مستقبل کی عالمی وباوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کی تیاری ناکافی

47

ایک ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا کروناوائرس کے موذی مرض سے نبردآزما ہے عالمی ادارہ صحت نے ممالک پر زور دیا ہے کہ مستقبل کے عالمی امراض سے نمٹنے کے لیے ابھی سے تیاررہنا چاہیے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے کہا ہے کہ اگر اقوام عالم آنے والے وبائی امراض کی روک تھام کی تیاری نہیں کرتیں تو انہیں ناکام ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔

وبائی امراض کے خلاف تیاری کے عالمی دن کے موقع پر انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ مستقبل میں عالمی امراض کا ہونا ایک ناگزیر بات ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے “گلوبل پریپییرڈنیس مانیٹرنگ بورڈ” کی گزشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت مستقبل میں پھوٹنے والی کسی عالمی وبا سے نمٹنے کی تیاری میں خطرناک حد تک تیار نہیں ہے۔

ٹیڈروس گریبیسس نے تنبیہہ کی کہ اگر ہم اپنے آپ کو مستقبل کے چلینجز کے لیے تیار نہیں کرتے تو دنیا ایک عالمی وبا سے دوسری عالمی وبا میں داخل اور اس سے دو چار ہو سکتی ہے۔ ایسا کم نظری کے باعث ہی ہوگا۔

تقریباً ایک سال قبل پھوٹنے والے کووڈ نائنٹین نے صحت کے مسائل گھمبیر کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیا ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک آٹھ کروڑ لوگ اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک کروٹ 70 لاکھ جانوں کا زیا ں ہو چکا ہے۔

لیکن موثر ویکسین کی تیاری کی صورت مین دنیا کو ان دگرگوں حالات میں امید کی کرن نظر آرہی ہے کہ بالاخر دنیا اس وبا پر قابو پا لے گی۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اس معاملے میں پر امید ہیں لیکن ساتھ ہی وہ
لوگوں کو تلخ تاریخی حقائق کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں:

“تاریخ بتاتی ہے کہ کروناوائرس سے پیداہونے والا مرض کو ئی آخری وبا نہیں ہے بلکہ یہ کہ وبائی امراض زندگی کی حقیقت ہیں۔ لہاذا تمام ممالک کو آنے والے امراض کو پھیلنے سے روکنے، ان کی شناخت کرنے اور ہر قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”

اس سلسلے میں انہوں نے زور دیا کہ کامیابی کا واحد طریقہ عالمی بھائی چارے کے جزبے سے باہمی تعاون سے آگے بڑھنا ہے۔ جس کا مطلب دنیا کی امیر اور غریب قوموں کی ضروریات کو یکساں اہمیت دینا ہے۔