مسلم خواتین کے یوم حقوق منانے سے پہلے بھارتی خواتین کو عصمت دری اور ہراسانی سے بچائیں۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

21

 

مسلم خواتین کے یوم حقوق منانے سے پہلے بھارتی خواتین کو عصمت دری اور ہراسانی سے بچائیں۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) کی قومی صڈر محترمہ مہرالنساء خان نے یکم اگست کو مسلم خواتین کے یوم حقوق  طور پر منانے پر مرکزی حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔ وہ مرکزی وزرات اقلیتی امور کے اس اعلان پر ردعمل ظاہر کررہی تھیں کہ یکم اگست کو ملک بھر میں مسلم خواتین کے یوم حقوق کے طور پر منایا جائے گا۔ ہندوستان میں خواتین خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں، گھریلو تشدد، فاقہ کشی، بیماریاں، صحت کی دیکھ بھال کی کمی وغیرہ جیسے کئی مسائل کا سامنا کررہی ہے۔ خواتین کی عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور ملک میں خواتین کی سلامتی اور تحفظ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ان مصائب اور ہراسانی کے مقابلے میں طلاق کے مسائل کو کم سنگین شمار کیا جاسکتا ہے۔ طلاق کسی خاص مذہبی طبقے تک محدود نہیں ہے اور یہ وہ عورت ہے جو کسی بھی برادری میں طلاق کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں خواتین کو درپیش دیگر مصائب کو نظر انداز کرتے ہوئے، بی جے پی حکو مت تین طلاق کا قانون نافذ کررہی تھی جس کے بارے میں وہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے مسلم خواتین کو ‘آزاد’کیا ہے!۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر محترمہ مہرالنساء خان نے مزید کہا ہے کہ شادی اور طلاق سول مسائل ہیں اور مسلمانوں کے سول مسئلے کو جرم قراردینا مسلم خواتین کی مدد کیلئے نہیں کیا گیا تھا، بلکہ مسلم کمیونٹی کو ہراساں کرنے اور اس مذاق اڑانے کیلئے کیا گیا تھا۔ طلاق کے بعد مرد کو جیل بھیجنا، درحقیقت طلاق کے بعد عورت کے کفالت اور مالی معاوضے کے حق سے انکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مذہبی برادریوں میں طلاق اب بھی ایک سول مسئلہ ہے جو مسلمانوں کے ساتھ مذہبی امتیاز کا واضح ثبوت ہے اور آئین کے خلاف ہے اور متنازعہ قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔ کسی ایسے مسئلے کو جرم قرار دینے کیلئے قانون بنانا جسے پہلے ہی عدالت عظمی غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت کو ہوا دینا تھا، جو سنگھ پریوار کو اہم ایجنڈا ہے۔ اقلیتی امور کے وزیر کا یہ دعوی کہ قانون کی وجہ سے تین طلاق میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے حقائق کے خلاف ہے۔ اگر چہ کوویڈ کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے منسوب کیا گیا ہے، اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2020میں گھریلو تشدد اور طلاق میں اضافہ ہوا ہے اور یہ صرف مسلم کمیونٹی تک محد ود نہیں ہے۔ ہندوستان میں خواتین کی تکالیف اور مصائب کسی خاص مذہبی طبقے تک محدود نہیں ہیں، حالانکہ یہ نچلی ذات کی خواتین میں بہت زیادہ ہے۔ کسی خاص کمیونٹی کے خلاف بنائے گئے قانون کو خواتین کی آزادی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر محترمہ مہرالنساء خان نے اختتام میں مطالبہ کیا ہے کہ مسلم خواتین کے یوم حقوق منانے سے پہلے، مرکزی حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ہندوستان میں عورتیں اور لڑکیاں ان کے مذہب کے قطع نظر سلامتی اور وقار کے ساتھ رہیں، اور انہیں مسلسل عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ سے بچایا جانا چاہئے جو کہ مرکز میں سنگھ پریوار حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آسمان کو چھورہی ہے۔