بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہومنقطہ نظرمدارس کی حفاظت کاواحد راستہ

مدارس کی حفاظت کاواحد راستہ

مدارس کی حفاظت کاواحد راستہ

میرے عزیزو!
آج ہمارے دینی مدارس کے لیے ایک ہی راستہ ہے،اور وہ یہ کہ وہ زندگی کا استحقاق ثابت کریں، وہ یہ ثابت کریں کہ اگر وہ نہ رہے تو زندگی بے معنی ہوجائے گی، اور کم سے کم اس میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگا،جس کو اور کوئی پر نہیں کرسکتا، باقی رحم کی درخواست نہ کبھی دنیا میں سنی گئی ہے، نہ کبھی سنی جاسکتی ہے، اور یہ زمانہ تو جمہوریت کا ہے،اس میں تو اب بالکل اس کی گنجائش نہیں رہی کہ ہم یہ کہیں کہ بھائی ہمیں فلاں حکومت نے باقی رکھا،فلاں حکومت نے باقی رکھا، ہم فلاں دور میں باقی رہے،فلاں دور میں باقی رہے،آپ بھی ہمیں باقی رکھئیے، یا آپ یہ کہیں کہ ہم نے آزادی میں اتنا حصہ لیا تھا،ہمارا استحقاق ہے،اس کو اب دنیا ماننے کے لیے تیار نہیں ہے” (پاجاسراغ زندگی)
آج سے پچاس سال قبل حضرت علی میاں رحمۃ نے یہ باتیں دارالحدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیرکی اپنی تقریر میں پیش کی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج ہی حضرت اہل مدارس سے مخاطب ہیں اورموجودہ حالات کی روشنی میں نصیحت فر مارہے ہیں،
اس تقریر کے ایک ایک جملہ میں کتنی صداقت اورسچائی ہے؟آج ہمارے سامنے کھل کر آگئی ہے۔اس وقت خاص نظریہ کی ملک میں بالا دستی ہوگئی ہے،ہم نے اتنے مدرسے بند کرادئے یہ بات بڑے فخر کے ساتھ کہی جارہی ہے، مدارس پر بلڈوزر چلے یہ خبر اخبارات کی زینت بن رہی ہے، ہر چہار جانب سے مدارس کو بند کرنے اور کرانے کی بات ہورہی ہے، ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں مدارس کو بند کرنے کے لیے باضابطہ روٹ پلان طےکرلیا گیا ہے،اوراس سمت میں کام بھی شروع ہوگیا ہے،
یوپی حکومت نےان تمام مدارس کےسروےکا فیصلہ صادر کیا ہےجو سرکار سے مالی تعاون نہیں لیتے ہیں،آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟ ایسےسوالات پوچھے جارہے ہیں جس سے صرف حکومت کی نیت پر سوال کھڑا نہیں ہوتا ہے بلکہ صاف طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کی منظم کوشش ہے۔ملک کی ریاست آسام میں تین مدارس بلڈوزرسے منہدم کر دیے گئے ہیں،یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہورہا ہے،ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم اہل مدارس خاموش بیٹھے ہیں،ہم آئین کا حوالہ دیتے ہیں کہ اپنی پسند کے ادارے قائم کرنا مدارس قائم کرنا یہ ہمارا آئینی حق ہے، اس سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا ہے، مگر ہماری آواز صدا بصحرا ثابت ہورہی ہے،
ابھی گزشتہ کل کی بات ہے، دہلی میں” اجلاس تحفظ مدارس” کے عنوان پر باضابطہ پروگرام منعقد کیا گیا،اسمیں پوری ریاست سے مدارس کےمہتمم صاحبان شریک ہوئے ہیں، حکومت سے گفت وشنید کی تجویز لی گئی ہے، مدارس کے ڈیڑھ سو سالہ کارناموں کا حوالہ دیکر اپنا مستقل وجود ثابت کیا گیا ہے، جنگ آزادی میں اہل مدارس کی قربانیاں گناکر اپنااستحقاق پیش کیاگیاہےاور رحم کی درخواست بھی کی گئی ہے، مگربقول حضرت علی میاں رحمۃ اللہ یہ حکومت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، ساری گزارشات بے کاراور ساری کوششیں بے سود ہورہی ہیں،سابقہ مشاہدہ یہی کہتا ہے، کوئی گزارش قبول ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ بقول شاعر۰۰ کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
اور۰۰۰ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” کا مصداق بن گیا ہے ۔ایک سوال پھر آج یہ قائم ہوتا ہے کہ آخر اس مسئلہ کاحل کیا ہے؟
حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے ملک ہند کے گہرے مطالعہ کے بعد یہاں مدارس کے وجود اور اس کی بقا کاواحد حل بتلایا ہے،یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج بھی اگر مولانا کی کہی ہوئی بات پر اہل مدارس متحد ہوجاتے ہیں ،اور عمل میں اسے لے آتے ہیں، تو یہی اس مسئلہ کا دائمی حل نظر آتا ہے، اوربعید نہیں کہ پورے ملک کی ہدایت کا راز بھی اسی میں چھپا ہوا ہے،۔
قرآن کریم کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے مولانا نے یہ کہا ہے کہ دریاؤں میں جوجھاگ اور پانی کا پھین ہوتا ہے وہ اڑجایا کرتا ہے، اورپانی جسمیں لوگوں کو نفع پہونچانے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔یہ قرآنی نظام ہے جو فائدہ پہونچانے والی چیزیں ہوتی ہیں انہیں باقی رہنے کا حق ہوتا ہے اور وہ باقی رہتی ہیں، دنیا بھی اسی اصول کوتسلیم کرتی ہے۔آج اہل مدارس کو ماہرین پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا کہتے ہیں:” آپ کسی علم میں کسی فن میں اختصاص پیدا کرلیں،امتیاز پیدا کرلیں،دنیا آپ کا لوہا مانے گی،اور معاشی مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، اور مدارس کا جو مسئلہ اس وقت ہمارے یہاں درپیش ہے، یہ سب ختم ہوجائے گا”(حوالہ سابق)
مولانا اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج زمانہ انگریزی کا ہے،عربی زبان میں مہارت پیدا کرنے سے یہاں کیا ہوجائے گا، ملاحظہ کیجئے؛ آپ کہتے ہیں کہ طب یونانی کو زوال اس لیے ہے کہ ڈاکٹری آگئی ہے، ہومیو پیتھک آگئی ہے،اور جدید میڈیسن آگئی ہے، میں بالکل نہیں مانتا،طب یونانی کو اس لیے زوال ہوا کہ اب اس طرح کے طبیب نہیں پیدا ہوتے،۰۰۰۰اگر آج وہ پیدا ہوجائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے پاس ڈاکٹر جائیں، اس میں ذرا مبالغہ نہیں، آپ کے شہر کا سول سرجن جھک مار کر ان کے پاس جائے،(پاجاسراغ، ص:166)
دوسرا کام جس کی طرف حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے اہل مدارس کو متوجہ کیا ہے وہ دینی مکاتب کا قیام ہے،دراصل حضرت علی میاں رحمۃ اللہ کی نظر میں مکتب ہی مضبوط مدرسہ ہے جسے کوئی طاقت اکھیڑ نہیں سکتی ہے،
حضرت کی زبان میں سنئے:
تیزی کے ساتھ ہندوستان بدل رہا ہے، ہر چیز کو نیشنلائز کیا جارہا ہے،۔۔۔مسلم یونیورسٹی کی باری آگئی، کل مدارس کی باری آسکتی ہے، تو اس کے لیے مکاتب کا جال بچھا دیجئے، اور مساجدکومسلمانوں کی زندگی کا مرکز بنایئے، سب سے آخر میں انقلاب کے قدم جہاں پہونچیں گے، وہ مسجدیں ہیں، اس لیے آپ ایسی جگہ اپنے مرکز بنایئے، جہاں دیر میں انقلاب پہونچے یاوہاں تک انقلاب پہونچتے پہونچتے قیامت آجائے، (حوالہ سابق )
مذکورہ دونوں باتیں اہل مدارس کے وجوداور بقا کےضامن ہیں، اس وقت اس پر منظم کوشش کی ضرورت ہے، ایک تیسری چیز جوحضرت علی میاں رحمۃ اللہ نے پچاس سال قبل مذکورہ بالا خطاب کے بعد شروع کیا ہے، وہ تحریک پیام انسانیت ہے،
آپ کی یہ تقریر ۱۹۷۳ء میں ہوئی ہے، اور سال کے اختتام پر ۱۹۷۴ء میں آپ نے الہ آباد کے پہلے اجلاس سے تحریک پیام انسانیت کا آغاز فرمایا ہے، اور اس تحریک کو ملک کی تمام دینی وملی تحریکوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے،مولانا نے صاف صاف یہ کہا ہے کہ پیام انسانیت تحریک کے ذریعہ ہی اس ملک کی دھرتی کو ہموار کرسکتے ہیں، اور پھر اس پر ہمارا کوئی دینی وملی اور ادبی پروگرام منعقد ہوسکتا ہے،آج اہل مدارس کو اس کام کو اپنے وجود کی بقا کے لیے بھی کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۷/ستمبر ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے