مسلم خواتین کی نیلامی والی ایپ بنانے والے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

48
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) کی قومی صدر مہرالنساء خان نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں سوشیل میڈیا پر شائع ہونے والی ‘سلی ڈیل ایپ’ کے تعلق سے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوائے منوادی ہندوتوا کٹر پنتھیوں کے تمام مہذب معاشرے خواتین کو ماں، بہن، بیٹی کے روپ میں احترام کرتے ہیں۔ مسلم خواتین کی نیلامی والی ایپ بنا کر مسلم خواتین کی توہین کرنے والے ہندوتوا کے جنونی سخت سزا کے مستحق ہیں۔ مہرالنساء خان نے مزید کہا ہے کہ مسلمانوں پر مظالم، جسمانی اذیتیں، قتل و غارت گری وغیرہ موجودہ ہندوستان میں معمول بن چکے ہیں۔ آر ایس ایس نظریے پر چلنے والے غیر مہذب درندے اس ایپ کے ذریعے اب ایک نئے طریقے سے مسلمانوں کو پریشان کررہے ہیں۔ 2014کے بعد سے ہندوستان ہر طرح کے جرائم کیلئے ایک زرخیز زمین بن گیا ہے، اگر جرم مسلمانوں کے خلاف ہو تو حکومتوں سے انہیں تحفظ ملتا ہے۔ مجرموں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے بجائے انہیں پھولوں کا ہا ر پہنایا جاتا ہے اور انہیں اعلی عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ جرم میں ملوث مجرموں کو جب اس طرح کی چھوٹ حاصل ہوتی ہے تو دیگرسنگھیوں کو مزید وحشی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ ساورکر نے اپنے پیروکاروں کو مسلم خواتین کو عصمت دری کرنے کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے اور اس بدنیتی پر مبنی نصیحت کے جواز میں انہوں نے سیتا کے اغوا کے سلسلے میں راون کے حوالے سے کہا ہے کہ “کیا؟۔ دشمن کے خواتین کو اغوا اور زیادتی کرنا، کیا آپ اسے غیر مذہبی قرار دیتے ہیں؟۔ یہ پارودھرما ہے، سب سے بڑ ا فرض!۔ لہذا، ایپ کا استعمال کرکے مسلم خواتین کی توہین کرنے کی حالیہ گھناؤنی کوشش نہ صرف کچھ شر پسند عناصر کی بدکاری ہے بلکہ مسلم خواتین کے وقار پر منصوبہ بند حملہ ہے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہر النساء خان نے اس بات پر زور دیکر کہا ہے کہ جب تک ملک میں حقیقی ہندو جن میں سے زیادہ تر آر ایس ایس سے نہیں ہیں، ان سماج دشمن جنونیوں کی خواتین مخالف کارروائیوں کے خلاف سختی سے سامنے نہیں آئیں گے، ملک تنوع میں اتحاد کی اپنی خصوصیت کھودے گااور جو بھی ملک میں ہم آہنگی اور امن چاہتے ہیں انہیں اس غیر اخلاقی جنونی حکومت کے خاتمے کیلئے جلد ہی آگے آنا چاہئے۔