جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتمدرسوں نے اردو زبان کو زندہ رکھنے میں جو کردار پیش کیاہے،...

مدرسوں نے اردو زبان کو زندہ رکھنے میں جو کردار پیش کیاہے، وہ لائق ستائش ہے:محمدحارث

اردواکادمی،پٹنہ میں ،فروغ اردواورہماری ذمہ داریاں کے عنوان پر سیمینارکاانعقاد
(پریس ریلیز)علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ،آل انڈیاطبی کانگریس ،بہارکے زیراہتمام،اردو اکادمی پٹنہ میں ، فروغ اردواورہماری ذمہ داریاں کے عنوان پرمنعقد سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کے مہتمم جناب مولانامحمدحارث بن مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے کہا:ہماری علمی وراثت اس ملک میں بڑی حد تک اردو میں محفوظ ہے اور ملک کی آزادی میں بھی اردو زبان کا ناقابل فراموش کردار رہاہے،اس لئے ضروری ہے کہ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیں۔اور اس کے فروغ کے عملی کردار پیش کریں،انہوں نے آل انڈیاطبی کانگریس ،بہارکے صدرجناب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب فلاحی کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا:بڑی خوشی ومسرت کی بات ہے کہ آج اردو ادب کی فروغ و تحفظ کی غرض سے ہم اور آپ سر جوڑ کر اکٹھے ہوئے ہیں،اللہ ہم سب کے جمع ہونے کو قبول فرمائے ۔آمین۔اور جنہوں نے یہ محفل آراستہ کیاہے،انہیں اجرعظیم سے نوازے،آمین،اپنے جاری خطاب میں انہوں یہ بھی کہا:کہ ہر سال 9 نومبر کو، شاعرمشرق علامہ محمد اقبال صاحب ؒکی یوم پیدائش کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،بھارت میں علامہ اقبالؒ کو شاعر مشرق، ادیب، مفکر، فلسفی اور مسلمانوں کو جگانے والی شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے،آج 9 نومبرکا دن ہے آج ہی کے دن علامہ محمد اقبال رحمۃاللہ علیہ پیدا ہوئے ،ان کا وہ نظم جو بچوں کے لیے انہوں نے لکھا تھا:۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
آج بھی جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ اور اس طرح کے دیگر مدرسوںمیں صبح کے وقت، کلاس کے شروع ہونے سے پہلے گایا اور پڑھا جاتاہے۔جامعہ مدنیہ کے مہتمم نے اس بات کا بھی اعادہ کیاکہ اردو بہت ہی شیریں اور خوبصورت زبان ہے، اس سے بھی بڑی خوبصورت بات یہ ہے کہ اردو کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی، جب کہ اس کے علاوہ دوسری زبانیںدوسری جگہوں سے یہاں آئیں، ہندی زبان کو آریا لے کر آئے، فارسی مغلوں کے ساتھ آئی، عربی عربوں سے، لیکن اردو نے یہیں جنم لیا، یہیں پلی اور بڑھی۔انہوں نے کہا: اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے اکثر حصے میں، آزاد اور دینی مدرسوں میں اردو زبان ہی ان کا ذریعہ تعلیم ہے، حالات جیسے بھی ہوں مگر ان مدرسوں نے اردو زبان کو زندہ رکھنے میں جو کردار پیش کیاہے، وہ لائق ستائش ہے، اور ہم سب کے لئے قابل تقلید بھی۔انہوں نے لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ صرف بولنے سے نہیں ہوگا،بلکہ اردوکے لئے ہم سب کو سنجدہ ہوناہوگا۔اس شعرسے اپنی بات کو ختم کیاکہ:-
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے