے گھر وں میں بلاتے ہیں۔ جب بھی اپنے بچوں کو قدرے بھٹکتا ہوا محسوس کریں ، فوراً حکمت عملی سے ان کو غلط باتوں سے محفوظ رکھنے کی جدوجہد کریں ۔یہ بات خاص طور سے ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائے اورانہیں اسلامی کلچر کے بارے میں زبانی وعملی دونوں طرح سے بتا یا جائے ۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے