مسلم لیڈران،صاحب ثروت اور مالدار علماء کرام کی خدمت میں دردمندانہ گزارش!

45

مکرمی!
کرونا وائرس مہاماری سے جہاں انسانیت کا بہت بڑا طبقہ متاثر ہوا، وہیں ان میں سب سے زیادہ جو بیروزگاری اور مفلسی و بے کسی کے شکار ہوئے، وہ مدارس کے اساتذہ کرام، اور مساجد کے ائمہ کرام ہیں، جو تقریباً پچھلے سات ماہ سے بری طرح افلاس و بیروزگاری کی قید میں بند اپنی زندگی جینے پر مجبور ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں ، کوئی انہیں اپنے کاروبار شروع کرنے کے مشورہ دیتا ہے، تو کوئی انہیں یوں ہی صبر کرکے گھٹ گھٹ کر اپنی زندگی بسر کرنے کے مشورہ،
مگر کوئی ان پر دست شفقت رکھنے کو تیار نہیں ،کوئی ان کی مالی مدد کرنے کو تیار نہیں ، کیونکہ یہ عام غرباء کی طرح تو دست دراز نہیں کرسکتے، وہ الگ بات ہے، یہی علماء نونہالان قوم کے لیے مہمان رسول کے لیے طلباء عظام کے لیے ، اپنی عزت نفس کو طاق پر رکھ کر خوب چندہ کرکے تعلیم دین کی اشاعت کرنے میں لگے ہوئے ہیں، مگر لاک ڈاون کے بعد سے ان کی حالت بد سے بدتر ہوچکی ہے، جو مدارس بڑے ہیں، جن میں چندہ خوب اٰتا ہے ، یا یوں کہے کہ تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد بھی امداد کا سلسلہ جاری ہے اور وہ اپنے اساتذہ کو تنخواہ دے سکتے ہیں، تو ان میں سے کچھ بڑے ادارے تنخواہ دے رہے ہیں، مگر 80٪ فیصد چھوٹے اور متوسط درجہ کے اداروں کے پاس نہ ہی تو فنڈ موجود ہیں، اور نہ ہی چندہ پہونچ پا رہا ہے، تو ایسی صورت میں وہ تنخواہ اپنے اساتذہ کو دے بھی تو کیسے؟ مگر مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ کرام بھی تو اٰخر ہے ہی انسان، ان کے بھی بشری تقاضے ہیں، کسی کی اہلیہ بیمار ہیں،کسی کی والدہ بیمار ہے،کسی کا بیٹا بیمار ہے، اور بھی بہت سارے عذر ہیں، اور نہ گھر میں کھانے کے لیے کوئی سامان مہیا ہیں، اور نہ علاج کے لیے پیسے،
کچھ علماء نے حالات سے بہت مجبور ہوکر مزدوری تک کرنی شروع کردی مگر ناتجربہ کاری کے باعث وہ خود کسی بیماری کے شکار ہوگئے، یا فوت ہی ہوگئے، جیسا کہ گجرات کے کسی علاقہ کے ایک حافظ صاحب مٹی بھرتے ہوئے ایک چٹان کے نیچے دب کر وفات پا گئے، حال ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق کسی شہر کی جامع مسجد کے امام ریڑھے میں سامان ڈھوکر اپنا گھر چلانے پر مجبور ہیں،
اب جو مسلم تنظیمیں ہیں، انہیں تو ان علماء کرام و ائمہ کرام کی کوئی فکر نہیں ، انہیں تو تو بس اس کی تو فکر ہے کہ کہاں فساد ہو، یا کہاں باڑ اٰجائے، اور بس کچھ مکان بنوادو، کچھ مکان مساجد کی مرمت کرادو، اور کچھ رفاہی کام کرادو اور بس، کچھ مقدمات لڑلو، کسی کو رہا کرادو، مجھے ان باتوں کو بیان کرکے ان تنظیموں پر تنقیص کرنا اور کیچڑ اچھالنا میرا مقصد نہیں ہے، بلکہ یہ سب کام قابل تعریف ہیں، مگر اب حالات امت مسلمہ کے سب سے اعلیٰ طبقہ کے افراد پر پیش اٰ رہے ہیں، تو ان کی فکر بھی تو کچھ ہونی چاہیے، خیر وہاں سے کچھ زیادہ امید نہیں کی جاسکتی!
میری گزارش ملک ہندوستان کے ہر صوبہ و ضلع کے مسلم لیڈران، مسلم ایم پی. ایم ایل اے، ایم ایل سی، اور بڑے بڑے کاروباری علماء کرام سے درمندانہ اپیل ہے کہ اب اٰپ سے کچھ اٰس و امید لگی ہے، اٰپ ان علماء کرام و ائمہ کرام کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے، یا تو ان کے ماہانہ وظائف (مالی تعاون) جاری فرمائیں، اکثر و بیستر سب کے پاس اکاونٹ ہوتے ہیں، اٰپ ان کے اکاونٹ نمبرات حاصل کرکے ڈائریکٹ ان کے کھاتے میں کچھ نقد پہونچوائیں، جب تک یہ حالات ہیں. اور مدارس کھلتے ہیں، کیونکہ ابھی تک 7 ماہ مدارس بند ہوئے ہو چکے ہیں، اور اٰگے بھی جلدی مدارس کا کھلنا ممکن نہیں ہے، نامعلوم کتنے ماہ لگے، اور مساجد میں ان کو امامت کی جگہ ملتی ہیں،
یا پھر ان کو کسی کاروبار میں بطور ملازمت رکھوائیں، یا ان کا پرسنل کوئی کاروبار شروع کروادیں، کیونکہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے، کہ ایک صاحب حضور کی خدمت میں ایک کٹورا لیکر بھیک مانگنے اٰئیں. اٰپ علیہ السلام نے ان کا وہ کٹورا فروخت کراکر ان کو کلہاڑی خرید کر دی. اور ان سے کہا کہ لو اس کو لیکر جنگل جاو اور لکڑی کاٹ کر لاکر فروخت کرو. اور اپنا گزارا کرا بھیک مت مانگو.
تو کیونکہ ان ائمہ کرام اور علماء کرام کے پاس اسباب و ذرائع تو ہے نہیں کاروبار شروع کرنے کے لیے ، ان کی کچھ مالی مدد کرکے ان کو کسی کاروبار پر بھی لگاکر ان کی مدد کی جاسکتی ہے، خالی مشورہ دینے سے کوئی کام نہیں بن سکتا کچھ ہمت و حوصلہ کرکے ان علماء پر نظر کرم فرمائی جائے،
کسی نے خوب کہا ہے
صرف کہنے سے کہیں چلتا ہے کام
کام کے کرنے کو ہمت چاہیے
یقیناً اگر اٰپ نے ان علماء کرام و ائمہ کرام پر یہ احسان کردیا تو تاقیامت یہ مثال قائم ہوجائے گی، اور اٰپ کے اس عمل کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا،
ورنہ یاد رہے، پہلے ہی امت مسلمہ میں دینی تعلیم سے بے توجہ پائی جاتی ہے، اگر یہی حالات رہے تو کوئی بھی غلطی سے اپنی اولادوں کو حافظ قراٰن اور عالم دین نہیں بنائے گا. بلکہ یہ خود ائمہ کرام و علماء کرام بھی اپنی اولادوں کو مدارس میں پڑھانے کے بجائے دنیاوی تعلیم دلوائیں گے، تاکہ ان کی اولادوں کو کسی مسجد کا ملا اور کسی مدرسہ کا مدرس بن کر اپنی زندگی کو خراب نہ کرنا پڑے، دو وقت کی روٹی کے لیے کئی کئی روز کے فاقہ برداست نہ کرنے پڑے، کوئی مجھے اب زیادہ صوفیت میں اٰکر حضرات صحابہ کرام تقویٰ و طہارت کی مثالیں دے سکتا ہے، تو اس کا جواب پہلے ہی دے رہا ہوں، کہ وہ صحابہ کرام تھیں، ان کے ایمان بڑے مضبوط تھے، اب کے افراد کے ایسے ایمان نہیں ہے، اس لیے یہ مثال دینا ہی درست نہیں ہے،
بس اس کو پڑھ کر اٰپ ان پڑھا نہ کردیں، بلکہ امت مسلمہ کے سب سے اعلیٰ طبقہ کی حالت پر کچھ تو رحم کھائیں؟
ترتیب و پیشکش۔ مولانا صادق قاسمی دھرم باڑی نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ بہار۔