مساجد کی انتظامی کمیٹیاں۔۔۔۔خادم یا ڈکٹیٹر؟

64

مساجد کی انتظامی کمیٹیاں۔۔۔۔خادم یا ڈکٹیٹر؟

معاشرے میں بڑھتے ہوئے دینی، اخلاقی اور معاشی زوال کو روکنے  اور افراد کی تربیت کرنے کے لئے اسلام نے ایک بہترین مرکز

عطا کیا تھا، وہ تھا منبر جہاں سے جمعہ اور عیدین کے خطبے دیئے جاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اِس مرکز کی اہمیت اور افادیت فنا ہوچکی ہے۔  لفظ ”زوال“ پر شائد کچھ لوگ ناراض ہوں لیکن اِس کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا دیں کہ جمعہ کے خطبے سامعین سے بالکل خالی ہیں۔ لوگ  خطبہ سننا ہی نہیں چاہتے، جماعت کھڑی ہونے سے صرف دو چار منٹ پہلے مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی ذمہ داری مسجدوں کی انتظامی کمیٹیوں پر عائد ہوتی ہے۔یوں تو ہر شخص مسلکوں اور فرقوں کے اختلافات سے ہر شخص بیزار ہے، اور اِس کا الزام علما کے سر ڈالا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں کوجماعتوں،  مسلکوں اور فرقوں کا اکھاڑہ بنانے میں انتظامی کمیٹیاں اہم رول ادا کرتی ہیں۔

مثالیں یوں تو کئی ہیں لیکن ہم یہاں صرف جمعہ کے خطبوں کے تعلق سے کچھ عرض کریں گے۔ خطبہ دینے والا صرف مدرسے کا فارغ ہو، عالم یا مفتی یا حافظ یا کم ازکم قاری ہو، ایسا ضروری نہیں ہے، لیکن کمیٹیوں نے یہ شرط عائد کرکے نہ صرف خطبہ کی افادیت کو ختم کردیا بلکہ سمجھدار تعلیم یافتہ اور دانشور طبقے کو مسجد سے بھی اور خطبوں سے بھی دور کردیا۔ منبر پر وہ لوگ قابض ہوگئے جن کے موضوعات بھی محدود، دنیاوی تعلیم اور تجربات بھی محدود اور سوچ اور IQ بھی محدود ہوتی ہے۔ اِن کے خطبات سے ایک شرعی حکم، رسمی طور پر تو پورا ہوجاتا ہے لیکن خطبہ کے پیچھے شریعت کا جو اصل منشا ہے وہ پورا نہیں ہوتا، بلکہ غارت ہوجاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے کئی موقعوں کو خطبہ کے لئے استعمال فرمایا، جیسے جمعہ، عیدین، نکاح، نمازِ جنازہ، جنگ اور نزاعات وغیرہ۔ تمام خطبوں میں بحیثیتِ مجموعی،  آخرت کی مسلسل یاد دہانی اور حالات حاضرہ کے پس منظر میں لوگوں کو ہدایات دی جاتی تھیں۔ شائد اسی لئے فقہا نے خطبہ دینے کا اختیار پہلے حاکم کو، پھر گورنر کو اور پھر صاحبِ اختیار اور صاحبِ اثر کو دیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں یہی مصلحت پوشیدہ ہے کہ خطیب حالات کی بصیرت رکھنے والا ہو، اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ان حالات میں صحیح رہنمائی کرنے والا ہو۔ آج قدم قدم پر ایک طرف جن سائنسی، اقتصادی، ٹکنالوجیکل اور ایجوکیشنل چیلنجس کا سامنا ہے تو دوسری طرف سماجی انصاف، بین مذہبی تعاون، حقوق اور قانون کے سنگین مسائل ہیں، ان  امور میں منبر سے  قوم کی رہنمائی کرنے  والے کے لئے لازمی ہے کہ وہ  جہاں قرآن و حدیث کی صحیح تعبیر سے واقف ہو، وہیں وہ سائنس، قانون، اکنامی، بنکنگ،  پولیٹیکل سائنس اور ٹکنالوجی سے بھی مکمل آشنائی رکھتا ہو۔ اِن میدانوں میں ہر روز واقع ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہو۔ لیکن آج کے خطیبوں کی اکثریت سوائے واٹس اپ یا فیس بک کے،  نہ کبھی کسی اخبار کا مطالعہ کرتی ہے اور نہ کسی رسالے، مقالے یا کتاب کا۔ مدرسوں کے نصاب میں 50% فقہ ہے۔ قرآن بمشکل 10%ہوتی ہے۔ باقی صرف و نحو، قصص الانبیاء، عربی لٹریچر، فارسی اور منطق وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔ فقہ بھی وہ جس کا بیشتر حصہ کم از کم ہندوستان کے لئے غیرضروری ہے۔ پھر ستم یہ ہے کہ مدرسہ سے فارغ ہونے والوں کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیاجاتا ہے کہ قیادت کے منصبدار یہی ہیں، یہ شائد 1857 کی جنگِ آزادی میں علما کی شہادتوں کی وجہ سے مفروضہ قائم کرلیا گیا ہے، جبکہ عہدِ حاضر کی قیادت سکھانے والا کوئی ہنر یا کوئی مضمون نہ نصاب میں ہے، اور نہ سکھایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ دعوت و تبلیغ جو کہ اسلام کی روح ہے، اس کے چند احادیث تو پڑھائی جاتی ہیں، لیکن اس میں کوئی تخصص کروایا جاتا ہے اور نہ عملی طور پر اس کی تربیت کی جاتی ہے۔ یقینا علما، انبیا کے وارث ہیں۔ لیکن انبیا کا پہلا کام لوگوں کے بیچ جانا، اور دعوت دینا ہوتا تھا، اور اس کے نتیجے میں پتھر کھانا ہوتا تھا۔لیکن مدرسوں سے فارغ ہونے کے بعد سوائے بالمعاوضہ امامت، خطبہ، تراویح ور ٹیوشن  یا داعی کی نوکری کے،  یہ لوگ کسی دعوتی کام میں نظر نہیں آتے۔ اِن کے مقابلے میں کالج اور یونیورسٹی سے نکلنے والے ہندوپاک میں بھی اور امریکہ لندن میں بھی بلامعاوضہ دعوت کے سب سے زیادہ کام کررہے ہیں۔

