مسلمان پیغمبر ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتا

69

مولانا صابر مظاہری

پلول میوات(محمد مبارک میواتی آلی میو)خطہ میوات کے علماء کرام میں فرانس کے صدر کے خلاف زبردست غصہ ہے جمعیت علماء حلقہ ساکرس کے سماجی وعلمی شخصیات کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ساکرس واطراف کے علماء کرام نے شرکت کی سبھی نے اپنے بیان میں فرانس کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے صدر میکرون کی گستاخانہ حرکت کو شرمناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے کسی مذہب یا مذہبی شخصیات کی توہین اور کسی قوم یا فردکی دلآزاری کی جائے، اظہارِ رائے کی آزادی کی بھی کچھ حدیں ہیں اور اگر کوئی شخص ان حدوں کو پار کرتا ہے تو اس کی مخالفت اور مذمت دونوں ہونی چاہیے مولانا صابر مظاہری ساکرس نے کہا کہ پچھلے دنوں فرانس میں جو کچھ ہوا اور اب بھی ہورہا ہے اسے بھی کچھ لوگ اظہارِ رائے کی آزادی سے تعبیر کررہے ہیں اور اس کی حمایت بھی کررہے ہیں، لیکن کیا ایک مہذب معاشرہ میں اس طرح کے رویہ کو درست ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی جتنی بھی مذہبی اور مقدس شخصیات ہیں، اُن سب کا احترام کیا جانا چاہیے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ، ہمیں ہمارے نبی کریم ﷺ نے یہ تعلیم دی ہے کہ کسی بھی مذہب اور کسی بھی مذہبی شخصیت کو برا مت کہو، پوری دنیا کے مسلمان اس نصیحت پر عمل پیرا ہیں کسی بھی مذہب کا ماننے والا یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ کسی مسلمان نے اس کے مذہب کی کسی مذہبی شخصیت کے لیے گستاخانہ الفاظ استعمال کیا ہو یا اس کا مضحکہ اڑایا ہو انہوں نے فرانس کے صدر کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی عمومی اشاعت اور اس ناپاک حرکت کی حمایت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل برداشت عمل ہے ، مزید برآں ایسے لوگوں کی حمایت کرنا جو آزادی رائے کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں کی ہی نہیں بلکہ اربوں لوگوں کی ناقابل تحمل تکلیف کا سبب بنیں، جو کہ نہایت دلآزاری کا سبب ہی نہیں بلکہ ایک طرح کی دہشت گردی ہے-کیونکہ ایسے گستاخ لوگوں کی دلآزاری سے شدت پسندانہ ردعمل کو بڑھاوا ملتا ہے اور دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے، خاص کر کسی حکمراں کی طرف سے ایسی ناپاک حرکتوں کی تائید بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی عمل ہے،اگر اسلامی دنیا اس طرح کی حرکت پر ناراض ہو کر سخت اسٹینڈ لیتی ہے تو اس کو معذور سمجھنا چاہیے، مولانا صابر مظاہری ساکرس ،مفتی یونس قاسمی ،مولانا فاروق حمزہ پور ،وسیم آمکا،مولانا عارف قاسمی ،مولانا ہاشم ناؤلی ،نے کہا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو دوسرے کسی بھی مذہب کے مقدس شخصیات کی استہزا کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور تمام مذہبی طبقات کے جذبات کا پاس و لحاظ رکھتا ہے ، مگر دنیا کی کچھ طاقتیں بار بار مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں اور دلآزاری کرتی ہیں یہ بات قطعاً ناقابل قبول ہے ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں،آخر میں مفتی محمد یونس نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ادنی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتا تاہم تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جذباتیت سے اوپر اٹھ کر حسن تدبیر اور تحمل سے اس کا مقابلہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہمارے ملک کی حکومت نے فرانس کے موقف کی تائید کی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھوکر مارکر دلوں کو ٹھیس پہنچانے والے قانون اور جذبے کی تائید کررہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود اپنے ملک کے اندر حکومت کا رخ کیا ہے اور وہ بیس کروڑ مسلمانوں کے سلسلہ میں کیا نظریہ رکھتی ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ فرانس کے موقف کی تائید کے مقابلہ خاموش رہنا زیادہ بہتر ہوتا،آج کی مجلس کااختتام مفتی یونس قاسمی کی دعا پر ہوا اور مفتی صاحب نے سعد کے والد ضمیر ہشمت کے لئے خصوصی دعا کی، اس موقع پر مفتی یونس قاسمی، مولانا وسیم آمکا، مولانا عارف قاسمی، مولانا فاروق حمزہ پور،مولانا ہاشم ناولی،مولانا صابر مظاہری ساکرس وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں