مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں عالمی یوم بنات کے موقع پر خصوصی نشست منعقد

مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں عالمی یوم بنات کے موقع پر خصوصی نشست منعقد: یاسر عبدالقیوم قاسمی نے کیا خطاب ہردوئی (یاسر قاسمی)

مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں عالمی یوم بنات کے موقع پر خصوصی نشست منعقد

عالمی یوم بنات کے موقع پر مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں طالبات کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔

منعقدہ نشست میں یاسر عبدالقیوم قاسمی نے جنسیت کی بنیاد پر بیٹے بیٹیوں کے درمیان عدم مساوات اور بیٹیوں کے ساتھ ظالمانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا مرد و عورت معاشرتی گاڑی کے دو پہیے ہیں، دونوں پہیوں میں مساوات ضروری ہے، اگر دونوں کے درمیان برابری نہ رہے تو توازن قائم نہیں رہ سکتا، انہوں نے کہا اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی اللہ کی عظیم نعمت اور خدائی گفٹ ہے، نہ اسے رد کیا جاسکتا ہے اور نہ بدلا جا سکتا ہے، انہوں کہا بیٹیوں کی فضیلت کے لیے صرف یہی ایک بات کافی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بیٹیوں کا ذکر پہلے کیا بیٹوں کابعد میں، انہوں نے کہا کہ جن گھروں میں جنسیت کی بنیاد پر بیٹے ، بیٹیوں میں فرق کیا جاتا ہے وہ گھر کبھی بھی ترقی پذیر نہیں ہو سکتے، اسلام نے ہر حیثیت سے خواتین کو اونچا مقام دیا ، بیٹی ہے ، بہن تو فرمایا گیا جس نے دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش کی ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، اپنی حیثیت کے مطابق ان کو کھلایا، پلایا، پہنایا، تو اس کی یہ بیٹیاں یا بہنیں نے اس کیلئے جہنم کی آگ سے آڑ ہوں گی، جنت میں داخلے کا سبب ہوگیں ، گر ماں ہے، تو فرمایا جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے، ان کی خدمت سے ہی جنت حاصل کی جا سکتی ہے، اگر بیوی ہے تو فرمایا ان کے ساتھ بہتر سلوک کرو، فرمان نبوی ہے عورت پسلی سے تخلیق ہوئی اور پسلی کا حسن یہ ہے کہ اس میں کجی باقی رہے، اگر اسے سیدھا کرو گے، ٹوٹ جائے گی، اور اگر فائدہ اٹھاؤ تو فائدہ اٹھاتے رہو اس میں کجی باقی رہے گی، اس کی تشریح میں علامہ قسطلانی نے فرمایا اس حدیث میں مردوں کو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے، ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنے اور انکی بد اخلاقی پر صبر کرنے کی نصیحت کی گئی ہے، انہوں نے کہا معاشرے سے جنسیت کی بنیاد پر بیٹے ، بیٹوں کے درمیان عدم مساوات کو مٹانا ہوگا، اور اس کے لئے ہر فرد کو آگے آنا چاہئے۔ اس موقع پر ماس ٹیم ضلعی نائب صدر محترمہ سمہرہ صدیقی، حافظ محمد شبلی، طہ عبداللہ، محمد یحی، احمد عبداللہ، زینب، کہکشاں، فروزاں، منتشاء، اقراء، ثانیہ ، مدرسے کے طلبہ وطالبات اور دیگر افراد موجود رہے۔