ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمدرسہ مفتاح العلوم مولانا باغ میں سرزمین بیگوسرائے کے مشاہیروممتاز علماءکرام کے...

مدرسہ مفتاح العلوم مولانا باغ میں سرزمین بیگوسرائے کے مشاہیروممتاز علماءکرام کے وفد کی آمد اور اساتذہ وطلبہ سے خطاب *  

*گوہرِ علم کو جوہر کردار سے آراستہ کیجیے :مفتی خالد نیموی

مدرسہ مفتاح العلوم مولانا باغ میں سرزمین بیگوسرائے کے مشاہیروممتاز علماءکرام کے وفد کی آمد اور اساتذہ وطلبہ سے خطاب *

✒ محمد محافظ رحمانی بیگوسرائے

              ید اللہ علی الجماعۃ

جمعیت علماء بیگوسرائے کے پلیٹ فارم سے تعلیمی وتربیتی بیداری کے نقطہ نظر سے مختلف مدارس اور تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر مفید مشورے دیے جاتے ہیں، جو مدارس اسلامیہ کے منتظمین اور طلبہ کے لیے حوصلہ بخش ہوتا ہے، اسی کڑی کے تحت مدرسہ مفتاح العلوم مولانا باغ پپرول کے انتظامیہ کے لئے بڑی فرحت و شادمانی کا باعث ہوا کہ مدرسہ ہذا میں جمعیت سے وابستہ متعدد عظیم المرتبت شخصیات کی مدرسہ ہذا میں آمد ہؤی. یہ وہ حضرات ہیں جو اپنے آپ میں خود ایک تحریک ہیں، اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں، ان میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ، رکن اتحاد العالمی لعلماء المسلمین، سابق معین المدرس ازہر ہند دارالعلوم دیوبند اور صدر جمعیت العلماء بیگوسرائے حضرت مولانا و مفتی خالد حسین نیموی قاسمی صاحب مدظلہ العالی ۔ حضرت والا خصوصاً سرزمین بیگوسرائے کے لئے تعلیمی مشن کو مزید اجاگر کرنے کے لئے تعلیمی ادارے کو آگے بڑھانے کے لئے کافی متحرک و فعال رہتے ہیں، اسی تعلیمی مشن کا جائزہ لینے کے لئے مدرسہ مفتاح العلوم مولانا باغ تشریف لائے، ساتھ ہی ایک اور جید عالم ربانی حضرت مولانا و مفتی عین الحق امینی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ ناظم معہد عائشہ نسواں کھاتو پور ونائب صدر جمعیت العلماء بیگوسرائے بھی ہمراہ تھے ،

ان علماء کرام کی تشریف آوری انتظامیہ کےلئے باعث مسرت رہی ان علماء کبار کی آمد پر مدرسہ مفتاح العلوم کے انتظامیہ اساتذہ و طلبہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، مدرسہ ہذا کی تعلیمی و تدریسی کارگزاری پیش کی گئی جس کا حضرت والا نے جائزہ لے کر کافی خوشی کا اظہار فرمایا اور مختلف تعلیمی و تدریسی امور پر تبالۂ خیال کر کے اطمینان کا اظہار فرمایا ۔

 حضرت مولانا مفتی عین الحق امینی صاحب نے بہت ہی قیمتی باتیں کہیں اور اہم باتوں پر توجہ دلائی یقینا یہ خوش آئند قدم سر زمین بیگوسرائے کے لئے قابل تحسین اور لائق ستائش ہے اور مستقبل میں یہ قدم ان شاءاللہ دینی اداروں کے لئے نیک فعال ثابت ہوگا، فرمایا کہ جمعیۃ علماء بیگوسراے کے تحت تدوین نصاب کا کام تقریبا آخری مرحلے میں ہے ، تدریسی نظام کو نصاب سے جوڑ کر چلنے میں بھلا ہے، اداروں میں نصاب کا اپنا ایک مقام ہے ،اس لئے انہیں یہ بھی بتایاگیا کہ بہت جلد دینی و عصری مضامین پر مشتمل نصاب تیار کرکے ضلع بھر کے مدارس و مکاتب کو اس سے جوڑنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔

حضرت مولانا مفتی خالد حسین قاسمی صاحب مدظلہ نے اساتذہ و ذمہ داروں سے فرمایا کہ

"ادارے میں زندگی بحال رکھئیے ،آپ ضلع کی خوبی والی جگہ پر ہیں ،لوگوں کو لگنا چاہئے کہ ادارہ زندہ ہے ، معیاری تعلیم ، مثالی تربیت اوراساتذہ کے جہد وزہد سمیت طلباء کی وضع اور رہائش سے لگے کہ ادارہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے رہا ہے ،یقین مانئے کہ آپ کو جھولا لے کر در بدر عزت نفس کھو نا پڑے گااور نہ وقت۔

دادودہش کے جذبوں سے سرشارکچھ لوگ آپ کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے آپ تک پہنچیں گے اور وہ خوشی خوشی واپس ہوتے رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ آج دین اور دینی اداروں کو اپنوں میں بدنام کرنے اور خیر خواہوں کوہم سے دور کرنے میں ان اداروں کے ذمہ داروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو بہ طور "پیشہ” اس کام کو کررہے ہیں اور جن مقاصد کے پیش نظر اداروں کا قیام عمل میں آیا تھا اس کو ثانوی درجہ دینے پر بھی وہ راضی نہیں ہوتے”

 دینی تعلیم کی اہمیت بتاتے ہوئے طلبہ عزیز کو تقوی اختیار کرنے، جس مقصد کے تحت مدرسہ میں آئے ہیں اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی

مدارس کے ذمہ داران کو تعلیم و تربیت پر زور دینے اور عوام کو طلبہ عزیز، علماء کرام سے جوڑنے، ان کی قدر کرنے علمائے کرام کے مشوروں سے کام کرنے جیسی پر مغز نصیحت فرمائی اور اسی کے ساتھ بحسن و خوبی دعاء کے ذریعے مجلس کا اختتام ہؤا۔

مدرسہ مفتاح العلوم مولانا باغ پپرول بیگوسرائے جو آسام روڈ ریلوے لائن سے متصل ہے الحمد للہ یہ ادارہ علمائے کرام کی زیرِ نگرانی روز اول سے ہی اپنی تعلیم و تربیت میں مصروف عمل ہے جس سے صوبہ بہار کے سیکڑوں طلبہ اپنی علمی تشنگی بجھا رہے ہیں، الحمدللہ یہ ادارہ اپنی تعلیمی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جہاں ملک کے ممتاز علمائے کرام کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے.

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے