جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتمدارس میں میں غیر ضروری مضامین کی بجائے جدید علوم و مضامین...

مدارس میں میں غیر ضروری مضامین کی بجائے جدید علوم و مضامین شامل نصاب کئے جائیں: مولانا نجیب الحسن صدیقی ندوی  

مدارس میں غیر ضروری مضامین کی بجائے جدید علوم و مضامین شامل نصاب کئے جائیں: مولانا نجیب الحسن صدیقی ندوی

پریس رلیز، ۲۲ دسمبر ۲۰۲۱ (ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل-عالمی تعلیمی کانفرنس)

آل انڈیا مدارس سٹوڈنٹ فورم (AIMSF) اور انجمن علمائے اسلام کے اشتراک سے دس روزہ آن لائن عالمی تعلیمی کانفرنس کے دوسرے پروگرام کا انعقاد ہوا۔ پروگرام کی ابتدا جناب شمس تبریز ندوی علیگ کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کے بعد ناطم کانفرنس مولانا اسامہ طیب ندوی نے آل انڈیا مدارس سٹوڈنٹ فورم و انجمن علماء اسلام کا تعارف کراتے ہوئے اس کے اہداف پر روشنی ڈالی۔

پروگرام کے سلسلہ گفتگو کی ابتدا جناب ڈاکٹر محی الدین غازی نے کی جس میں مدارس کے فکری انحطاط کا بنیادی سبب یہ بتلایا گیا کہ رائج الوقت نظام تعلیم میں زیادہ زور انفرادی فکر و مسائل پر صرف کیا جاتا ہے جس میں اب ضروری ہے کہ اجتماعی مسائل اور فکر سے دلچسپی پیدا کی جائے، اور اسلامی نظام کے تعارف کے لئے ضروری ہے کہ مدارس کے نصاب میں نظریاتی کتب داخل کی جائیں، تب جاکے ہم امید کرسکیں گے کہ ہمارے طلبہ اجتماعی زندگی میں اسلامی نظام کے تعلق سے بات کرنے کے اہل ہوسکیں گےـ سامعین کو خطاب کرتے ہوئے جناب شمس تبریز قاسمی نے مدارس اسلامیہ کے مفید اور مثبت زاویوں پر توجہ دلاتے ہوئے مدارس کے قیام کے مقاصد پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔

ان کے علاوہ جناب فخر الدین علی صاحب نے غیر سرکاری مدارس کے نظام کو سراہتے ہوئے مزید اصلاحات کے مشورے دئے جن میں Alternative pedagogy یعنی متبادل طریقہ تعلیم پر زور دیا اور بہار کے سرکاری مدارس کو بطور نمونہ پیش فرمایا۔ مزید مفتی رئیس احمد خان قاسمی نے موجودہ دور میں مسلکی اختلافات کے ساتھ اتحاد امت کے طریقہ کار پر گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ ملت کے ذمہ دار حضرات اور قائدین کے لئے لازمی ہے کہ باہمی اتحاد کے کوشش کریں اور بڑے نصب العین کے لئے مختلف مکاتب فکر کی توجہات مبذول کرائی جائیں۔ مولانا نجیب الحسن صدیقی ندوی نے اظہار خیالات فرماتے ہوئے مدارس کی افادیت کو بیان کیا اور ساتھ ہی اس پہلو پر زور دیا کہ اب مدارس میں قدیم یونانی دیگر غیر ضروری مضامین کی بجائے جدید علوم و مضامین شامل نصاب کئے جائیں، انہوں نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدارس میں کم از کم ہائی اسکول تک NCERT کا نصاب داخل کیا جائے، مدرسے میں پڑھنے والے ہر طالب علم کے لئے دسویں پاس کرنا لازم کیا جائے، مدارس میں لسانیات کا ایک شعبہ ضرور قائم کیا جائے، یہ دور کمپیوٹر کی زبان کا دور ہے لہذا کمپیوٹر کی تعلیم ضروری قرار دی جائے، مدارس کا ایک وفاق بنایا جائے جو وقتا فوقتا نصاب تعلیم کا جائزہ لےـ جناب ابو اسامہ اصلاحی نے اپنے محاضرے کے نکات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ دور میں علما پر لازم ہے کہ موجودہ مسلم ذہن کو سمجھیں اور اس کے مطابق دین کی تفہیم کا کام کریں، مزید یہ بھی ضروری ہے کہ دینی تعلیم اور عصری تعلیم کو آپس میں مخلوط کرنے کے بجائے دونوں کے درمیان نقطہ اتصال قائم کرنے پر غور و فکر اور عمل کیا جائے۔ اخیر میں کاشف حسن ندوی نے فرمایا کہ مدارس ہی وہ جگہیں ہیں جہاں سے انسانیت کے لیے ہم تبدیلی لاسکتے ہیں. لیکن ہمیں اس کے لیے نصاب تعلیم ونظام تعلیم کو تقلید کے اندھے چوراہوں سے نکالنا ہوگا. مزید انہوں کہا کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن

 ایجوکیشن تمام شہریوں کا بنیادی حق ہے.

جب بنیادی تعلیم مین اسٹریم ایجوکیشن ہمارے اوپر ڈالی گئی تھی تو ہم نے کہا تھا کہ آرٹیکل 19 کے تحت ہم کو آزادی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو جو چاہیں نصاب پڑھائیں لیکن مطالعہ میں یہ بات سامنے آئی کہ ہم خود اس قانون کو وایلیٹ کر رہے ہیں، یہ بات اپنی جگہ ہے لیکن جو لوگ اس موضوع پر مطالعہ کرانے والے ہیں ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے وہ مسلمانوں پر حملے کی تاک میں ہیں. لیکن ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ مدارس پر آنے والے دنوں میں اسکا کیا ایمپکیٹ پڑنے والا ہے.

 ۔چنانچہ مطالعہ کہتا ہے . جب ان کو حق ملا تھا تو انھوں اس کا استعمال درست طریقے پر نہیں کیا سو ان کو یہ حق کیوں حاصل ہو ہم بھارت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اسلیے مائینورٹی کو مین اسٹریم سے جوڑنا ضروری ہے لہذا ہم اس کو واپس لیتے ہیں.۔

_کل ہند طلبہ مدارس فورم و انجمن علماء اسلام

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے