ہوممضامین ومقالاتمسجدوں میں شادی ہال کیوں نہیں؟

مسجدوں میں شادی ہال کیوں نہیں؟

مسجدوں میں شادی ہال کیوں نہیں؟

نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

ہماری مساجد خاص طور پر بڑے شہروں میں عالی شان عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ان مساجد کو مختلف طریقوں سے استعمال کرکے قوم وملت کے لئے بہت سے مفید کام انجام دیئے جا سکتے ہیں تو بعض لوگوں کو اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ مثلا ہم نے یہ کہا کہ مسجدوں کے ایک فلور پر شادی ہا ل کھولیں جہاں اسلامی طریقہ سے شادی کی تقریبات منعقد کی جاسکیں، اس سے ایک طرف مسجد کو مالی فائدہ ہوگا جس کو دیگر فلاحی اور تعلیمی کاموں میں صرف کیا جاسکے گا تو دوسری طرف شادی کی تقریبات میں جو ہندوانہ رسم ورواج پیدا ہوچکے ہیں ان سے بچنے کی ایک صورت نکل سکے گی۔  اپنے ملک میں یہ بات لوگوں کو عجیب لگتی ہے، جب کہ یورپ کے تمام ممالک میں مسجدوں کے اندر ہی یا اس کے احاطہ میں شادی ہال کا رواج ہے۔ وہاں عموما مسجدوں کی ویب سائٹ پر شادی ہال کے متعلق آپ کی معلومات مل جائیں گی۔

مثال کے طور پر ایک مسجد اپنے شادی ہال کے متعلق اس طرح اعلان کرتا ہے۔ نکاح کی تقریب کے لیے مخصوص ہال موجود ہے۔ جو مہمانوں کی بڑی تعداد کے لیے بھی کافی ہے۔ تقریب میں شریک ہونے والے تمام حضرات سے اپیل ہے کہ اسلامی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی لباس پہننے کی زحمت کریں۔ جو بھی اسلامی لباس کی خلاف ورزی کرے گا، انتظامیہ کو پوری طرح حق حاصل ہے کہ اس کے داخلہ پر پابندی لگادے۔“

لندن سنٹرل مسجد کے اس ہال میں شادی کی تقریبات منعقد کرنے کی بارہ شرائط ہیں جن میں بعض اہم شرطیں حسب ذیل ہیں:

اسلامک کلچرل سنٹر اور لندن سنٹرل مسجد ایک عبادت گاہ ہے اس لیے براہِ کرم مہذب لباس ضروری ہے دیگر لباس جیسے جینز وغیرہ ممنوع ہے۔

خواتین سے درخواست ہے کہ وہ اسلامک کلچرل کے احاطے میں ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپے رہیں، اسکارف سیکورٹی ڈیسک سے لیا جاسکتا ہے۔

احاطہ میں شراب، موسیقی، رقص یا سگریٹ نوشی مکمل طور پر ممنوع ہے۔

تقریب کی فلم بنانے یا تصاویر کھینچنے کے لیے ایک فارم ہے جس کو بھرنے کے بعد اوراجازت ملنے کے بعد تصویر کی اجازت ہوگی۔

دیگر شروط کے ساتھ مذکورہ بالا شرطوں پر نظر ڈالیں کہ وہاں کی مسجدوں کے احاطہ میں یا مسجدوں کے اندر جو شادی ہال موجود ہیں وہاں تقریبات کے کیسے ضواط نافذ کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم بھی اپنے اپنے علاقوں کی جامع مسجد میں اسی قسم کا انتظام کریں جن سے سماج کے اندر شادی کے متعلق مختلف قسم کے غیر شرعی رسم و رواج سے نہ صرف بچنے اور بچانے کا موقع ملے گا بلکہ اسلام کی تہذیب و ثقافت کی ترویج بھی ہوگی۔ یورپ کی تقریباً تمام مساجد میں اسی قسم کے شادی ہال آپ کو ملیں گے، چنانچہ برطانیہ کی برمنگھم سنٹرل مسجد اپنی مسجد کی مختلف خدمات کا تعارف کراتے ہوئے اپنے ویب سائٹ پر یوں رقمطراز ہے:

ہماری مسجد میں کرایہ پر لینے کے لیے مختلف سہولیات سے لیس کمرے موجود ہیں۔ جو مختلف سائز کے ہیں۔ ملاقاتوں، تربیتی کورسز، کانفرنس، نمائش، نجی تقریبات، شادی، جنازہ  اور دیگر فیملی تقریبات کے لیے ایک مثالی سہولیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری مسجد کے کمیونٹی ہال میں تقریباً ۰۰۴ مہمانوں کے استقبال کا مکمل انتظام ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجدمیں نکاح منعقد کرنے پر تمام مسالک کے علماء کا اتفاق ہے۔ بعض کے نزدیک مستحب ہے تو بعض کے نزدیک مباح، چنانچہ دار الافتاء اہل سننت کا یہ فتوی ملاحظہ فرمائیں:

اہل سنت والجماعت کا فتوی ہے۔ مجیب: مفتی محمدقاسم عطاری فتوی نمبر: Sar-7582  تاریخ اجراء:28ربیع الآخر 1443ھ/04دسمبر 2021

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلے کے بارے میں کہ بعض افراد کو دیکھا ہے کہ وہ عقدِ نکاح کے لیے مسجد میں آتے ہیں اور اپنا نکاح مسجد میں پڑھواتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسجد میں نکاح پڑھوانے میں کوئی حرج تو نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مسجد میں عقدِ نکاح کرنا مستحب ہے، مگر اِس میں یہ خیال لازمی رکھا جائے کہ مسجد شوروغل اور ہر ایسے قول وعمل سے محفوظ رہے کہ جو احترامِ مسجد کے خلاف ہو، مثلاً: ناسمجھ بچے ہمراہ نہ لائے جائیں کہ اُچھل کود کریں گے۔ یونہی مشاہدہ ہے کہ مسجد میں نکاح ہونے کے فوراً بعد سب کو مٹھائی کھلائی جاتی ہے، اِس سے بچا جائے کہ مٹھائی کا شِیرا یا اجزاء مسجد میں گرنے سے مسجد کے آلودہ ہونے کا قوی اِمکان ہے۔

مسجدمیں نکاح کرنے کے متعلق نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:”أعلنوا ھذا النکاح واجعلوہ فی المساجد۔“ترجمہ:لوگو! نکاح کا اعلان کیا کرو اور مسجدوں میں نکاح کرو۔ (جامع الترمذی، جلد2، باب ما جاء فی اعلان النکاح،صفحہ384، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بیروت)

مسجد میں نکاح کی ترغیب دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی   رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں:”وہولحصول برکۃ المکان وینبغی أن یراعی فیہ أیضا فضیلۃ الزمان لیکون نورا علی نور وسرورا علی سرور، قال ابن الہمام: یستحب مباشرۃ عقد النکاح فی المسجد لکونہ عبادۃ وکونہ فی یوم الجمعۃ۔“ترجمہ:مسجد میں عقدِ نکاح کی ترغیب، مسجد سے برکات کے حصول کے پیش نظر ہے۔ مناسب یہ ہے کہ مسجد کے ساتھ ساتھ، وقت والی فضیلت کی بھی رعایت کی جائے، تاکہ عقدِ نکاح نور علی  نور ہوجائے اور خوشیاں دوبالا ہوجائیں۔ امام ابنِ ھمام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مسجد میں عقدِ نکاح مستحب ہیکہ نکاح ایک عبادت ہے۔(اور عبادت کے لیے مسجد ایک عمدہ جگہ ہے) دوسری چیز یہ کہ نکاح کا جمعہ کے دن ہونا بھی مستحب ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد6،کتاب النکاح، صفحہ285، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

علامہ علاؤالدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں: ”ویندب إعلانہ وتقدیم خطبۃ وکونہ فی مسجد یوم جمعۃ۔“ترجمہ:نکاح کا اعلان کرنا، خطبہِ نکاح کا عقدِ نکاح سے پہلے ہونا اور نکاح کا جمعہ کے دن مسجد میں ہونا، یہ تمام اُمور مستحب ہیں۔(درمختار مع ردالمحتار، جلد4،کتاب النکاح، صفحہ75، مطبوعہ کوئٹہ)

دیوبند کا فتوی ملاحظہ فرمائیں  سوال:نکاح مسجد میں ہونا کہاں سے آیا؟  جواب نمبر: 43236

مسجد میں نکاح کرنا حدیث شریف سے ثابت ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اعلنوا ہذا النکاح واجعلوہ فی المساجد الخ· (رواہ ترمذی:۱/۷۰۲) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نکاح کا اعلان کرو، اور نکاح مسجد میں کیا کرو۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم  دارالافتاء،  دارالعلوم دیوبند

سعودی عرب کا فتوی ملاحظہ فرمائیں جب وہاں کے علماء سے درج ذیل سوال کیا گیا:

برائے مہربانی مسجد میں نکاح کرنے کا شرعی حکم واضح کریں، یہ علم میں رہے کہ عقد نکاح اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو گا اور اس میں مرد و عورت کا اختلاط بھی نہیں اور نہ ہی گانا بجانا ہے؟کمیٹی کے علماء کا جواب تھا:  ”اگر تو واقعتا ایسا ہی جیسا بیان ہوا ہے تو پھر مسجد میں عقد نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“

الشیخ عبد العزیز بن باز، الشیخ عبد الرزاق عفیفی، الشیخ عبد اللہ بن غدیان، الشیخ عبد اللہ بن قعود،

دیکھیں: فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء (18 / 110)

جب مسجدوں کے اندر نکاح کرنا اور شادی کی تقریبات منعقد کرنا خوشی کے اس موقع میں خوشی و مسرت کا اظہار کرنا مستحب ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں مساجد اس کا انتظام کرتی ہیں تو پھر ہمارے ملک میں مسجدوں کے ذریعہ مسجدوں کے احاطے میں یا اس کے ہال میں شادی کی تقریب منعقد کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟

اگر آپ کی مسجد میں وسعت ہے یا مسجد کئی فلور پر مشتمل ہے تو بلاشبہ شادی کی تقریب کو منعقد کیا جاسکتا ہے۔ اس سے جہاں ہماری قوم کو غیر اسلامی رسم و رواج سے بچنے اور اسلامی طریقے پر شادی کی تقریبات منعقد کرنے کا ایک سنہرا موقع فراہم ہوگا تو دوسری طرف ہماری مسجدوں کو مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے جن کا استعمال مسجد کی دیگر تعلیمی، سماجی اور فلاحی کاموں میں استعمال کرکے ملک و قوم کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

Naqi Ahmed Nadwi

Riyadh, Saudi Arabia

Email: naqinadwi2@gmail.com 

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے