مرکزی بی جے پی حکومت عوام کے فلاح کیلئے نہیں سرمایہ دار دوستوں کیلئے ہے۔ ایس ڈی پی آئی

42
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صد ر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی ابتدائی رپورٹ میں وزرات الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی (MeitY) کے ایک بڑے گھوٹالے کا اشارہ نہ تو چونکا دینے ولا ہے اور نہ ہی غیر متوقع ہے۔ملک کی پوری آبادی کیلئے تو دور کی بات ہے کم از کم ان لوگوں کو جنہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا، مرکزی بی جے پی کی زیر قیادت موجودہ حکومت کا ایجنڈا عوام کی فلاح کیلئے کھبی نہیں رہا۔ ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کارپوریٹ غلاموں کا ایک گروہ ہے،جوجمہوری نظام کے ذریعے اقتدار پر براجمان ہوئی تاکہ ملک کو اپنے آقاؤں کو فروخت کرسکیں۔ سی اے جی اپنی ابتدائی کھوج میں کہاہے کہ نریندر مودی حکومت کا بھارٹ نیٹ پروگرام، جو چھ لاکھ دیہاتوں کو تیز رفتار انٹر نیٹ سے منسلک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، مالی بے ضابطگیوں کی وجہ سے شروع ہونے میں ناکام رہا۔ حکومت کی طرف سے ٹینڈر طلب کئے بغیرہ ہی معاہدہ کرنا ایسا سنا نہیں گیا ہے اور یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جارہا ہے۔ محکمہ ٹیلی مواصلات (DoT)  بغیرٹینڈر جاری کئے مختلف نجی شراکت داروں کو کروڑوں کے پروجکٹس مختص کرتا رہا ہے۔ رپورٹ میں ان روپئے کی ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزرات کے تحت کامن سروس سینٹرز (CSCٌ کو جولائی 2019تا دسمبر2020کے درمیان 386.42کروڑ اور 116.50 کروڑ روپئے ادا کئے گئے تھے۔ یہ انتظام یونیورسل سروس آبلیگیشن فنڈ (USOF)، بھارٹ براڈ بینڈ نیٹ ورک لمیٹڈ (BSNL)، اور کامن سروس سینٹرز(CSC) کے مابین آپٹیکل فائبر کیبل نیٹ ورک، ٹیلی مواصلات کے سازو سامن اور وائی فائی تک رسائی کے پوائنٹس کے آپریشنس اور بحالی کیلئے سہ فریقی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ جسے جولائی 2019میں کیا گیا تھا اور ڈیجیٹل کمیونکیشن کمیشن (DCC)نے ستمبر 2020میں منظور کیا تھا۔ اپنی94صفحات پر مشتمل مسودہ رپورٹ میں سی اے جی کا کہنا ہے کہ “سی ایس سی کو بڑی رقم کی ادائیگی کے باوجود، جس کی وزرات نے تشکیل دی ہے، کیبل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بھالی مختلف حلقوں میں موثر نہیں پایا گیا”۔اس کے نتیجے میں گرام پنچایت یا گاؤں کی بلاک سطح پر ناقص معیار کی سروس کا سامنا ہوا۔ ایسی بہت سی مثالوں کے بارے میں بھی ذکر ہے جہاں کام صر ف کاغذ پر ہی مکمل ہوا تھا۔ حالیہ ردو بدل کے دوران روی شنکر پرساد کو کابینہ سے ہٹانا پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں کھڑے ہونے والے تنازعہ سے بچنے کی کوشش ہے اور یہ ردوبدل کسی گھوٹالے کے بارے میں سی اے جی کے کھوج کی توثیق کرتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ چونکہ مودی کی سربراہی میں پوری وزرات ان کے کارپوریٹ دوستوں کو فروغ دینے کیلئے کام کررہی ہے، اس لئے ا س گھوٹالے کی تحقیقات کا مطالبہ ایسا ہے جیسا کسی مردہ گھوڑے کو کوڑے مارنا اور امکان ہے کہ مطالبہ کرنے والوں پر ملک سے بغاوت کا الزام عائد کردیا جائے گا۔ موجودہ مودی حکومت عوام کے ذریعے،عوام کی اور سرمایہ دار دوستوں کیلئے ہے۔