مسجدگرانا مسلمانوں کوصدمہ پہنچانا کون ساپُنّ کاریہ ہے یوگی جی؟ حافظ محمدہاشم قادری مصباحی جمشید پور

97

مسجدگرانا مسلمانوں کوصدمہ پہنچانا کون ساپُنّ کاریہ ہے یوگی جی؟

حافظ محمدہاشم قادری مصباحی جمشید پور
موبائل:09279996221-

دنیا میں سیکڑوں مذاہب ہیں اُن کے ماننے والے بھی ہیں۔ سبھی مذاہب میں عبادت کا تصور پایا جاتا ہے اور عبادت کے لیے سبھی مذاہب کے لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر کرتے ہیں،روزِ اول سے یہ سلسلہ جاری ہے اور آنے والی صبح قیامت تک جاری رہے گا۔
یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہیں چرچ،کلیسا،گر جا گھر،syngogues یہودیوں کی مسجد عبادت خانہ میں اپنے عقائد کے اعتبار سے عبادت کرتے ہیں۔ اسی طرح پنجابی(سردارجی) حضرات اپنی عبادت گاہ ،گردوارہgurdwara میں اپنے عقائد کے مطابق اپنی عقیدت نچھاور کرتے اور عبادت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے براد رانِ وطن ہندو حضرات بھی اپنی عبادت گاہوں میں اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرتے ہیں،گرچہ برادران وطن ہند وحضرات کا کہنا ہے کہ وہ بہت سے دیوی،دیوتائوں کو مانتے ہیں” اس لیے ہندو حضرات کا کہنا ہے “کہ یہ رام کا مندر ہے،یہ بجرنگ بلی کا مندر ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ اپنی اپنی پسند کے دیوی دیو تائوں کی مندر بنائے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی عقیدت کے مطابق وہاں عبادت کرتے ہیں جیسے رام مندر، ہنومان مندر، کالی مندر، دُرگا مندر، سرسوتی مندر، راں وڑ مندر، گن پتی بَپَّا مندر ، وغیرہ وغیرہ میں پوجا کرتے ہیں اور اُن کی عبات گاہوں کو بنا رکھا ہے یہ ہندو براد رانِ وطن کا کہنا ہے۔

*گنگا جمنی تہذیب والا ملک ہندوستان میں مذہبی نفرت:*

کہنے کو ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب(ہندو اور مسلمان کی ملی جلی تہذیب) والا ملک ہے مگر اِدھر دو دہائیوں سے ملک کے سیاستدانوں نے گنگا جمنی تہذیب کو قریب قریب دفن کردیا ہے اور اب ایسالگتا ہے کہ یہ لفظ صرف کتابوں میں ہی ملے گا بلکہ کوئی بعید نہیں کہ وہاں سے بھی اسے غائب کردیا جائے؟۔
انگریزوں نے ہمیشہ ’’ تقسیم اور حکمرانی،divide and rule‘‘ لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی کو اپنایا اور اس پالیسی کو زندہ رکھتے ہوئے” بابری مسجد” کے قضیہ(جھگڑا )کو جنم دیا پھر بابری مسجد کا معاملہ انگریزوں کے بعد آر ایس ایس کی ماں’ کانگریســ’ نےAdopt کر لیا اپنالیا اور اپنی سگی چھوٹی بہن “بی جے پی” کے ذریعے برسہا برس زندہ رکھا تاکہ مسلمانوں کوڈ راکر اپنا غلام بناکر رکھا جائے۔اس جھگڑے کے ذریعہ کتنا خون خرابہ ہوا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک لمبی داستان ہے، بہت کچھ لکھا اور کہا گیا شاید تاریخ میں اس سے بڑی داستان اور کوئی نہ ہو، واللہ اعلم با الصواب۔ پھر بابری مسجد کو مذہبی جنونیوں نے6دسمبر1992ء کومسمار کردیا،ڈھادیا۔اس کے بعد اِنصاف کرنے کے نام پر مُنصفوں نے ہی انصاف کا جنازہ نکال دیا یہ سب جانتے اور مانتے ہیں۔
؎ ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے ٭ جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے (فیض احمد فیض) ہمارا نظام عدل ہمیشہ سے سوالیہ نشان بنا رہا ہے، بد قسمتی سے عدالتوں کے بہت سے فیصلے متنا زع رہے ہیں اور کیوں نہ ہوں منصفوں کو جو انعام و اکرام سے نوازاجاتا رہا ہے۔ بابری مسجد کے فیصل گگوئی صاحب کوراجیہ سبھا کی رکنیت کاساتھ ساتھ نہال ،نہال کردیا گیا،دنیا جانتی ہے بھلے ہی انصاف کا گلا گھونٹ دیا تو کیا؟۔
؎ ہر چند کہ انصاف کا خواہاں بھی وہی ہے ٭ قاتل بھی وہی اور نگہبان بھی وہی (عرفان وحید)
؎ میں بھی انصاف کا خواہاں ہوں مگر اے مالک ٭ تیری دنیا میں اب انصاف کہاں ہوتا ہے (آنند نرائن ملا)
*مسجد دنیا کی سب سے بہتر اور پیاری جگہ:*