کیمٹیاں والے یہ سمجھیں کہ قیادت کا وصف نہ مدرسہ کی عطا ہے اور نہ کسی دنیاوی ڈگری کی دین ہوتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح یا اسد اویسی صاحب کے دادا مرحوم عبدالواحد اویسی پیشے سے  وکیل تھے۔ اِس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ وکالت کرنے سے قیادت کا وصف قدرتی طور پرپیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح علامہ اقبال ایک فلاسفی کے اسکالر تھے،حسرت موہانی ایک کامریڈ شاعر تھے،  مولانا عبدالماجد درآبادی ایک کامریڈ اور صحافی تھے، عمران خان ایک کرکٹر تھے، اسی طرح  سرسید احمد خان، مولانا ابوالکلام آزاد، احمد دیدات،پاپولر فرنٹ، جماعتِ اسلامی، ایم آئی ایم اور مسلم لیگ وغیرہ کے موجودہ قائدین کالج کی پیداوار تھے، کیا اِس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ میڈیسن یا جرنلزم یا فلاسفی پڑھنے سے یا کرکٹ کھیلنے سے یا جامعہ ازہر یا آکسفورڈ میں پڑھنے سے قائدانہ بصیرت حاصل ہوجاتی ہے؟ جی نہیں۔ قائدانہ صلاحیتیں اور قیادت کا شعور یعنی Vision اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ  ایک ایسا وصف ہے جو قدرتی ہے، جو کسی بھی  انسان کو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، چاہے وہ کسی بھی پیشے سے وابستہ ہو۔اسی طرح سے آج مولانا سجاد نعمانی، مولانا محمود مدنی، سلمان ندوی، اصغر علی امام مہدی سلفی وغیرہ، اور پاکستان میں مولانا فضل الرحمان جیسے علما جو قومی سطح پر شاندار رہنمائی کررہے ہیں، یہ اس لئے نہیں کہ اس میں مدرسے کا کوئی دخل ہے۔ ہاں؛ مدرسے نے ان کی صلاحیتوں کو چارچاند ضرور لگائے ہیں، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مدرسے کی وجہ سے یہ لوگ قیادت کا شعور حاصل کرنے کے قابل ہوئے۔ قیادت کا عنصر  ان میں پیدائشی تھا۔ یہ اگر عالم ہونے کے بجائے کوئی ڈاکٹر یا کرکٹر ہوتے تب بھی ان میں وہی قائدانہ صلاحیتیں موجود ہوتیں جو آج ہیں۔ اگر قیادت کا تعلق صرف مدرسے سے ہوتا تو ہندو پاک میں ہر طرف صرف اور صرف اہلِ مدرسہ کی قیادت نظر آتی۔

مختصر یہ کہ قیادت کے لئے عالم ہونا شرط نہیں، جمعہ کا خطبہ قیادت سازی کی پہلی سیڑھی ہے۔ منبر سے جہاں ایک طر ف عوام کی تمام دینی اور دنیاوی مسائل میں رہنمائی کی جاتی ہے، وہیں یہ منبر،  قائدین کو پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جسے شریعت نے عطا کیا ہے۔ ہر شہر میں ایسے کئی اہلِ علم و دانش و بصیرت موجود ہیں جن کو باری باری جمعہ کے خطبہ کے لئے دعوت دی جانی چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر ہر ہفتہ ایک نیا موضوع، ایک نیا مضمون اور ایک نیا مقرر ہوگا تولوگوں کی مسجد سے دلچسپی بڑھی گی۔اور ہر مکتبِ فکرکا آدمی رہنمائی حاصل کرنے مسجدوں اور خطبوں کا رخ کرے گا۔ لیکن کمیٹی والے جن کی اکثریت خود بھی تعلیم یافتہ نہیں ہوتی، اور نہ اِن کی اکثریت کے پاس دین کا شعور ہوتا ہے اور نہ حالات کا ویژن ہوتا ہے، وہ اسی شخص کو منبر پر کھڑا کرتے ہیں جو چند فضائل اور چند مسائل کی بات کرے۔ چونکہ اِن خطبہ دینے والوں کی اکثریت میٹرک پاس بھی نہیں ہوتی، اس لئے قابل تعلیم یافتہ لوگوں کی اِن خطبوں سے عدم دلچسپی فطرتِ انسانی یعنی ہیومن سائیکالوجی ہے۔ اگرچہ کہ یہ غلط رویّہ ہے۔ اپنی انا کی خاطر خطبہ ترک کرنا گناہِ کبیرہ ہے کہ کیونکہ شریعت میں جمعہ کا خطبہ سننا واجب ہے۔لیکن دوسری طرف خود نفسِ خطبہ، اگر خطبہ کے مقصد کوپورا نہیں کررہا ہو تو اس کے ذمہ دار کمیٹی کے ذمہ داران ہیں، جو خطبہ دینے والوں سے صرف وہی سننا چاہتے ہیں جو اِن کی سمجھ میں آئے۔ جو چیز ان کی سمجھ سے بالا تر ہو وہ اُس چیز کو پوری امت کے لئے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ اگر کسی دوسرے خطیب کو اجازت دی بھی جاتی ہے تو اس کے لئے مسلک کی شرط لازمی ہوتی ہے۔ بعض ذمہ داران جن میں خود علما بھی شامل ہیں، یہ بات ذہنوں میں بٹھاتے ہیں کہ غیر عالم مسجد میں تقریر کا اہل نہیں ہوتا۔ یہ تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ غیر عالم کی تقریر سننے سے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے یوٹیوب پر کئی ویڈیوز پھیلائی جاچکی ہیں۔ اس کا مقصد سمجھنے کے لئے نفسیاتِ انسانی کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ برہمن کا کسی بھی غیربرہمن کو دھرم شاستروں سے دور رکھنا ایک مذہب کا وطیرہ نہیں بلکہ فطرتِ انسانی کا تقاضہ ہے۔ ملکوں پر حکومت کرنے کا جس طرح ایک جنون ہوتا ہے، اسی طرح ذہنوں پر حکومت کرنے کا بھی فطرت میں ایک جنون ہوتا ہے۔ ذہنوں پر حکومت کرنے کے لئے علم، عقیدہ،     ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ اگر کسی دوسرے خطیب کو اجازت دی بھی جاتی ہے تو اس کے لئے مسلک کی شرط لازمی ہوتی ہے۔ بعض ذمہ داران جن میں خود علما بھی شامل ہیں، یہ بات ذہنوں میں بٹھاتے ہیں کہ غیر عالم مسجد میں تقریر کا اہل نہیں ہوتا۔ یہ تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ غیر عالم کی تقریر سننے سے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے یوٹیوب پر کئی ویڈیوز پھیلائی جاچکی ہیں۔ اس کا مقصد سمجھنے کے لئے نفسیاتِ انسانی کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ برہمن کا کسی بھی غیربرہمن کو دھرم شاستروں سے دور رکھنا ایک مذہب کا وطیرہ نہیں بلکہ فطرتِ انسانی کا تقاضہ ہے۔ ملکوں پر حکومت کرنے کا جس طرح ایک جنون ہوتا ہے، اسی طرح ذہنوں پر حکومت کرنے کا بھی فطرت میں ایک جنون ہوتا ہے۔ ذہنوں پر حکومت کرنے کے لئے علم، عقیدہ، معجزے، کرامات، کے ساتھ ساتھ حسب نسب کی شان سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔یک علاقے کا کارپوریٹر یا ایم ایل اے جس طرح اپنے علاقے میں کسی اور کی لیڈری برداشت نہیں کرسکتا، اسی طرح ذہنوں پر حکومت کرنے کے جنونی کسی اور کے علم، عقیدے یا تحریک کو برداشت نہیں کرسکتے۔ برہمن نے جس طرح یہ چال چلی کہ دھرم شاستروں کو کسی بھی غیربرہمن کے لئے چھونا بھی پاپ قرار دے دیا، اسی طرح ہم نے بھی  صدیوں تک قرآن کو یہ کہہ کر عام انسانوں سے دور رکھا کہ یہ ہر ایک کے سمجھ میں آنے والی چیز نہیں، لیکن ڈاکٹر اسرار احمد، زاکرنائیک، نعمان علی خان، محترمہ فرحت ہاشمی،بلال فلپ، جاوید غامدی وغیرہ نے جب سوشیل میڈیا پر دین و قرآن کو اتنا آسان کردیا کہ کئی کئی ملین Views ان کوملنے لگے تو بوکھلاہٹ میں اہلِ مدرسہ کے پاس  اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ مدرسے کو قبولیت کی کسوٹی بنا کر غیر مدرسے کے قابل طبقہ کے خلاف لوگوں کے ذہنوں کو مشکوک کردیا جائے۔ اسی لئے کمیٹیوں کے افراد کے ذہنوں میں یہ بیٹھ گیا کہ خطبہ دینے کے اہل صرف مدرسہ سے فارغ لوگ ہی ہوسکتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد کمیٹیاں جمعہ کے خطبوں کو ریفارم کریں۔ خطبہ اولیٰ کسی بھی زبان میں ہوسکتا ہے۔ امام نوویؒ کے نزدیک خطبہ کے لئے فہم شرط ہے۔ یعنی لوگوں کی سمجھ میں آئے۔ اسی لئے گونگوں اور بہروں پر خطبہ سننا واجب نہیں۔ شاہ ولی اللہ ؒ کے نزدیک عربی کے علاوہ کسی بھی زبان میں خطبہ کی اجازت نہیں، جبکہ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ وغیرہ کے نزدیک یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ احسن ہے۔ خطبہ اولیٰ کے بعد خطیب بیٹھ جائے اور پھر خطبہ ثانی پیش کرے۔ خطبہ ثانی کا عربی میں ہونا فقہا کے نزدیک لازم ہے۔ دونوں خطبوں میں قرآن، درود،  اور وعظ لازمی ہیں۔مولانا محسن عثمانی پروفیسر جامعہ عثمانیہ کے مطابق خطبہ اولیٰ کے مقامی زبان میں ہونے کی وکالت کرنے والوں میں مولانا ابوالکلام آزاد، ابوالاعلیٰ مودودیؒ، سید سلیمان ندویؒ، ابوالمحاسن سجاد بانی امارت شرعیہ وغیرہ ہیں۔ خطبہ اولی جب تک اردو یا دوسری کسی بھی مقامی زبان میں نہ ہو، خطبہ کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے امریکہ اور یورپ میں خطبہ اولیٰ صرف انگریزی میں ہوتا ہے۔ کیرالا میں کہیں ملیالی کے علاوہ خطبہ نہیں ہوتا۔ سعودی عرب، دوبئی وغیرہ میں بھی جہاں جہاں غیرعربی تارکین وطن کے سنٹرز ہیں، وہاں خطبہ اولیٰ انگلش،اردو،  فلپینی، تلگو یا ٹامل میں ہوتے ہیں۔

لیکن یاد رہے، جو بھی شخص جو بہت اچھی تقریر کرسکتا ہو، اس کو لاکر خطبہ کے لئے منبر پر کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ اُس پر لازمی ہے کہ وہ اپنی بات کی دلیل قرآن و حدیث سے پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور جو شخص صرف قرآن و حدیث سے رٹ کر صرف آدابِ زندگی پیش کرسکتا ہو، اس کو بھی لاکر منبر پر کھڑا  نہ کردیا جائے، اس پر بھی لازم ہے کہ وہ حالات کا مکمل ادراک رکھتا ہو، اور قرآن و حدیث کی دلیل کے ساتھ رہنمائی بھی کرسکتا

ہو۔عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ دونوں خطبوں سے پہلے مقامی زبان میں ایک تقریر رکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے خطیب صاحب دو خطبے عربی میں دیکھ کر پڑھتے ہیں جو نہ وہ خود سمجھتے ہیں نہ عوام، لیکن سنت کی تکمیل کی ایک رسم پوری ہوجاتی ہے۔ چونکہ ان خطبوں سے پہلے اردو میں جو تقریر کروائی جاتی ہے، وہ  شرعی طور پر خطبہ کی تعریف میں داخل نہیں، اس لئے لوگوں پر اُس تقریر کا  سننا واجب نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا لوگوں کا تاخیر سے آنا حق بجانب ہے۔ اس لئے شریعت کے منشا کے مطابق ہونا یہ چاہئے کہ اردو میں جو تقریر کروائی جاتی ہے، اسی کو منبر سے خطبہ اولیٰ کے طور پر پیش کی جائے، دوسرا خطبہ عربی میں وہی خطیب پیش کرے، چاہے تو دیکھ کر پڑھے۔ اِس خطیب کے لئے لازم نہیں کہ نماز کی بھی وہی امامت کرے۔        کاش ایسا ہو کہ مساجد کی کمیٹیاں یہ انقلابی اقدام اٹھائیں اور اس بکھرتی ہوئی امت کو پھر سے مسجدوں کی طرف لانے میں مدد کریں۔ مضمون کی طوالت کے خوف سے ہم اور باقی امور پر تفصیل سے روشنی تو نہیں ڈال سکتے، لیکن ذیل میں ”عقلمندوں کو اشارہ“ کافی کے محاورے کا اعتبار کرتے ہوئے چند اشارے پیش کرنا چاہتے ہیں۔

۱۔ ہر شہر میں دین کا بہترین درد اور سمجھ رکھنے والے، اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کا بھی بہترین شعور رکھنے والے علما، مفتیوں کے علاوہ کئی ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، ایم بی اے، وکیل، اور دانشور موجود ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو باری باری جمعہ کے خطبوں کے لئے بلایا جائے، اور ان سے رہنمائی حاصل کی جائے، ان کے اندر جو عظیم مفکرانہ، مصلحانہ اور قائدانہ صلاحتیں چُھپی ہوئی ہیں، ان کو قوم کے سامنے لایا جائے۔ منبر کو صرف ایک مسلک، مدرسہ اور چند مخصوص دینی امور تک محدود نہ کردیا جائے۔

۲۔ بے شمار گروپ ایسے ہیں جو قوم کی فلاح کے لئے کئی فلاحی، تعلیمی، ادبی، اکنامک، اور دعوتی کاموں کے لئے میٹنگ یا سیمینار کے لئے کرائے کے ہال لینے پر مجبور ہوتی ہیں جب کہ ان کاموں کا مرکز مسجد ہونا چاہئے، لیکن کمیٹی والے مسجدوں کو مقفل کرڈالتے ہیں۔ اور ان نوجوانوں کو چندے کرکے وقت اور پیسہ ضائع کرنا پڑتا ہے۔ کمیٹی والے اگر ان گروپس کے لئے مسجدوں کے دروازے کھول دیں تو قوم میں بہترین قیادت کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

۳۔ اگر محلے میں چار پانچ مسجدیں ہو ں تو ہر مسلک کی مسجد سے لاؤڈاسپیکر پر ہی اذان ہو، یہ ضروری نہیں۔ نماز کے وقت کا اعلان سارے محلے کو سنانے کے لئے کسی ایک مسلک کی مسجد سے ہوجائے، یہ کافی ہے۔ ہر محلے کی تمام مسجدوں کی کمیٹیاں والے مل کر ایک ایک مہینہ بانٹ لیں، باری باری ہر مہینہ ایک مسجد کی اذان لاؤڈاسپیکر پرہو۔ ورنہ آجکل فاشسٹ جس طرح Law & Order کے مسائل پیدا کرنے کے لئے فسادات برپا کرنے کے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں اس سے سب واقف ہیں۔

۴۔ مؤذّنوں کا صحیح انتخاب کریں۔ اچھے لہن کی اذان دینے والوں کو اگر زیادہ تنخواہ دے کر لانا پڑے تو لائیں۔ ورنہ اکثر مؤذن جس بھدّے ترنّم میں اذان دیتے ہیں، اس بارے میں قارئین خود اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ غیر قوم کے کانوں پر بھی اسی طرح گِراں گزرتی ہے جس طرح اُن کی مندروں سے بھدّی آوازوں والے بھجن ہمارے کانوں پر گراں گزرتے ہیں۔

۵۔ اماموں کی تنخواہوں پر غور فرمائیں۔ کسی بھی امام کی تنخواہ پوچھئے اور اندازہ لگایئے کیا اتنی محدود تنخواہ میں ایک خاندان پل سکتا ہے؟ یہ کمیٹی  والوں کی ذمہ داری ہے کہ گھر گھر جائیں اور تعاون حاصل کریں، اور ہمارے اماموں کو معاشی طور پر خوشحال کریں تاکہ ان کو امامت کے علاوہ بھی کوئی اور ذریعہ آمدنی ڈھونڈھنا نہ پڑھے۔ وہی وقت وہ محلے کے بچوں کو بعد فجر یا بعد عصر دینی تعلیم سے آراستہ کرسکیں۔

آخری درخواست یہی ہے کہ کمیٹی والے حضرات،  خطیبوں پر یا مسجد وں کو دینی اور ملی کاموں کے لئے  استعمال کرنے کی اجازت طلب کرنے والوں پر اپنے مسلک یا سلسلہ کی شرط نہ رکھیں۔ یہ فیصلہ اپنے ہاتھ میں نہ لیں کہ 73 واں فرقہ کون ہیں۔ یہ فیصلہ کرنے کا حق اللہ سے چھیننے کی کوشش  نہ کریں جس نے واضح  طور یہ خود فیصلہ دے دیا ہے کہ            فاللہ یحکم بینھم یوم القیامہ فیما کنتم فیہ تختلفون

 

ڈاکٹر علیم خان فلکی

صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

واٹس اپ: 9642571721