مرکز کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم اب کرناٹک میں بھی نافذ ہوگی

31

بنگلورو : مرکزی حکومت کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم اب ریاست کرناٹک میں بھی نافذ کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں شہر کے انفنٹری روڈ میں واقع گلستان شادی محل میں 5 ستمبر 2020 کو پہلی میٹنگ منعقد ہوئی ۔ کرناٹک کے محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی وقف کے تحت منعقدہ اس اہم میٹنگ میں ریاست کے نمائندہ علماء کرام نے حصہ لیا ۔ کرناٹک محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ابراہیم اڈور ، اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن ، وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجیب اللہ ظفاری نے اسکیم کی مکمل تفصیلات علماء کرام کے سامنے پیش کیں ۔ اس اسکیم کا نام ہے SPQEM (Scheme for providing Quality Education to Madarsas) ۔

اسکیم کے نوڈل افسر عطاء الرحمن نے کہا کہ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) میں پہلے سے ہی یہ اسکیم موجود ہے ۔ لیکن ڈیڑھ ماہ قبل اس اسکیم کو وزارت ایچ آر ڈی سے مرکزی وزارت اقلیتی امور میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اس تبدیلی کے بعد اسکیم کو از سر نو نافذ کرنے کیلئے پہلی مرتبہ میٹنگ منعقد کی گئی ہے ۔ عطاء الرحمن نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ منتخب مدارس کو One time grant جاری کیا جائے گا ۔ منتخب ٹیچروں کیلئے ماہانہ تنخواہ حکومت کی جانب سے ادا کی جائے گی ۔ دینی مدرسوں میں سائنس لیب، کمپیوٹر لیب اور اس طرح عصری تعلیم کے انفراسٹرکچر کو قائم کرنے کیلئے 5 لاکھ، 10 لاکھ، 15 لاکھ (طلبہ کی تعداد پر منحصر ) ایک وقت کا مالی گرانٹ جاری کیا جائے گا ۔ عصری مضامین جیسے سائنس، علم ریاضی، انگریزی، کنڑا سکھانے کیلئے مقرر کئے گئے ٹیچروں کو ماہانہ تنخواہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جائے گی ۔ فی ٹیچر کو ماہانہ 6 ہزار روپے تنخواہ اس اسکیم میں مقرر کی گئی ہے ۔ ٹیچروں کی تنخواہوں کو ہر سال رینیول کیا جائے گا ۔