مسلمانوں کی عبادت گاہ مذہبی نقطہ نظر سے بہت فضیلت واہمیت کی جگہ ہے۔ یہاں چند سطور ہی ملاحظہ فر مائیں! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فر مایا:’’ شہروں میں پیاری جگہ اللہ کے نزدیک مسجدیں اور سب سے بُری جگہ اللہ کے نزدیک بازار ہیں‘‘۔( صحیح مسلم،کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ،و صحیح ابن خزیمۃ، صحیح ابن حبان؛1600)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فر مایا:’’سب سے بہتر جگہ مسجدیں ہیں اور سب سے بد تر جگہ بازار۔ (فتا ویٰ رضویہ:432/3)۔ اس موضوع پر احادیث طیبہ میں کثیر احادیث موجود ہیں۔

*اِنسانوں کی ہدایت کا نظامِ خداوندی* :
اللہ رب العزت نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش انبیائے کرام کو مبعوث فر مایا: اور ساتھ ہی104 صحیفے بشمول ((1 تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر( 2)زبور حضرت دائود علیہ السلام پر،(3)انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، قرآنِ مجید : اللہ تعالیٰ کی آخری اور افضل و اکمل کتاب ہے اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ پر نازل فر مائی۔ چار مشہور بڑی کتابوں کے علاوہ جو چھوٹی کتابیں نازل ہوئی ہیں، ان ہی کو صحیفے کہتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چار ہزار پیغمبر تشریف لائے جو شریعت موسوی کے محافظ اور توریت کے احکام کو جاری کرتے تھے،چونکہ ہمارے حضور رسولِ کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ، اس لیے دین کی حفاظت کا اوردین کا کام علما ئے اسلام کے سُپرد ہوا اور *اَلْحَمْدُلِلّٰہ* کہ علما نے کامل طور پر یہ فریضہ ادا کیا اسی لیے حضور ﷺ نے فر مایا: کہ میری اُمت کے علما بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔(تفسیر نو رالعرفان،ص:20) ہر نبی کے پاس نئی کتاب نہ تھی کیونکہ توریت موسیٰ علیہ السلام پر آئی اور آپ کے بعد بہت سے پیغمبروں نے توریت شریف پر حکم جاری کئے نبی تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں اور اِن میں رسول تین سو تیرہ،مگر آسمانی کتابیں چار ہیں،توریت کے جو احکام اللہ ورسول ﷺ نے قرآن یا حدیث میں ہیں بغیر تردید ذکر فرمائیں،وہ ہم پر بھی لازم ہیں۔(تفسیر ابی سعود، تفسیر نُو رُ العر فان ص:181)۔
*مساجد کو قائم اور آباد کرنے کا تاکیدی حکم:*
رب تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سبھی انبیائے کرام نے انسانوں کو توحید پر قائم رہنے کی اور شرک کی غلاظتوں سے دور رہنے کی تاکید فر مائی۔اوراپنی عبادت وریاضت وبندگی کے خاطر مساجد کو قائم ودائم اور آباد کرنے کا تاکیدی حکم صادر فر مایا: جو دنیا والوں کے لیے خیر وبرکت کا منبع وسر چشمہ اور امن وامان کی جگہیں ہیں، اسی لیے رب تعالیٰ نے مساجد میں صرف اپنی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فر مایا:
*وَاَنَّ الْمَسَجِدَ لِلّٰہِ فَلاَ تَدْ عُوْ اللّٰہِ اَحَدًا*
۔تر جمہ: اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔(القرآن،سورہ جن:72آیت 18) یعنی میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو مکان(بطورِ خاص) نماز ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے بنائے گئے ہیں ان کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذااے مسلمانوں! جب تم ان مسجدوں میں جائو تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے گرجائوں اور عبادت خانوں میں شرک کرتے تھے۔
مساجد کو اللہ تعالیٰ نے’’ بیت اللہ‘‘ کے نام سے یاد فر مایا اور ان کی دیکھ بھال،تعمیر وترقی، رنگ وروغن اور آباد کرنے والوں کو مومنین کے خطاب’’سند،سرٹیفیکیٹ‘‘ سے سرفراز فر مایاارشاد باری تعالیٰ ہے :
*إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّہَ فَعَسَی أُوْلَـئِکَ أَن یَکُونُواْ مِنَ الْمُہْتَدِیْن*
تر جمہ: اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو عنقریب یہ ہدایت والوں میں سے ہوں گے۔ (القرآن، سورہ توبہ 9: آیت18) مسجد آباد کرنے میں یہ اُمور بھی داخل ہیں: مسجد میں جھاڑو دینا،صفائی کرنا،روشنی کرنا، مسجد کی تزئین و آرائش کرنا(سبھی نمازیوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے صرف مؤذن ہی کی ذمہ داری نہیں) اور مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ رکھنا جن کے لیے وہ نہیں بنائی گئی ، مسجدیں عبادت کرنے اور ذکر کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں اور علم کا درس بھی ذکر میں داخل ہے۔(خازن،التوبہ،تحت الایۃ:18،2/222، مدارک ج:18ص429)

*غریب نواز مسجد کو بلڈوزر سے ڈھانا یوگی حکومت کی شرمناک حرکت:*
بارہ بنکی کی تحصیل رام سنیہی گھاٹ، ’’تحصیل پریسر (احاطہ) میں موجود مسجد‘‘ مسجد غریب نواز جسے تحصیل والی مسجد بھی کہا جاتا ہے، SDM کے گھر کے سامنے 100 سال پرانی مسجد کو17 مئی2021 سوموار کی رات میں یوگی حکومت نے بلڈوزر سے گرادیا،استغفراللہ استغفراللہ،اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اس وقت مسلمان تو اس کا بدلہ لینے کی پوزیشن میں نہیں،لیکن یاد رہے پر وردگارِ عالم قادرِ مطلق ہے،
*عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَا للّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامِ*۔
ترجمہ: اور اللہ زبردست اقتدار کا مالک اور بُرائی کا بدلہ لینے والاہے۔( القر آن،سورہ آلِ عمران:3آیت4) الحمدُ للہ! تمام مسلمانوں کا اس پر ایمان ہے۔ اس ظالمانہ کاروائی کاگودی میڈیا میں نام و نشان نہیں اور دوسر ے میڈیاوالوں نے بھی چار سطری لین کی خبر بناکر اندر کے پیج میں دی جو کہ افسوس ناک ہے کہ میڈیا کا ذہن کس حد تک خراب ہو چکا ہے۔ لیکن اِنٹر نیشنل میڈیا نے اس کو بہت تفصیلDetails سے کوریج دیا ابھی بھی کور کر رہی ہے اور سوشل میڈیا نے تو جان بچائی ہوئی ہے۔ اتر پردیس کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تو پہلے سے ہی مسلم مخالف اقدامات کے لیے لگاتار تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں اور اب اس واقعہ کے بعد ان کے خلاف آوازیں اور اُٹھ رہی ہیں یہ اور بات ہے کہ آنے والے الیکشن میں وہ اسے اپنے لیے ہتھیار بنائیں تو کوئی تعجب نہیں ہوگا؟۔’دی گار جین ڈاٹ کام‘ ویب سائٹ پر،دی وائر نیوز اور ویب سائٹ پر، جرمن میڈیا Deutsche Welle ہندی اور اردو دونوں میں اوربی بی سی ہندی سروس و ویب سائٹ پر مسجد غریب نواز ‘تحصیل والی مسجد’ کیس کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے اور ہورہی ہے۔ یوگی حکومت نے ریاستی ہائی کورٹ کے حکم سے انحراف کرتے ہوئے مسجد پر بلڈوزر چلادیااور یہ 6 دسمبر 1992 میں بابری مسجد کے گرانے کے بعد کسی مسلم عبادت خانہ کی گئی بڑی اشتعال انگیز کاروائی میں سے بڑی دیدہ دلیری اور شرمناک حرکت ہے۔ اس ناپاک کام کو انجام دینے سے قبل مقامی انتطامیہ نے مسجد سے تقریباً ایک میل دُور تک سیکوریٹی اہلکاروں کوتعینات کردیاتھا تاکہ کوئی مسجد کے قریب نہ پہنچ سکے۔ ” سنی وقف بورڈ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، مسجد کی پھر سے بحالی اور اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر عدالتی تفشیش اورقانون کی خلاف ورزی کرنے والے حکام کے خلاف کاروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔” اب کیا ہو گا لوگ خوب جانتے اور سمجھتے ہیں۔
؎ زخم ہی زخم ہے یہ کس کس کو دکھایا جائے ٭ یوگی جی ہمدردی کا مرہم ہی لگایا جائے
یوگی جی کون قدرت سے لڑے گا، یہ کہاں ممکن ہے٭ اس حقیقت کو ذرا یوگی جی کو بتایا جائے ( ایس ایس فریدیؔ) (کچھ تبدیلی کے ساتھ،شاعر سے معذرت!)
*مسجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے:*
بلا وجہ لوگوں کو مسجد میں آنے یا مسجد کی تعمیر سے روکنے والا مسجد یا اس کے کسی حصہ پر قبضہ کرنے والا، مسجد کے کسی حصہ کو مسجد سے خارج کرنے والا، مسجد کو شہید کرنے والا،مسجد کو ویران کرنے والا،وغیرہ وغیرہ کے لیے سخت عذابِ الٰہی ہے:
*وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّہِ أَن یُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہُ وَسَعَی فِیْ خَرَابِہَا أُوْلَـئِکَ مَا کَانَ لَہُمْ أَن یَدْخُلُوہَا إِلاَّ خَآئِفِیْنَ لہُمْ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْم*
تر جمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے! انہیں ایسا کرنا مناسب نہ تھا کی مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں( بھی) ذلت ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی)بڑا عذاب ہے(القرآن:سورہ بقرہ2،آیت نمبر114)۔ قر آن و احادیث میں اس مفہوم کی بہت سی آیات و احادیث موجود ہیں،ا للہ ایسے ظالموں کی پکڑ فر مائے اور مسلمانوں کو صبر وتحمل سے آگے کی قانونی لڑائی لڑنے کی توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین؛۔
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ پن کوڈ 831020,
رابطہ 09386379632, hhmhashim786@gmail.co