ہومبریکنگ نیوزمدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں اقلیتی حقوق پر عظیم الشان اجلاس منعقد 

مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں اقلیتی حقوق پر عظیم الشان اجلاس منعقد 

مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں اقلیتی حقوق پر عظیم الشان اجلاس منعقد 
مدرسہ بورڈ اتر پردیش کے  رکن و ضلع اقلیتی بہبود افسر نے کی شرکت
ہردوئی (یاسر قاسمی)
مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں یوم اقلیتی حقوق سے متعلق ایک عظیم الشان  پروگرام منعقد ہوا، پروگرام  میں مہمانان خصوصی مدرسہ تعلیمی بورڈ اتر پردیش کے اہم رکن مسٹر اسد عراقی و اقلیتی فلاح و بہبود افسر مسٹر روہت کمار سنگھ کو فلاور بک دے کر اور پھولوں کو ہار پہناکر ان کا شاندار استقبال کیا گیا ، صدارت مدرسہ کے انتظامی امور کی انچارج محترمہ سمیرہ صدیقی اور نظامت یاسر عبدالقیوم قاسمی نے کی۔
تلاوت کلام اللہ و نعت و منقبت کے اشعارسے آغاز کے بعد طلبہ نے اپنے ثقافتی پروگرام پیش کیے،  بعد ازاں مہمان خصوصی مسٹر عراقی نے اپنے مختصر خطاب میں مدارس کے مفاد میں ریاستی حکومت کی جاری کردہ اسکیموں سے استفادے کے طریقے بتائے، جبکہ ضلع اقلیتی فلاح و بہبود افسر مسٹر روہت کمار سنگھ نے اقلیتی طبقات کیلئے جاری اسکیموں کی معلومات فراہم کراتے ہوئے ان سے استفادے کی لوگوں سے اپیل کی، نظامت کے دوران یاسر عبدالقیوم قاسمی نے یوم اقلیتی حقوق کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا 18 دسمبر 1992 کو اقوام متحدہ کے اعلان پر پہلی بار یہ دن منایا گیا، انہوں نے بتایا بھارت میں وزارت اقلیتی امور یعنی نیشنل مینارٹی کمیشن نے مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، پارسی اور جینیوں کو اقلیت قرار دیا دستور ہند میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کئی دفعات ہیں ، دفعہ 29، 30 کے تحت  اقلیتوں کو تعلیمی حقوق ، اپنی تہذیب وثقافت کی حفاظت، کسی بھی اسکول و کالج میں بلا تفریق تعلیم حاصل کرنے اور اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرکے ان کا انتظام و انصرام اپنے اعتبار سے چلانے کا حق دیا گیا ہے، دفعہ 16 کے تحت سرکاری ملازمتوں میں حصہ داری اور دفعہ 25 کے تحت مذہبی آزادی اور اپنے دین و مذہب کی تبلیغ کا انہیں حق دیا گیا ہے، انہوں نے اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو حکومتی اداروں کے ذریعے دبائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا، پروگرام میں مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ کے استاذ یاسر عبدالقیوم قاسمی ، زینب خاتون کو بیسٹ ٹیچر ایوارڈ اور حافظ محمد شبلی و من تشاء کو بیسٹ اسسٹنٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ تعلیمی میدان میں اور پروگرام میں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات احمد عبداللہ (درجہ 2) عبدالمنان (درجہ 2) مصباح (درجہ 7) اور درجہ 9 و 10 کی طالبات فاطمہ و لاعبہ و سنبل کو خصوصی مہمانوں کے ہاتھوں شیلڈ میڈل اور ستائش ناموں سے نوازا گیا، پروگرام میں معہدالبشیر الاسلامی سے ماسٹر جنید، مدرسہ رحمانیہ سندیلہ و بالا مؤسے محمد اشفاق، مدرسہ احیاء العلوم سندیلہ سے مولانا شعیب  قاسمی، مولانا محمد رئیس، مدرسہ یاسین القرآن سے نگہت فاطمہ و ریاض بابو، مدرسہ ظہور الاسلام سے محمد طاہر عباس، مدرسہ رحمان العلوم سرسنڈ سے ماسٹر اشفاق الرحمن عرف تبو کے نمائندے آشیش، مدرسہ گلشن زاہدیہ انصار العلوم سے ڈاکٹر محمد زاہد عرف راجہ، محمد شکیل ، سید اظفار حسین اسد معراج ، محمد سلیم، محمد آصف، ثانیہ، سمرہ، مفتی محمد سہیل قاسمی، محمد سعد، یحی عبداللہ ، ماسٹر محمدعمران،  حاجی محمد آصف، محمد احمد، زینب فاطمہ، نصرت ، جہاں، کائنات، شائستہ، عبدالباری، محمد حسین ودیگر مدارس کے ذمہ داران و اساتذہ اور اقلیتی طبقے کی معزز وسرکردہ شخصیات نے شرکت کی دعاء پر نشست ختم ہوئی۔
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے