بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمذہب اسلام عقائد وخصوصیات_زکوۃ

مذہب اسلام عقائد وخصوصیات_زکوۃ

مذہب اسلام : عقائد وخصوصیات

(زکوۃ)

عین الحق امینی قاسمی*

گذشتہ تین قسطوں میں اسلام کے بنیادی امور مثلاً: کلمہ طیبہ ،نماز اورروزہ سے متعلق ضروری گفتگو کی گئی تھی ،آج اسلام کے چوتھے رکن "زکوٰۃ” کے بارے میں یہ جانتے ہیں کہ اس کے لغوی اور شرعی معنی کیا ہیں ،کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ،دین میں اس کی اہمیت کیا ہے ،زکو ۃکب فرض ہوئی،اس کا نصاب کیا ہے ،کیا شرائط ہیں اور اس کے سماجی وشرعی فوائد کیا ہیں وغیرہ۔

سب سےپہلےیہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ زکوٰۃ ایک عربی لفظ ہے ،لغت میں اس کے ایک سے زائد معنی بیان کئے گئے ہیں ، اس کا ایک معنی بڑھوتری بھی ہے ،اس کامعنی پاک ہونا اور نشوونما بھی ہے،اسی طرح اس کے معنی پاک ہونے اور پھلنے پھولنے اور بڑھنے کے بھی ہیں ۔البتہ شرعا شرائط مخصوصہ کے ساتھ کسی مستحق آدمی کوا پنے مال کے ایک معین حصے کا مالک بنادینا زکوۃ کہلاتا ہے ۔

زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے ، زکوٰۃ کا انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے ،البتہ زکوۃ ادانہ کرنے والا گناہ کبیرہ میں مبتلا رہتا ہے ،استطاعت کے باوجود زکوٰۃ ادانہ کر نے والا فاسق کہلا تا ہے ۔

قرآن کریم میں تقریبا بتیس مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے ،جب کہ قرآن کریم میں الگ سے بھی اس کا ذکر موجود ہے ، قرآن واحادیث میں جا بجا صاحب نصاب پر زکوٰۃ کی ادائے گی کی سخت تاکید آئی ہے ،سماج میں کمزوروں ،غریبوں کو مالی سہارا دینے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ،جیسے ایک آیت میں فرمایا کہ اگر تم اللہ کو قرض دوگے تو اللہ تمہارے مال کو بھی بڑھائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا ۔(سورہ تغابن ۔17) اللہ کو قرض دینے کے مفہوم کی وضاحت کے ضمن میں علماء مفسرین نے بہت سی تفصیلات ذکر کی ہیں ،ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ سماج کے دبے کچلے مستحقین امداد کو مالی مدد پہنچانا گویا اللہ کو قرض دینا ہے ،اللہ اس انسانی ہمدردی برتنے کی نتیجے میں راہ خدا میں خرچ کرنے والے کو مال میں وسعت بھی دیتا ہے اور گناہ معاف فرماکر اس کے نفس کو بھی پاکیزہ بنادیتا ہے ۔ایسے ہی ایک جگہ ان لوگوں کو سخت ہدایت دی گئی ہے جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود اپنا مال غریبوں میں خرچ نہیں کرتے ،بلکہ محض جمع کرنے کا حرص وہوس اپنے اندر پالے رہتے ہیں ۔فرمایا کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور خرچ بالکل بھی نہیں کرتے (ضرورت مندوں پر) اللہ کی راہ میں،تو ایسوں کو ایک دردناک عذاب کی بشارت دیدیجئے (سورہ توبہ ،34)

جوشخص مسلمان، عاقل و بالغ ،آزاد ہو، نصاب کے برابر مال رکھتا ہو، ما ل, ضروریات اصلیہ سے زائد ہو اور اس مال پر پورا سال گذر جائے تو اس پر زکوٰة فرض ہے، نصاب سے مراد یہ ہے کہ ساڑھے سات تولہ یعنی ساڑھے ستاسی گرام سونا ہو یا ساڑھے باون تولہ یعنی موجودہ وزن کے لحاظ سے 613 گرام چاندی ہویا دونوں کی مالیت کے برابریا دونوں میں سے ایک کی مالیت کے برابرنقدی ہو یا سامانِ تجارت ہو یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہوتو وہ شخص صاحب نصاب کہلائے گا ،اس پر زکوۃ پر فرض ہوگئی۔

زکوۃ کی فرضیت سے متلعق مختلف اقوال ہیں ،بعض نے سن ایک ھجری ،بعض نے دو ھجری اور بعضوں نے 8/ اور 9 کا بھی ذکر کیا ہے،بلکہ بعض نے قبل ھجرت ،اس کی فرضیت کی صراحت کی ہے ۔البتہ جمہور کا قول یہ ہے ،زکوۃ دور مدینہ میں ھجرت مدینہ کے بعد فرض ہوئی ہےاور اسی دوسرے سال میں رمضان کے روزے ، صدقۃ الفطر ، عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز شروع ہوئی اور عید کی نماز کے بعد دو خطبے ، قربانی، اور مال زکوۃ بھی اسی سال شروع ہوئی، اور اسی سال تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا(سیرۃالمصطفی)

یہاں اس پہلو کو بھی ذہن میں محفوظ رکھا جائے کہ جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے مثلاً زکوۃ ادا نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو جس دن اس مال کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اسی مال سے ان سے ان کی پیشانی، پہلو اور کمر وغیرہ کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی تیرا مال ہے جس کو جمع کرکے خوب رکھا کرتاتھا اب اس کا مزہ چکھو .(سورہ توبہ)

سورہ ہمزہ میں بھی زکوٰۃ نہ دینے والے کو سخت تاکید کی گئی ہے :خرابی و بربادی ہو عیب جوئی اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے والے پر جو مال جمع کر کے رکھتا ہے اور اس کو خوب گنتا ہے یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کو پائیداری دے گا ہرگز نہیں! ہرگز نہیں ! اس کے مال کوحُطَمَہ میں ڈالا جائے گا (اور جانتے ہو ) حُطَمَہ کیا ہے ؟ یہ اللہ کی دہکای ہوئی آگ ہے جو دلوں کو چھید دے گی۔(سورہ ہ ہمزہ)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث حضرت عائشہ۔ رضی اللہ تعالی عنہا نقل کرتی ہیں کہ میں نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زکوۃ کا مال جب بھی کسی صحیح مال کے ساتھ ملتا ہے تو اس کو ہلاک و برباد کر کے رکھ دیتا ہے- (مشکوۃ ،کتاب الزکوۃ) اسی طرح سے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ آسمان سے فرشتے اترتے ہیں ،ایک زکوۃ اداکرنے والے کے حق میں دعا دیتے ہیں ،جب کہ دوسرا فرشتہ عرض کرتا ہے زکوہ نہ دینے والے کے مال کو ہلاک وبرباد کردے(ترمذی شریف)

بہرحال !!! زکوۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے ،وقت پہ اس کی ادائے گی فرض ہے ، زکوۃ نہ دینے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ،اس کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہے ، مذکورہ قرآنی آیات واحادیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں اس رکن کی کتنی اہمیت ہے اور سماج میں کس درجہ اس کی ضرورت ہے ۔اسلام میں زکوٰۃ کا نظام امیر وغریب کے بیچ معاشی واقتصادی توازن کو برقرار رکھنے کا بے نظیر فارمولہ ہے جس میں صاحب نصاب سے ڈھائی فیصد مال لے کر معاشرہ کے کمزور وناتوان اور ضرورت مندوں تک پہنچا یا جاتا ہے ،یہ وہ بے مثال مالی نظام ہے جس پر ایک زمانے میں سوفیصدعمل کرنے کی صورت میں مدینے کے اندر کوئی ایسا فرد زندہ نہیں تھا جو زکوۃ کا مستحق ہو یا زکوۃ اس کے لئے روا ہو ۔

* نائب صدر جمعیۃ علماہند بیگوسرائے

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے