جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں تقرری کا ضابطہ

مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں تقرری کا ضابطہ

 

مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں تقرری کا ضابطہ
مدرسہ ریکارڈ کی روشنی میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کو بانی مدرسہ نے 1912 میں قائم کیا اور 1919 میں حکومت بہار کی تحویل میں دیا ، چونکہ وہ اعلی تعلیم کے حامل تھے اور کئی ضلع میں جج کے عہدہ پر فائز رہ چکے تھے ،انہوں نے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی حفاظت کے لئے کئی اقدامات کئے ،کچھ شرائط کی منظوری کے بعد اس مدرسہ کو حکومت کی تحویل میں دیا ، شرائط میں سے چند یہ ہیں
(1) یہ مدرسہ وقف ڈیڈ کے تحت چلے گا
(2) اس میں ایک گورننگ باڈی ھوگی ،جس کے چیئرمین پٹنہ ڈویژن کے کمشنر ھوں گے ،اس کی نگرانی کی پوری ذمہ داری گورننگ باڈی پر ھوگی
(4) اس کا نصاب تعلیم مدرسہ کا ھوگا ، مگر حکومت ضرورت کے مطابق اس کو مفید بنانے کی کوشش کرتی رھے گی ،
چونکہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ایک منفرد ادارہ تھا ، حکومت کی تحویل میں 1919 میں کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا ، صرف مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ تھا ، اس لئے مذکورہ شرائط کی روشنی میں مدرسہ چلتا رہا ،اس میں حکومت کی منظوری کے بعد اساتذہ و اسٹاف کی تقرری گورننگ باڈی کے ذریعہ ھوتی رہی ،
آزادی کے بعد جب حکومت کی تشکیل ھوئی ، اور محکمہ تعلیم بنا ،تو تعلیمی اداروں کی کٹیگری بنائی گئی ، پرائمری کا محکمہ ،سکنڈری کا محکمہ ،اعلی تعلیم کا محکمہ ، چونکہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ اپنے طور پر الگ انداز کا ادارہ تھا ،جو مذکورہ محکمہ سے الگ تھا ، اس لئے حکومت بہار نے اس کو وششٹ سودھ سنستھان کا نام دے کر محکمہ سکنڈری میں شامل کردیا ،یعنی یہ اسکول نہیں ھے ،اسکول سے یہ الگ ادارہ ھے ،اس لئے اس کا الگ کیڈر بنادیا ،اور محکمہ سکنڈری ایجوکیشن میں رکھ دیا ،وششٹ سودھ سنستھان ھونے کی وجہ سے اس کے لئے قوانین الگ بنائے گئے کہ جس انداز پر یہ ادارہ چل رہا ھے ،اسی پر چلتا رھے گا ،یہی وجہ ھے کہ سرکاری اسکول ،یہانتک کہ ضلع اسکول کسی میں گورننگ باڈی نہیں ھے ،مگر اس مدرسہ میں آج بھی گورننگ باڈی ھے ،چونکہ وقف ڈیڈ میں یہی ھے، وششٹ سودھ سنستھان میں ادارہ تحقیقات عربی و فارسی ،جیسوال انسٹیچیوٹ شامل ہیں ،اس کی تفصیل محکمہ تعلیم میں موجود ھے ،وششٹ سودھ سنستھان ھونے کی وجہ سے آزادی سے پہلے سے تقرری کا سلسلہ جاری تھا ،ازادی کے بعد بھی وہی سلسلہ جاری رہا ، خالی جگہوں کی تفصیلات گورننگ باڈی سے منظوری کے پرنسپل مدرسہ کے ذریعہ محکمہ تعلیم کو فراہم کرائی جاتی اورمحکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے ذریعہ گورننگ باڈی کو ویکنسی نکال کر پینل بنانے کی اجازت دی جاتی ،پھر گورننگ باڈی مدرسہ کے ریکارڈ کے مطابق اعلان نکال کر انٹرویو کے بعد پینل بناکر اور گورننگ باڈی سے منظور کر کے اس کی منظوری اور تقرری لیٹر جاری کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کو بھیجا جاتا اور وہاں سے تقرری لیٹر جاری ھوتا ،مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد آخری تقرری تک یہی رہا ،صرف سینیر سیکشن میں کلاس 1, اور کلاس 2 کا گزیٹیڈ پوسٹ ھونے کی وجہ سے تقرری کی کاروائی بی پی ایس سی سے ھوئی ،ورنہ گزیٹید ھونے سے پہلے سینیر سیکشن میں بھی تقرری کی کاروائی گورننگ باڈی کے ذریعہ ھوئی ،البتہ تقرری لیٹر محکمہ تعلیم سے جاری ھوا ،اس طرح مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے اساتذہ و اسٹاف کی تقرری میں کوئی پیچیدگی نہیں ھے ،یہ صرف معلومات کے لئے جاری کیا گیا ھے ،ورنہ معلومات کے لئے مدرسہ اور محکمہ تعلیم کا ریکارڈ کافی ھے ،اللہ کرے کہ مذکورہ تفصیل ادارہ میں تقرری کے لئے راستہ ھموار کر سکے

ابوالکلام قاسمی شمسی

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے