مختصر سیرتِ ابن ہشام ____مطالعاتی میز پر

169

{موجِ خیال}
جی ہاں! تاریخ و سوانح نویسی کا فن بہت ہی قدیم ہے. تاریخ عرب کا جائزہ لینے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس خاکدان گیتی پر جلوہ افروز ہونے سے قبل ریگستان عرب کے نشیب و فراز کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ریگستان عرب میں اُس وقت اگرچہ دور حاضر کی طرح قرطاس و قلم اور لکھنے لکھانے کا دور دورہ نہیں تھا، پر ہاں! اہل عرب زبردست قوت حافظہ کے مالک ہوا کرتے تھے. وہ لوگ اپنی ذہانت و فطانت کے بل بوتے جس چالاکی سے اپنے خانوادوں کے ساتھ ساتھ جانوروں تک کے انساب محفوظ کر لیا کرتے تھے، وہ اپنے آپ میں ایک سنہری مثال ہے.
یہ بات تو بالکل مسلم ہے کہ زمانہ، ہمیشہ ایک طرح نہیں رہتا ہے. ہر آن حالات بدلتے رہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ زمانہ انقلاب کے دامن میں جوں جوں ترقی کرتا گیا ویسے ہی تذکرہ نویسی کا رنگ و آہنگ بھی تبدیل ہوتا چلا گیا. دورِ رسالت کی سنہری صبح و شام نے جب بھٹکے ہوئے آہوں کو صراط مستقیم کا پتہ دے کر علم و ہنر کی شاہراہوں سے جوڑ دیا تو یکا یک ہر طرف علم و ادب کا نور بٹنے لگا. نصیبے کی ارجمندیوں نے نہ جانے کتنے فیروز بختوں کو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کا شرفِ جمیل بخشا. اب کیا تھا… اب تک تو جہالت نے اپنے بال و پر بھی سمیٹنا شروع کر دیا تھا. لکھنے لکھانے کا عمل جو بہت پہلے سے جاری تھا، اب اس نے بالکل جوانی اختیار کر لی تھی اور انگنت افراد نے علم و ادب کی زلفِ برہم سنوارنے کے ساتھ تذکرہ نویسی کے خاطر بجا طور پہ اسے اپنانا بھی شروع کر دیا تھا۔
کثیر اہل علم و بصیرت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ سے جڑی یادوں کو اپنی اپنی معلومات کی حد تک یکجا کی ہے. صحابہ کرام کی مقدس جماعتوں نے بھی اس فن میں خوب خوب دلچسپیاں دکھائی ہیں. قرونِ اولی کے مسلمانوں کے بعد سے ہی مختلف ادوار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والوں نے آپ کے اسوہ حسنہ کو زمان و مکان کے اعتبار سے مختلف گوشوں کے تناظر میں بیان کیا ہے اور یہ مبارک سلسلہ آج تک چلتا آ رہا ہے. اس ضمن میں جس کتاب کو اولیت کا شرف حاصل ہے، وہ آٹھویں صدی ہجری میں محمد ابن اسحاق تابعی کی تصنیف کردہ معرکۃ الآراء کتاب بنام “سیرتِ ابن اسحاق” ہے. سیرت و تاریخ کے باب میں اسے بڑی اہمیت حاصل ہے. ابن جریر طبری اور علامہ ابن خلدون جیسے باکمال تاریخ نویسوں نے بھی ابن اسحاق سے بکثرت روایت کی ہے. حتی کہ” سیرتِ ابن ہشام” بھی اسی کی ترقی یافتہ شکل و صورت ہے. سیرتِ ابن اسحاق، چونکہ اولین کتبِ سیرت میں سے ہے. اس لیے اس میں بہت سی ایسی باتیں بھی مندرج ہو گئی ہیں جو ان کے (ابن ہشام) اپنے خیال میں براہ راست سیرت النبی سے متعلق نہیں تھیں. اس لیے ابن ہشام نے غیر ضروری اشعار اور حضرت آدم علیہ السلام سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک تک کے حالات وغیرہ نکالنے کے ساتھ ساتھ کتاب المغازی کی انتہائی جامعیت کے ساتھ کچھ صفحات میں تلخیص بھی کر دی ہے. یہی وہ کارنامہ ہے جس نے سیرتِ ابن ہشام کو اہل علم کے درمیان سیرتِ ابن اسحاق سے کہیں زیادہ جامعیت و معنویت فراہم کیا اور دیکھتے ہی لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا. جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل کتاب فراموش ہو کر رہ گئی. یہی وجہ ہے کہ سیرتِ ابن ہشام کی ایک سے ایک اہل کمال نے شرحیں بھی کی ہیں.
اوہ، گھبرائیں نہیں!!! آئندہ سطور میں ہم جس کتاب کے ذکرِ جمیل سے آپ کے مطالعاتی میز کو سجانے جا رہے ہیں وہ مفتی انور نظامی مصباحی صاحب (ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ) کی کتاب “مختصر سیرتِ ابن ہشام” ہے. در اصل یہ کتاب “تہذیب سیرتِ ابن ہشام” کا اردو ترجمہ ہے،جسے ایک مصری عالم دین علامہ عبد السلام ہارون نے ترتیب دیا ہے. ہاں! یہ کتاب بھی “سیرتِ ابن ہشام” کی عربی تلخیص ہے. جس پر قارئین کی آسانی کے لیے عبد السلام ہارون نے اپنی محنت کے توسط اہمیت و افادیت کا غازہ مل دیا ہے. “تہذیب سیرتِ ابن ہشام “کے وجود میں آنے کی قوی وجہ “سیرتِ ابن ہشام” میں ذہن کو مضمحل کر دینے والی پیچیدگیاں ہیں. جیسا کہ اس حقیقت کا اندازہ مولف موصوف (عبد السلام ہارون) کے اس اقتباس سے بخوبی لگا سکتے ہیں. لکھتے ہیں :
“ایامِ نوجوانوی میں میں نے بارہا اس جلیل الشان کتاب کا اول تا آخر مطالعہ کرنے کا ارداہ کیا، مگر اس تالیف میں ذہن کو تھکا دینے والی بےترتیبی اور دل کو اکتا دینے والے حشو و زوائد میرے مقصد میں آڑے آتے رہے. یہاں وہاں سے کچھ ایسے حصے پڑھ کر اکتفا کرنا پڑا، جو بے آب و گیاہ صحرا میں سر سبز و شاداب چمن کی مانند معلوم ہوئے “۔ [سیرت النبی، ص: ٤٣]
سیرتِ ابن ہشام کی اس تلخیص کے باوجود ابھی بھی اردو داں طبقہ کے لیے یہ کتاب زیادہ مفید نہیں تھی. بر صغیر ہندو پاک میں چونکہ اردو بولنے پڑھنے والوں کی تعداد تقریباً ٩٠٪ ہے. اس لیے بڑی شدت کے ساتھ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کسی طرح اس تلخیص (تہذیب سیرت ابن ہشام) کو کوئی صلاحیت مند انسان اردو قالب میں ڈھال دے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و صورت پاک سے جڑی ہر ہر ادا چونکہ “کان خلقہ القرآن” کی سچی پکی ترجمان ہیں. اس لیے اس جہت سے بھی معاشرے میں در آئی بگاڑ اور سنت نبوی سے انحراف کی باد سموم پر کاری ضرب کے لیے اس کی حاجت سمجھ میں آ رہی تھی.
بھلا ہو استاذ محترم، خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ کا کہ جب آپ کی نظر سے” تہذیب سیرت ابن ہشام” گزری تو آپ نے متذکرہ بالا ضرورت کو بھانپ لیا اور اسے اردو جامہ پہنانے کے لیے اگست ١٩٨٩ء میں اپنے ایک لائق فائق شاگرد رشید، علامہ مفتی محمد انور نظامی مصباحی کو، جن کی دستارِ فضیلت اسی سال ٣٠،دسمبر کو عرس عزیزی کے پربہار موقع پر ہونی تھی، منتخب فرما لیا. جی ہاں! کسی استاذ کا اپنے کسی شاگرد کو اس طرح کے گراں قدر کام کے لیے منتخب فرما لینا، اس حقیقت کی بخوبی غمازی کرتی ہے کہ مفتی موصوف طالبِ علمی ہی کے دور سے اپنے ہم درسوں کے مابین امتیازی مقام رکھتے تھے. اچھی صلاحیت و لیاقت کے مالک تھے، جس پہ استاذ محترم کو کامل بھروسہ بھی تھا. اب کیا تھا ___مفتی موصوف صاحب قبلہ نے استاذ محترم کے رہنما خطوط کے سانچے میں اللہ و رسول کا نام لے کر قرطاس و قلم سنبھالا اور اس عظیم کام کے لیے میدان عمل میں اتر گیے.
جی ہاں! آپ کو یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ ترجمہ نگاری بولنے کی طرح بالکل آسان نہیں ہے،بلکہ اس کے لیے بھرپور لیاقت و صلاحیت کے ساتھ باریک بینی کی بھی سخت ضرورت پڑتی ہے تا کہ مترجم دونوں زبانوں کے نشیب و فراز سے بوقت حاجت پردہ اٹھا سکے. ترجمہ نگاری کے حوالے سے شارح بخاری، مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : ” یہ کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جس نے کبھی یہ کام کیا ہو. بعض حیثیتوں سے ترجمہ تصنیف سے زیادہ مشکل ہوتا ہے، تصنیف میں مصنف اپنے خیالات کو اپنے طرز پہ ڈھالتا جاتا ہے مگر کسی دوسرے کی کتاب میں مترجم اسی کے طرزِ بیان اور طرزِ نگارش کا پابند ہوتا ہے “۔[مقالاتِ شارح بخاری ]
زیر تبصرہ کتاب مفتی موصوف صاحب قبلہ کا وہ کارنامہ ہے جس نے کئ سالوں کی سعی جمیل کا دانہ پانی کھایا ہے. آج بہت سی کتابوں کا لوگ ترجمہ کرتے ہیں، جو رسالہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ضخیم کتابیں دیکھ کر جی چرانے لگ جاتے ہیں. محض یہ سوچ کر کہ اس میں کئی سالوں کی محنت درکار ہے. مگر آپ کو حیرت ہوگی کہ مفتی موصوف صاحب نے کتاب ہذا کو مکمل رنگ و آہنگ سے سدا بہار بنانے میں دو سال تک کا وقتِ وافر عطا کرنے کے ساتھ جب ١٤٢٨ھ میں ڈیڑھ عشرہ کی مدت مدید گزر جانے کے بعد اس کی اشاعت کا ارداہ ہوا تو آپ نے نظرِ ثانی کر کے سولہ سال کے طویل فاصلے کو ترجمے میں کم کر کے عرق ریزی و صبر و تحمل کا حسین سنگم پیش فرمایا ہے. آغازِ سخن کے نام سے مفتی موصوف صاحب نے جو باتیں تحریر کی ہیں، اس سے اندازہ لگتا ہے کہ ترجمہ نگاری کے بابت عربی نسخہ (تہذیب سیرتِ ابن ہشام) ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور جس وقت بھی آپ کو فرصت میسر آیا اسے جستہ جستہ اردو کا جامہ پہناتے رہے. کتاب ہذا کے صفحہ ٦،پر آپ اپنی داستانِ ترجمہ نگاری کچھ یوں رقم فرماتے ہیں :” حضرت مصباحی صاحب قبلہ کی رہنمائی ہوتی رہی. کام ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا تھا کہ شعبان میں تعطیل کا وقت آ گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیمی سلسلہ منقطع کرکے گھر آنا پڑا. تدریس کے سلسلے میں” الجامعۃ الرضویہ “پٹنہ میں تقریباً چار ماہ گزارے پھر عرس رضوی کے موقع سے”دارالعلوم گلشن بغداد” ہزاری باغ آ گیا. اس دوران ترجمہ کا کام بھی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ گھر، پٹنہ اور پھر ہزاری باغ منتقل ہوتا رہا، آخر کار ہزاری باغ میں ١٨،ذوالحجہ ١٤١١ھ /بروز جمعۃ المبارکہ یہ کام مکمل ہو گیا.
ہاں! زیرِ تبصرہ کتاب کی اہمیت اس جہت سے بھی دوبالا ہو جاتی ہے کہ اس میں جغرافیائی مقامات کی تفصیل پر مشتمل علامہ عاتق بن غیث البلادی کی کتاب ” المعالم الجغرافیہ فی السیرۃ النبویۃ” کے ترجمہ (مترجم : مولانا افتخار احمد قادری و مولانا اسرار الحق بھاگلپوری) کے مطابق، جو ابجد کی ترتیب پر تھا، سیرت میں آنے والے مقامات کے ساتھ حاشیہ میں مندرج ہے اور آخر کتاب میں قارئین کی آسانی کے لیے اس کی ایک فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے بھی شامل اشاعت کر دی گئی ہے. پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب ترجمہ نہیں ہے بلکہ “تہذیب سیرتِ ابن ہشام” کی اس میں تو ترجمانی کی گئی ہے. ترجمہ اس طرح آسان لب و لہجہ میں مرقوم ہے کہ اول تا آخر سلاست و روانی کا گہرا رنگ قائم ہے. ساتھ ہی اردو قواعد و ضوابط اور رائج علاماتِ وقف پر بھرپور توجہ دی گئی ہے. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ترجمہ کے حوالے سے وہ دستور اساسی آپ کی خدمت میں پیش کر دی جائے جس پہ ترجمہ نگاری کی محل تعمیر کی گئی ہے :
[١] ترجمہ بامحاورہ اور سلیس ہو اور قاری کو اس کا احساس کم ہو کہ ترجمہ کا مطالعہ کر رہا ہے.
[٢] احادیث مبارکہ کی اصل عربی عبارت بھی ترجمے کے ساتھ نقل کر دی گئی ہے تا کہ اصل الفاظِ رسول سے استفادہ ہو سکے.
[٣] واقعات کے لحاظ سے کتاب کو ابواب میں منقسم کر دیا گیا ہے تا کہ جدید طرزِ تحریر کا لطف بھی ملے.
[٤] قرآنی آیات کا ترجمہ عالمی شہرت یافتہ معتبر ترجمہ “کنزل الایمان” سے نقل کیا گیا ہے، تاکہ ترجمے میں کہیں کوئی سقم نہ آنے پائے.
[٥] جغرافیہ سے متعلق تفصیلات کو حاشیہ میں اس جگہ رقم کیا گیا ہے جہاں وہ مقام پہلی بار آیا ہے، بعد میں حاشیہ میں اس کا اعادہ نہیں کیا گیا ہے. جغرافیہ کی ایک فہرست آخر میں دے دی گئی ہے تا کہ وقتِ ضرورت اسے دیکھا اور سمجھا جا سکے.
[٦] کہیں کہیں حاشیے میں واقعات سیرت یا دیگر امور کی مختصر وضاحت کر دی گئی ہے، جو وضاحت راقم نے کی ہے، وہاں اس کی نشان دہی بھی کر دی گئی ہے.

کتاب ہذا میں استاذ محترم مولانا عرفان عالم مصباحی (استاذ :جامعہ اشرفیہ مبارک پور) کا ایک گراں قدر مقدمہ بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے، جو تقریباً ١٣،صفحات پر مشتمل ہے. اس کے علاوہ محدث جلیل حضرت علامہ عبدالشکورمصباحی صاحب قبلہ کی طرف سے “کلمات تبریک” اور خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ کی طرف سے “کلمات تکریم” سے موسوم قدرے قیمتی اور مفید و ناصحانہ باتیں بھی مندرج ہیں. اگر مقدمہ کی بات کریں تو میرے اپنے خیال میں اسے “معلوماتی” کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے. تمہیدی کلمات کے بعد جس حسنِ جامعیت کے ساتھ سیرت نگاری کے چھ ادوار کا جائزہ لیا گیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے. پھر لگے ہاتھوں مترجم موصوف کی زندگی سے جڑی تمام مصروفیات کا ایک خاکہ بھی پیش فرما دیا ہے. مجھے [راقم الحروف ] اپنی اس ٢١، ٢٢ سالہ زندگی میں مترجم موصوف سے توکبھی شرف ملاقات حاصل نہیں. پر ہاں! کتاب ہذا کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت کی ذات گونا گوں کمالات و خصوصیات کی جامع ہے. ایک طرف اگر آپ ماہر مفتی ہیں تو وہیں دوسری طرف کہنہ مشق مدرس اور درجنوں کتابوں کے مصنف بھی. سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں. (اللہ کریم موصوف کو لمبی عمر کے ساتھ بہترین صلہ عطا فرمائے،آمین)
مجموعی طور پر زیرِ تبصرہ کتاب تقریباً ٥٩٠/صفحات پر مشتمل ہے. اس میں کئی ایک باب شامل ہیں. اس میں کچھ باتیں عبد السلام ہارون (مصری) کی طرف سے بھی بنام “تقدیم” شامل ہیں. اس میں انھوں نے چند سرخیاں، جیسے : تاریخ و سیرت، مولفین سیرت ،سیرت ابن اسحاق، سیرتِ ابن ہشام، سیرتِ ابن ہشام کا مقام اور تہذیب سیرتِ ابن ہشام کے تحت قیمتی باتیں مندرج ہیں. اصل کتاب ص: ٤٦،سے شروع ہوتی ہے اور ظہورِ قدسی کے نام سے “باب : ١” قائم کیا گیا ہے، جو ص:٩٤،تک محیط ہے. اس میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف، ربیعہ بن نضر کا خواب، اریاط و ابرہہ کی جنگ، یمن پر حبشیوں کا تسلط، حلیمہ سعدیہ کا واقعہ اور کعبہ کی تعمیر کے حوالے سے مکمل تفصیلات مندرج ہیں۔ اس کے بعد ہی “بعثت” کے نام سے دوسرا باب شروع ہوتا ہے اور یہ ص: ١٨٥، تک محیط ہے. اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی زندگی کی مکمل تفصیل ملتی ہے. آپ نے کس جہت سے اہل مکہ کے مابین دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا، مختلف بادشاہوں تک کیسے خطوط بھیجے اور اہل مکہ نے آپ اور آپ کے چاہنے والوں کے ساتھ کیسی بدسلوکیاں کی. ___پھر لگے ہاتھوں بغیر کسی فصل کے تیسرا باب بھی ہجرت کے نام سے شروع ہوا جاتا ہے، جو بمشکل ٣٥، ٣٦ / صفحات پر مشتمل ہے. اس باب میں آپ نے تقریباً دس سرخیاں قائم کی ہیں اور سب کے سب ہجرت سے ہی متعلق ہیں. جیسے : مہاجرین مدینہ کا تذکرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت اور مہاجرین و انصار میں عقدِ مواخاۃ وغیرہ ۔
چوتھا باب غزوات و سرایا کے بیان پر مشتمل ہے. چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بیان میں غزوات و سرایا کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ابتدائی دور میں بھی کتبِ سیرت کو عموماً مغازی و سیر کی کتابیں کہا جاتا تھا. اس باب میں آپ نے تقریباً ٣٥، ٣٦ غزوات و سرایا کا ذکرِ جمیل شاملِ اشاعت فرمایا ہے. میرے خیال سے اگر کوئی قاری ضرورت کے وقت کسی غزوہ کی تفصیل جاننا چاہے تو وہ اس طرف رجوع کرکے اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے سامان ضرور مہیا کر لے گا۔
پانچویں باب میں وفود کا تذکرہ شامل ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک جتنے وفود آئے، اس پر اچھی خاصی روشنی ڈالی گئی ہے. جیسے : وفد ثقیف، وفد عبد القیس میں جارود کی آمد، وفد کندہ کی آمد، صرد بن عبد اللہ ازدی کی آمد اور عمر بن معدیکرب کی آمد وغیرہ. یہ باب ص: ٤٦٧ سے ٥١٣، تک محیط ہے. پھر لگے ہاتھوں سفر آخرت کے نام سے چھٹا باب بھی سامنے آ جاتا ہے. اس باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی سے جڑی تمام یادیں ختم ہو جاتی ہیں، یعنی آپ ہمیشہ کے لیے مالک حقیقی سے جا ملتے ہیں. اس میں حجتہ الوداع کا ذکرِ جمیل بھی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن آدم کو زندگی گزارنے کے لیے بہترین دستور اساسی عنایت فرمایا تھا. ساتھ ہی اس میں آپ کے مرض کی ابتدا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر میں آپ کی عیادت اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت وغیرہ کا تذکرہ ملتا ہے۔
ایک منفرد بات جو میں نے دیکھی وہ یہ ہے کہ کتاب کے ٹائٹل پیج پر بڑی ایمانداری کے ساتھ صاحب سیرتِ ابن ہشام اور تہذیب سیرتِ ابن ہشام کے نام بھی درج کر دیے گیے ہیں. ساتھ ہی اوپری حصہ پر ایک گوشے میں گنبد خضرا اور کعبہ مقدسہ کی تصویر بھی لگا دی گئی ہے، تا کہ ایک عام قاری بھی ٹائٹل پیج دیکھ کر یہ سمجھ لے کہ : نہیں!!! یہ کتاب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سے متعلق ہے. کمپوزنگ کی ذمہ داری ماسٹر مہتاب پیامی اور آپ کے فرزند ارجمند غلام ربانی مصباحی نے انجام دی ہیں. پروف ریڈنگ کا حسن فریضہ حضرت مولانا عرفان عالم مصباحی اور محمد احمد جامی مصباحی صاحبان نے نبھایا ہے. نشر و اشاعت کا اہم بار “دائرۃ القلم” کٹگھرا، سودن ہزاری باغ (جھارکھنڈ) نے برداشت کیا ہے اور جنوری ٢٠١٩ء میں ہی ١١٠٠، سو کی کثیر تعداد میں بموقع عرس عزیزی کتاب شائع کرکے قارئین کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے خاطر بہترین سامان پیش کیا ہے. کتاب کے ابتدا ہی میں قارئین کی آسانی و سہولت کے مد نظر ص: ٢، پر کتاب حاصل کرنے کیے لیے تقریباً درجن بھر مکتبوں کے نام (جیسے : المجمع الاسلامی، ملت نگر، مبارک پور ،المجمع العلمی ہزاری باغ، حق اکیڈمی مبارک پور، رضوی کتاب گھر دہلی، فاروقیہ بک ڈپو دہلی، ادارہ شرعیہ رانچی جھارکھنڈ وغیرہ) مندرج ہیں، جب کہ فہرستِ کتب کتاب کے آخری حصہ میں موجود ہے۔
(تبصرہ نگار: جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ریسرچ اسکالر ہیں)