ہوممضامین ومقالاتمسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی 

مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
مسلمان اعلیٰ تعلیم میں انتہائی پس ماندہ ہیں، ان کے یہاں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کی شرح صرف ۶ء ۱۶؍ فیصد ہے، جینیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لینے والوں کی شرح ۷۲؍ فی صد اور ہندؤوں میں داخلہ کا مجموعی فیصد ۸ء ۲۷؍ فی صد ہے، نیشنل سمپل سروے ۱۸-۲۰۱۷ء کے مطابق ستر فی صد مسلمان مالی دشواریوں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں پیچھے رہ جاتے ہیں، بحالی اور تقرریوں میں ہو رہی نا انصافی کا خوف بھی انہیں اعلیٰ تعلیم سے دور رکھتا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنی فیس میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے لیے رعایتی فیس کا اعلان کریں، ہم جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں یہ نا ممکن العمل تجویز ہے، لیکن اگر یونیورسٹی کے ذمہ داران کی توجہ اس طرف ہوجائے تو چنداں بعید بھی نہیں، اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے داخلہ نہ لینے کی ایک وجہ غربت وپس ماندگی ہے، واجبی تعلیم کے بعد ہمارے طلبہ اور نو جوانوں کو معاش کے حصول کے لیے تگ ودو کرنی پڑتی ہے، اگر وہ معاشی مشغولیت سے دور رہیں تو گھر والے فاقہ کشی کے شکار ہو جائیں گے، ایسے میں ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ مختصر نصاب کے ذریعہ ان کو تعلیم دی جائے اور ان کی دلچسپی اس مختصر نصاب میں اس قدر ہو کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پُر عزم ہوں۔
 ہمارے یہاں نصاب تعلیم اس قدر طویل ہے کہ کم وبیش تیس سال تو اس نصاب کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں، چھوٹے کاروباری لوگ اس طرح کے تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھاپا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اعلیٰ تعلیم کے لیے اتنا وقت ہے ۔ ایسے میں اعلیٰ تعلیم سے مسلمانوں کی دوری اور پس ماندگی کو دورکرنے کی صرف یہی ایک شکل ہے، جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے