مسجد امین شریعت میں مخدوم چھتیس گڑھ امین شریعت کا عرس منایا گیا: مولانا افتخار احمد مجدی

38
بلودا بازار چھتیس گڑھ (رپورٹ امین شریعت دار المطالعہ بلودا بازار چھتیس گڑھ) کی سر زمین پر مخدوم چھتیس گڑھ حضور امین شریعت نبیرہءِ اعلی حضرت علامہ الشاہ سبطین رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا عرس پاک پورے آب و تاب کے ساتھ منایا گیا، شہر کے مختلف مقامات سے افراد نے عرس کی محفل میں شریک ہوکر بارگاہ امین شریعت میں خراج عقیدت پیش کیا، شہر کے معزز نعت خواں اور ائمہ و علماء کا ہجوم نگاہوں کو ایک روحانی لذت عطا کر رہا تھا،
اہل سنت و جماعت کے دستور کے مطابق حافظ و قاری اسلم رضا صاحب کی تلاوت کے بعد محفل کا آغاز ہوا،  حمد باری،  نعت مصطفے اور مدحیہ کلام بارگاہ حضور امین شریعت میں پیش کیے گیے، جس سے حاضرین بہت مسرور ہوئے۔
خلیفہءِ امین شریعت و تاج الشریعہ حضرت مولانا اشرف رضا صاحب چیف ایڈیٹر سہ ماہی امین شریعت و خطیب و امام مسجد امین شریعت نے عرس حضور امین شریعت کی محفل سے امت مسلمہ کو جو ابدی و سرمدی پیغام دیا اس کا خلاصہ یہ ہے ’’ مسلک اعلی حضرت ہماری پہچان ہے اس کے تحفظ و بقا کے لئے مسلک کی ترویج واشاعت لابدی ہے ،اس کی بقا میں ہماری بقا ہے ہمارے ایمان و عقیدے کی بقا ہے اور یہی حضور امین شریعت کا تاحیات پیغام رہا ۔ وقت کا تقاضہ ہے اور مسلک کی محبت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم مسلک اعلی حضرت کی آبیاری کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ،اسلام پر حملہ کرنے والے اسلام مخالف لوگوں کا رسائل ،کتب ، پمفلیٹ اور اشتہارات کے ذریعے ان کے شیطانی کرتوت کا راز فاش کرتے رہیں ۔اس کے لئے خزانے کے دروازے کھول دیں، رسائل نکالنے والے کے ساتھ ہو جائیں ہر ممکن حد تک اس کا تعاون کریں کرائیں تاکہ ایمان و عقائد کی حفاظت ہو سکے در اصل یہی مسلک اعلی حضرت کی خدمت اور اس سے سچی محبت ہے اور یہی حضور امین شریعت کا پیغام تھا ۔اہل سنت خارجی و داخلی دونوں انتشار کا شکار ہے فتنے ہر روز نئے نئے جنم لے رہے ہیں اس وقت سر جوڑ کر بیٹھنے اور اس کے تدارک و سد باب کے لئے غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔داخلی انتشار کے ختم کرانے اور بکھرے ہوئے شیرازے کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے ایک تیسرے فریق کو ثالثی کرنے کی ضرورت ہے ۔دانشوران قوم اور قائدین وقت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس وقت بھی بیدار نہیں ہوئے تو قوم کی کشتی ڈوب جائے گی اور اس کے ذمہ دار ہم بھی ہوں گےاس لئے ایک لڑی میں سب کو پرونے کی سعی کیجئے ورنہ حشر میں منھ دکھانے کے لئے کچھ باقی نہیں رہے گا البتہ جس لڑی میں پرونے کی بات کی گئی وہ مسلک اعلی حضرت ہے در اصل یہی مسلک اہل سنت مسلک حقہ کا صحیح ترجمان ہے جس نے اسلامیات کے جمیع چیپٹر کو اپنے دامن حیات میں سمیٹ رکھا ہے۔ اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حضور امین شریعت نے پوری زندگی مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت صرف زبان سے نہیں کیا بلکہ کامل طورپر اس پر عمل بھی کرتے رہے۔ مسلک اعلی حضرت کی عملی تصویر کا نام حضور امین شریعت ہے۔ حضرت مولانا اشرف صاحب نے دعا کی،  اس طرح عرس امین شریعت کی محفل کا اختتام ہوا۔
تقریبا 10 بجے بعد عشاء سیدی و مرشدی مخدوم چھتیس گڑھ حضور امین شریعت علامہ الشاہ مفتی سبطین رضا خان نور اللہ مرقدہ کا قل شریف ہوا، آخر میں “مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام” کا نورانی نغمہ شروع ہوا اور دلوں کو موہ لینے والا منظر نظر آیا، 30:10 بجے کے قریب عرس کی محفل سلام و دعا پر ختم ہوئی۔